فاٹا میں بلا سود قرضوں کا اجراء

فاٹا میں بلا سود قرضوں کا اجراء
 فاٹا میں بلا سود قرضوں کا اجراء

  

پورے ملک میں سودی نظام کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں اور اس کے لئے بلا سود بینکاری کو فروغ دیا جارہا ہے ،تاہم پندرہ سال سے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی جنگ اور دیگر عوامل کی وجہ سے پاکستانی بینکنگ نظام خاص طورپر اسلامی بینکاری کی برانچیں قبائلی علاقوں میں کھولنے کے لئے تیار نہیں، جبکہ قبائلی لوگ بینکوں کے سودی لین دین کی وجہ سے خود کو بہت زیادہ محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم گزشتہ پندرہ سالوں سے خیبرپختونخوا کی سات قبائلی ایجنسیوں کے نوجوانوں کو جنگ کی وجہ سے جس بیروزگاری کا سامنا کرناپڑ ا،ا س بیروزگاری کو ختم کرنے کے لئے بلا سود قرضے ہی ایک واحد راستہ بچاہے کہ ان نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے اور مائیکرو فنانس سے ان کی زندگیوں میں تبدیلی لائی جائے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہاں پر اصلاحات لانے کی کوشش کی، لیکن اس سے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ۔وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت آنے کے بعد انہوں نے فاٹا کی طرف توجہ دینا شروع کر دی اور فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ان کی نظر سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ کے اہم رہنماء سردار مہتاب احمد خان پر ٹھہری ۔ انہیں گورنر بنادیاگیا۔

جس وقت انہیں گورنر خیبرپختونخوا بنایا گیااس وقت حالات انتہائی ابتر تھے اس کے چند مہینے بعد آپریشن ضرب عضب شروع کر دیا گیا ،جس میں سردار مہتاب احمد خان کا کردار پوری دنیا کے سامنے ہے ۔قبائلی عوم سے تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی سردار مہتاب احمد خان نے قبائلیوں کے لئے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسے اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں،جن سے قبائلی نہ صرف وزیراعظم محمدنواز شریف کے احسان مند ہیں ،بلکہ سردار مہتاب احمد خان کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس میں کئی سال سے بند خیبر ایجنسی میں کپڑے کے کارخانوں کی دوبارہ بحالی جبکہ 68سال میں پہلی بار فاٹا یوتھ فیسٹول کا انعقاد ہے جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور پہلی بار سردار مہتاب احمدخان ے فاٹا کے نوجوانوں کو اپنی صلاحتیں قوم کے سامنے لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا تاہم سردازر مہتاب احمد خان کا سب سے بڑا کارنامہ قبائلی علاقوں میں اخوت پراجیکٹ کے ذریعے ایک ارب پچیس کروڑ روپے کے بلا سود قرضوں کا اجراء ہے قید مہمندایجنسی میں مستحق لوگوں میں تیس لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے گئے ہیں، جس سے قبائلی نوجوانوں کی زندگیاں تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجونوں کو یہ قرضے بلا سود فراہم کئے جا رہے ہیں جس سے قبائلی بہت خوش ہیں ۔

وفاق کے زیر انتظام فاٹا کے عوام کو قیام پاکستان سے اب تک حکومتی قرضہ جات سے محروم رکھا گیا تھا۔پورے ملک کے عوام کو کاروبار کے لیے قرضے دیئے جاتے تھے ،لیکن قبائلی عوام کو قرضے فراہم نہیں کئے جاتے اور فاٹا کا شناختی کارڈ رکھنے والے باشندوں پر بینکوں سے قرضے لینے کے دروازے بند تھے ،جس کی وجہ سے قبائلی عوام احساس محرومی کا شکار تھے ۔غریب ،ہنر مند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو قرضے نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنا روزگار شروع نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح بڑھ چکی تھی ۔گورنر خیبرپختونخوا سردا ر مہتاب احمد خان نے اخوت روزگار سکیم کے ذریعے بلا سود قرضے دینے کا اعلان کیا ۔گورنر جو بات کرتے ہیں،اس پر عمل کر کے بھی دکھاتے ہیں ۔فاٹا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ارب پچیس کروڑ کی خطیر رقم سے بلا سود قرضہ جات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اس اسکیم کی بدولت فاٹا سے سودی کاروبار کا خاتمہ ہو گا ۔اخوت بلا سود قرضہ جات سکیم پنجاب میں کامیابی سے جاری تھی اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب میں بلا سود قرضوں کی فراہمی شروع کی تھی جس کی ریکوری 99فیصد تھی ۔ڈاکٹر امجد ثاقب دل میں عام آدمی کے لئے درد رکھنے والے انسان ہیں اور ان کی د ن رات محنت کی بدولت سے پنجاب میں اخوت روزگار اسکیم کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور لاکھوں میں خواتین بھی شامل ہیں مذکورہ اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔

گورنر خیبرپختونخوا نے فاٹا میں بلا سود قرضوں کے اجراء کے لئے ڈاکٹر امجد ثاقب سے رابطہ کیا تاکہ قبائلی علاقوں میں بلا سود قرضہ جات شروع کئے جائیں ۔اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب گورنر خیبرپختونخوا کے جذبے سے بے حدمتاثر ہوئے اور فاٹا میں اخوت بلا سود قرضہ جات دینے کے پروگرام کا آغاز کیا ۔قبائلی علاقوں میں سودی کاروبار کے خاتمے کے لیے گورنر ایک قانون بھی لا رہے ہیں جس کے تحت سود خوروں کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ متاثرہ غریب لوگوں کے قرضے بھی معاف کرائے جائیں گے ۔فاٹا میں بلا سود قرضوں کی سکیم میں کسی قسم کی سیاسی سفارش کی بنیاد پر قرضے نہیں دیئے جائیں گے بلکہ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مستحق لوگوں کو کاروبار کے لئے قرضے دیئے جائیں گے کیونکہ اس سے قبل فاٹا کے عوام کوملک کے کسی کونے میں قرضے نہیں دیئے جاتے تھے ۔گورنر کے اس تاریخی اقدام سے غیور قبائلی عوام کو اپنے ہی علاقوں میں بلا سود قرضے ملیں گے۔ اس سکیم سے لاکھوں نوجوان اپنا کاروبار شروع کریں گے اور اپنے خاندانوں کی باعزت طور پر کفالت کریں گے ۔اس سکیم کے تحت خواتین کو بھی قرضے ملیں گے۔ خواتین بھی معاشرے کا حصہ ہیں ۔گورنر خیبرپختونخوا نے قبائلی عوام کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں ۔انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد پہلی فرصت میں فاٹا کے نوجوانوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنے اور قبائلی علاقوں سے بیروزگاری کے خاتمے کے لیے ہر سال دس ہزار نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے کا پروگرا م شروع کیا جس میں نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے ساتھ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جارہا ہے اور گزشتہ ایک سال سے یہ پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں کے پڑھے لکھے نوجوان مختلف ہنر سیکھ رہے ہیں ۔

مزید :

کالم -