مقبوضہ فلسطینی علاقے میں سب سے بڑی غیر قانونی یہودی بستی گرانے کا حکم

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں سب سے بڑی غیر قانونی یہودی بستی گرانے کا حکم

 مقبوضہ بیت المقدس(آن لائن) اسرائیلی سپریم کورٹ نے مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آبادکاروں کی تعمیر کردہ سب سے بڑی غیر قانونی بستی کو ہر صورت میں گرا نے کا حکم دے دیا ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدلت کی طرف سے یہ حکم گزشتہ روز سنایا گیا جس کی تفصیلات اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے شائع کیں۔ عدالت نے اسرائیلی حکام کو اس بستی کے انہدام کے لیے زیادہ سے زیادہ 2 سال تک مہلت دی ہے۔ یہودی آبادکاروں کی کسی سرکاری اجازت نامے کے بغیر تعمیر کی گئی اس بستی میں قریب 50 اسرائیلی خاندان رہتے ہیں۔ یہ بستی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کسی بھی جگہ پر قائم کی گئی سب سے بڑی غیر قانونی یہودی بستی ہے۔یہودی بستی گرانے کا فیصلہ اسرائیلی سپریم کورٹ کے صدر آشیر گرونس کی سربراہی میں3 ججوں پر مشتمل ایک پینل نے اتفاق رائے سے سنایا۔ عدالتی حکم کے مطابق مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں آمونہ نامی اس بستی کو2 سال کے اندر اندر کسی بھی طرح خالی کرا کے لازمی طور پر گرا دیا جانا چاہیے۔ آمونہ کے مستقبل کے بارے میں یہ قانونی جنگ 8 سال تک جاری رہی۔ سپریم کورٹ کے سربراہ نے اس مقدمے میں اپنے فیصلے میں لکھاکہ یہ بستی اور وہاں تعمیر کیے گئے رہائشی ڈھانچے ایک ایسی جگہ پر تعمیر کیے گئے تھے جو کسی کی نجی ملکیت تھی، اس لیے وہاں تعمیرات کو چاہے وہ ماضی میں ہی عمل میں آئی ہوں، جائز اور قانونی قرار دیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

مزید : عالمی منظر