دہشت گردوں کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے تقاضے

دہشت گردوں کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے تقاضے

وزیراعظم محمد نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے کمیٹی قائم کر دی، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا اب بڑے شہروں میں آپریشن شروع کیا جائے گا۔دہشت گردوں کا صفایا نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان نہیں رہے گا،قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جو کمیٹی قائم کی گئی ہے اس میں چودھری نثار علی، پرویز رشید، خواجہ آصف، سرتاج عزیز، لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ اور احسن اقبال شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی فورس قائم کرنے کی بھی ہدایت کر دی، جس کا نیٹ ورک ملک بھر میں قائم کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا ضربِ عضب تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے، دہشت گردوں کے خاتمے کا ناقابل واپسی مرحلہ شروع ہو چکا ہے،دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ مہینوں نہیں، دِنوں میں ہو گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ نئی نسلوں کو محفوظ اور پُرامن پاکستان دے کر جائیں گے، قومی ایکشن پلان پر اتفاق رائے تاریخی اقدام ہے۔انہوں نے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے لئے اقدامات جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سلسلے میں آرمی چیف پہلے ہی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ اب وزیراعظم نے اپنی سربراہی میں جو عمل درآمد کمیٹی قائم کی ہے وہ بھی موثر انداز میں اور تیزی سے کام آگے بڑھائے گی۔دہشت گردوں کا صفایا کرنے کا کام اب چند علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ بڑے شہروں میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس بات کا امکان ہے کہ اپنی کمین گاہوں سے نکلنے کے بعد دہشت گردوں نے شہروں کا رُخ کر لیا ہو۔ اس سلسلے میں پہلے ہی خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا اب شہروں میں کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس سلسلے میں چند امور کا خیال رکھنا ہو گا۔

اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں یا خیبر ایجنسی میں جو کارروائی کی جا رہی ہے یہ زیادہ تر پہاڑی علاقے ہیں، جہاں دہشت گردوں نے اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں، شہروں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ شہروں میں آبادی گنجان ہوتی ہے، جن اہداف کو ٹارگٹ کرنا مقصود ہو گا وہ بھی شہری آبادیوں کے درمیان ہی واقع ہیں، اس لئے یہاں کارروائی کا طریقِ کار مختلف ہو گا، یہاں سیکیورٹی فورسز کو زیادہ ترریسرچ آپریشن پر انحصار کرنا ہو گا، جن علاقوں کے متعلق انٹیلی جنس معلومات حاصل ہوں گی وہاں تلاشی کا کام کرنا ہو گا اور جہاں کہیں دہشت گردوں نے پناہ لی ہو گی وہاں سے انہیں نکالنا ہو گا۔ اس کام میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہو گی، اس ضمن میں افراد معاشرہ کو بطور مجموعی اپنا مثبت کردار بھی ادا کرنا ہو گا۔ دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ’’سہولت کار‘‘ اگر نہ ملیں تو ان پر بہت جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی مثال دی جا سکتی ہے،جہاں ریاست ٹیکساس میں کھیلوں کے ایک ایونٹ کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ ایک دہشت گرد کسی نہ کسی طرح فرار ہو کر روپوش ہونے کی کوشش میں ایک کشتی میں جا چھپا جو ساحل پر کھڑی تھی، لیکن پولیس نے اسے تلاش کر ہی لیا۔ امریکہ جیسے وسیع و عریض مُلک میں ایک دہشت گرد کو چھپنے کی جگہ نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا اور اگر کوئی چھوٹی موٹی واردات ہوئی بھی تو دہشت گرد یا تو مارے گئے یا گرفتار ہو گئے ۔لوگوں نے خود دہشت گردوں کی نشاندہی کی ۔پاکستان میں بھی اگر لوگ مستعد اور چوکس رہیں اور اپنے گردو بیش پر نظر رکھیں تو کسی دہشت گرد کو چھپنے کے لئے جگہ نہیں ملے گی، ہر گلی اور محلے میں اجنبی افراد پر نظر رکھی جائے، تو وہ بہت جلد پہچانے جائیں گے ۔ کسی مشتبہ شخص کی اطلاع دینے کے لئے مخصوص ٹیلی فون نمبر مختص کر دیئے گئے ہیں بوقتِ ضرورت ان نمبروں پر اطلاع دی جا سکتی ہے۔

شمالی وزیرستان میں جو کارروائی ہو رہی ہے اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ اِن لوگوں نے مُلکی مفاد کی خاطر بڑی قربانی دی ہے۔ اس وقت شدید سردی کے موسم میں انہیں خیمہ بستیوں میں گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔میدانی شہری علاقوں میں اس طرح کی وسیع فوجی کارروائی تو شاید ممکن نہ ہو،کیونکہ گنجان آبادیاں اس میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، تاہم تلاش کے کام میں شہریوں کا تعاون اگر سیکیورٹی حکام کو میسر ہو گا، تو ان کا کام سہل ہو جائے گا اس کے لئے افراد معاشرہ کو اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا کرنی چاہئیں۔بعض حلقے دینی مدارس پر بغیر تحقیق کے جو الزام تراشی کرتے رہتے ہیں اور ان کے خلاف بلاتخصیص کارروائی کا مطالبہ بھی منظر عام پر آتا رہتا ہے ووہ بڑی حد تک محلِ نظر ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہہ چکے کہ90فیصد دینی مدارس کسی دہشت گردی میں ملوث نہیں، جو باقی10فیصد ہیں ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے گی اور اگر ان میں سے کوئی مدرسہ کسی قابلِ اعتراض سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ وزیر داخلہ کو اس سلسلے میں مدارس کی انتظامیہ اور وفاق المدارس سے مدد لینی چاہئے۔ اگر واقعی کسی مدرسے میں کوئی قابلِ اعتراض سرگرمی ہو رہی ہو تو اس کے خلاف ضروری کارروائی ہونی چاہئے تاہم محض مخالفین کی پھیلائی ہوئی افواہوں کی وجہ سے کسی بے گناہ کے خلاف کارروائی سے گریز ضروری ہے، جو مدارس حکومت سے مالی امداد حاصل کرتے ہیں یا زکوٰۃ فنڈ سے امداد لیتے ہیں،اُن کے مصارف کا بھی حساب لینا چاہئے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ دہشت گردوں کے مالی وسائل کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ اگرچہ بہت دقیق کام ہے تاہم اگر حکومت بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر کے ان اکاؤنٹس میں آنے والے پیسوں کا حساب لگائے گی تو ان کی مالی امداد کرنے والوں کا سراغ لگانا مشکل نہیں ہو گا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے اپنے ہاں ایسے انتظامات کئے ہیں کہ غیر معمولی طور پر بڑی رقوم نہ تو امریکہ سے باہر بھیجی جا سکتی ہیں نا باہر سے بھیجنا آسان ہے، جونہی کوئی بڑی رقم کسی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوتی ہے۔ متعلقہ حکام کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور فوری طور پر تسلی کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ یہ رقوم کہاں سے اور کس مقصد کے لئے آ رہی ہیں۔ پاکستان میں اس طرح کا انتظام کر لیا جائے تو دہشت گردوں کے مالی وسائل کا سراغ مل سکتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں کہ صنعتکاروں اور تاجروں سے کچھ تنظیمیں بھتہ طلب کرتی ہیں جو بالآخر دہشت گردوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی تحقیقات ضروری ہے۔امید کرنی چاہئے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے وزیراعظم نے اپنی سربراہی میں جو کمیٹی قائم کی ہے وہ اس پلان پر کماحقہ عمل درآمد کرائے گی اور یہ امید بھی رکھی جا سکتی ہے کہ اس کے جلد مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

مزید : اداریہ


loading...