وقتی ضرورت کے پیش نظر فوجی عدالتوں کو آئینی دائرہ کار میں لانیکی کوشش کی جارہی ہے،اعتراز احسن

وقتی ضرورت کے پیش نظر فوجی عدالتوں کو آئینی دائرہ کار میں لانیکی کوشش کی ...

                           لاہور ( نمائندہ خصوصی) پاکستان میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار پیپلز پارٹی خود ہے سات سال قبل دہشت گردی کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کو شہید کر کے سیاست کے ایک عظیم ترین مینار کو مسمار کر دیا گیا دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام پر ساڑھے سات گھنٹے پارلیمنٹ میں میری جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات پر بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ وکلاءکی میٹنگ کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام کو آئنی دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ وہ گزشتہ روز اےوان اقبال میں پیپلز پارٹی لاہور کے زیر اہتمام سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی ساتویں برسی کے موقع پر سمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سمینار کی صدارت پیپلز پارٹی لاہور کی صدر ثمینہ خالد گھرکی نے کی جبکہ سمینار سے معروف دانشور پروفیسر مہدی حسن‘زاہد زوالفقار خان ‘ فضل الرحمن بٹ ‘ چودھری غلام مصطفی، صدیق اظہر سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔جبکہ ڈاکٹر خالد جان نے اپنی مشہور نظم میں باغی ہوں پیش کی۔ سمینار میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو، سابق گورنر اور پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ، نوید چودھری، باﺅ یٰسین، شکیلہ رشید، افتخار شاہد، شاہدہ جبین، خرم لطیف کھوسہ اور خرم فاروق نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پرفاتحہ خوانی کی گئی اور بے نظیر بھٹو کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔ چودھری اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی دلیری اور بہادری کی کوئی مثال نہیں ملتی پھانسی سے قبل ذوالفقار بھٹو نے ڈیڑھ سال کال کوٹھڑی میں تنہا گذارا مگر ان کے پایا استقلال میں کسی قسم کی لرزش نہیں آئی حتیٰ کہ ان کے رہائی کے لئے دنیا بھر کے فرمانروا اور نامور لیڈر گارنٹی دینے کے لئے تیار تھے جس پر جنرل (ر)ضیا کا تقاضہ تھا کہ وہ صرف ایک جملہ سادہ کاغذ پر لکھ دیں مگر انہوں نے نہیں لکھ کے دیا ورنہ شاید یہ تحریر شدہ جملہ پاکستان میں چھپنے والی سب سے بڑی تحریر ہوتا۔ انہوں نے کہا اپنے والد کی طرح بے نظیر بھی ایک بہادر اور نڈر لیڈر تھیں جن کی اس طرح موت ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام تا حال آئین کے خلاف ہے جس کے حوالے سے متعدد عدالتی فیصلے موجود ہیں تاہم وقتی ضرورت کے پیش نظر اس کو آئنی دائرہ کار میں لائے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت کے سوال پر حکومت سے جب استفسار کیا گیا تھا کہ حالیہ پاس کئے گئے تحفظ پاکستان ایکٹ پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا جب کہ یہ قانون اسی غرض کے لئے لاگو کیا گیا تھا جس کے جواب میں حکومت کا موقف ہے کہ سول جج اس قانون پر عمل دارآمد نہیں کروا پا رہے ان ججوں کے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جن ججوں کو اس قانون کے تحت کیس بھیجے جاتے ہیں وہ کیس کی سماعت کرنے کی بجائے استعفیٰ دے دیتے ہیں لہذا فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ این اے 124میں ہونے والی دھاندلی کے حوالے سے تفصیلی وائٹ پیپر شائع کیا جا رہا ہے جو دس دن کے اندر اند ر لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے گا جس میں انتخابی دھاندلی ، تھیلوں سے ردی برآمد ہونے، تھیلوں کی سیلیوں کے ٹوٹے ہونے اور فرضی نتائج سمیت دیگر دھاندلیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن حلقوں کے تھیلوں میں ردی نکلی ان حلقوں کے بھی نتائج جاری کئے گئے جو شاید فرشتوں نے جاری کئے ہیں۔

اعتزاز

مزید : صفحہ آخر