تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں پرانا پھڈا، حل کب ہوگا؟

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں پرانا پھڈا، حل کب ہوگا؟
تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں پرانا پھڈا، حل کب ہوگا؟

  


تجزیہ چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات میں دھاندلی کی تعریف اور نئے انتخابات پھر سے وجہ تراع ہیں گزشتہ روز تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا اور دونوں اطراف سے نیک توقعات ہی کا اظہار کیا جا رہا تھا، بتایا گیا ہے کہ فریقین صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے جوڈیشل کمیشن بنانے پر تو متفق ہو گئے ہیں لیکن دھاندلی کی تعریف اور دھاندلی ثابت ہونے کے بعد والے عمل پر اختلاف ہے۔ تحریک انصاف اپنے موقف پر قائم ہے کہ دھاندلی ثابت ہو تو اسمبلیاں توڑ کر حکومت مستعفی ہو اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔ حکومتی اراکین کا موقف ہے کہ منظم دھاندلی کی تعریف ہو اور جس حلقے کی دھاندلی ثابت ہو اس کے انتخابات کالعدم قرار دیئے جا سکتے ہیں، بہرحال یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا اس کے لئے دونوں اطراف سے لچک کی ضرورت ہوگی ورنہ ان مذاکرات کا انجام بھی پہلے والے مذاکرات جیسا ہوگا، تحریک انصاف کو یقین ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی صورت میں دھاندلی ثابت ہوگی اور نیا سال انتخابی ہوگا۔

کہا تو یہ بھی گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اتفاق رائے ہے جس کے لئے اسمبلی ہی صحیح فورم ہے۔ تحریک انصاف پارلیمانی کمیٹی میںجوڈیشل کمیشن پر اتفاق ہو جانے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گی کہ اس صورت میں استعفے واپس لے کر اراکین اسمبلی میں آ جائیں گے۔

حکومت دہشت گردی کے حوالے سے کل جماعتی پارلیمانی کانفرنس کی تجاویز پر سرعت سے عمل کررہی ہے اور وزیراعظم نے دن رات وقف کر دیئے ہیں۔ گزشتہ روز بھی عمل درامد کمیٹی کا اجلاس ہوا اور فیصلے کئے گئے جبکہ فیصلوں پر عمل درامد کے لئے اٹارنی جنرل اور وفاقی سیکرٹری قانون کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ فیصلوں کے مطابق متعلقہ قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے ترمیمی مسودات تیار کریں۔ یوں تمام تر توجہ انسداد دہشت گردی پر مرکوز کر دی گئی کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جلد مکمل ہو اور ملک میں استحکام نظر آئے۔

لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جوں جوں دن گزریں گے نئے مسائل سامنے آتے رہیں گے۔ لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز کے عدالت کی طرف سے وارنٹ نکلے ہیں، انہوں نے گرفتار ہونے سے انکار کر دیا ہے اور ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا کیا ہے۔

سینٹ میں پیپلزپارٹی اور اے این پی والوں نے پوچھ لیا ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف کب کارروائی ہو رہی ہے جو کالعدم قرار پا کر دوسرے ناموں سے کام کررہی ہیں، سینٹ میں یہ بھی پوچھا گیا کہ انتہا پسندی کا سدباب کس طرح کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے لئے یہ مشکل صورت حال ہے، پارلیمانی پارٹی میں دینی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں تجاویز کی منظوری ہوئی، لیکن اب مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں، دینی جماعتوں والے مدارس کے حوالے سے اعتراض اٹھا رہے ہیں۔

حکومت ہر دو حوالوں سے اغماض کا مظاہرہ کررہی ہے اور پہلی ترجیح خصوصی عدالتوں کے قیام کو دی جا رہی ہے، ان سطور میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ ان فیصلوں کی روشنی میں مشکلات پیش آئیں گی۔ جو آنا شروع ہو گئی ہیں، اب زیادہ مضبوط ارادوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور فیصلوں پر عملدرآمد میں بھی تیزی لانا ہوگی۔

ملک کے حالات اب بھی درست سمت اختیار نہیں کر پا رہے، سیاسی جماعتوں میں بھی بحران ہے۔پیپلزپارٹی خود کو نشانہ سمجھ رہی ہے اور اس کے حوالے سے خبریں اچھی نہیں ہیں۔ ان حالات میں قومی اتفاق رائے کو ضائع نہیں ہونا چاہیے اسے برقرار رکھا جائے۔

مزید : تجزیہ