سائنسدان پہلی مرتبہ دنیا میں پائے جانے والے قدیم ترین پانی کی مقدار کا اندازہ لگانے میں کامیاب

سائنسدان پہلی مرتبہ دنیا میں پائے جانے والے قدیم ترین پانی کی مقدار کا ...

کیلیفورنیا (اے پی پی) سائنسدان پہلی مرتبہ دنیا میں پائے جانے والے قدیم ترین پانی کی مقدار کا اندازہ لگانے میں کامیاب ہوگئے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی زمین کی سطح کے بہت نیچے موجود ہے اور اس کی مقدار ماضی کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ پانی جس میں سے کچھ دو ارب سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہے دنیا کے تمام دریاو¿ں، ندیوں اور جھیلوں میں موجود پانی سے زیادہ ہے۔ یہ بات محققین نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں جاری امریکی جیوفزیکل یونین کے اجلاس میںکہی ۔یونیورسٹی آف ٹورنٹو اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس پانی کی مقدار ایک کروڑ دس لاکھ مکعب کلومیٹر ہے۔یہ مقدار اس تمام پانی سے زیادہ ہے جو دنیا بھر میں موجود آبی ذخائر میں پایا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر کرس بیلنٹائن کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ اس زیرِ زمین پانی کے قدیم چٹانوں سے ملاپ کے نتیجے میں ہائیڈروجن گیس بن رہی ہے جو کہ ایک غذائی عنصر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں پائے جانے والے براعظموں کے نیچے اس علاقے میں بھی زندگی پائی جا سکتی ہے جس کے بارے میں پہلے سمجھا جاتا تھا کہ یہ بنجر ہے۔

مزید : کامرس