تاریخ کے وہ طیارے جو آج تک واپس نہیں آئے

تاریخ کے وہ طیارے جو آج تک واپس نہیں آئے
تاریخ کے وہ طیارے جو آج تک واپس نہیں آئے

  

لاہور (خصوصی رپورٹ) ملائیشیاءکی نجی ایئرلائن ایئرایشیاءکا مسافر طیارہ لاپتہ ہوگیاہے جس میں مجموعی طورپر 162 افراد سوار تھے ، طیارے کے لاپتہ ہونے کے بعد سنگاپور اور انڈونیشیاءکی فضائیہ اور نیوی نے سرچ آپریشن شروع کردیاجبکہ روسی ٹی وی نے طیارہ تباہ ہونے کا دعویٰ کردیاتاہم ابھی تک اس کی گمشدگی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ ایئرایشیاءسے قبل

ملائیشین ایئر لائنز کا طیارہ مارچ 2014ء سےابھی تک لا پتہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس طیارے کی تلاش میں دنیا کے کئی ممالک نے حصہ لیا ہے اور سیٹلائیٹ ، جہازاور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد بھی لی گئی ہے  لیکن کسی بھی طرح کامیابی نہیں ہو سکی۔

ایک گمشدہ طیارہ جس کے مسافر انسانی گوشت کھا کر زندہ رہے،جاننے کے لئے کلک کریں

ان ملائیشین طیاروں سے قبل بھی کئی ہوائی جہازوں کے ساتھ ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن کے بارے میں آج بھی جوابات سے زیادہ سوالات موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درست سمت کا تعین ہو بھی جائے تب بھی ملائیشین ایئر لائن طیارے کا معمہ سلجھاتے سلجھاتے کئی برس لگ سکتے ہیں۔ اب تک معلوم حقائق کے مطابق پرواز بھرنے کے بعد طیارے نے کوئی ایمرجنسی سگنل نہیں بھیجا اور نہ ہی پرواز کے حوالے سے کوئی اور غیر معمولی بات ریکارڈ پر ہے۔

اگرتاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2009ءمیں ایئر فرانس کی فلائٹ 447 برازیل سے فرانس جاتے ہوئے اٹلانٹک سمندر کے اوپر غائب ہوگئی تھی۔ طیارے میں 228 افراد سوار تھے اور پانچ روز بعد جہاز کی دم کا کچھ حصہ سمندر سے برآمد ہوا۔ جہاز کا ملبہ ڈھونڈنے میں دو سال لگے اور مزید ایک سال یہ پتہ لگانے میں کہ جہاز کی فضائی رفتار کنٹرول کرنے والے آلات برف پھنسنے کے باعث جام ہوگئے تھے۔  اسی طرح 1996ءمیں نیویارک سے یورپ جانیوالی پرواز اڑان بھرتے ہی تباہی کا شکار ہو گئی اس واقعہ میں قریباً 230 افراد جاں بحق ہوئے۔ چار سال کی تحقیقات کے بعد کہا گیا کہ دھماکہ تیل کی ٹینکی پھٹنے سے ہوا۔ تاہم بہت سے لوگ اس بات پر اب بھی یقین نہیں کرتے اور اس جہاز کے ساتھ کیا ہوا، اس بارے میں کافی ساری سازشی تھیوریز موجود ہیں۔  1999ءمیں مصری ایئر لائن کی فلائٹ 990 نیویارک سے قاہرہ کے لئے پرواز کرتے ہی حادثے کا شکار ہوگئی۔ اس کے بارے میں نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ کا کہنا کہ جہاز کے عملے میں سے ہی ایک فرد نے زبردستی کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں یہ حادثہ ہوا  تاہم مصری حکومت نے اس موقف کو قبول نہیں کیا اور حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی کو قرار دیا۔ 1972ءمیں ایک دو انجن والا سیسنا طیارہ الاسکا جاتے ہوئے گم ہوگیا 39 روز تک تلاش جاری رہنے کے باوجود آج تک نہیں مل سکا۔  1962ءمیں ایک لاک ہیڈ طیارہ جو کہ 100امریکی فوجیوں کو لے کر کیلیفورنیا سے فلپائن جارہا تھا، دوران پرواز غائب ہوگیا۔

ملائیشین طیارےکے پائلٹ کے آخری الفاظ تحقیقات پر کس طرح اثر انداز ہوئے ،جاننے کے لئے یہاں کلک کریں

اس طیارے کا ملبہ آج تک نہیں مل سکا اور اس بارے میں بھی طرح طرح کے اندازے آج تک لگائے جاتے ہیں۔ کوئی اسے ہائی جیکنگ کا واقعہ قرار دیتا ہے تو کسی کا خیال ہے جہاز خود ہی دھماکے سے پھٹ گیا۔  اسی طرح 1937ءمیں جہاز پر دنیا کا چکر کاٹنے والے دو افراد ایمیلیا ایئرہارٹ اور فریڈ نونان بھی طیارے سمیت غائب ہوگئے اور آج تک ملبہ بھی نہیں مل سکا۔ اس بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے جہاز میں دوران پرواز تیل ختم ہوگیا جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ جاپانی بحریہ کا نشانہ بن گئے۔

مزید :

خصوصی رپورٹ -