ایک اور شاہراہ ریشم کی تکمیل

ایک اور شاہراہ ریشم کی تکمیل
 ایک اور شاہراہ ریشم کی تکمیل

  


قدم قدم مشکلات، دھرنوں، مقدمہ بازیوں اور سیاست دانوں کی تنقید و تنقیص کا جنگل عبور کرتے ہوئے ترقی کے عظیم معمار انتھک محنت کے عادی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے عوامی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کے عظیم الشان منصوبے کا اگلے روز افتتاح کر دیا ہے۔

شمالی لاہور اور جنوبی لاہور کو ملانے والی 22 کلو میٹر سے زیادہ طویل اور 90میٹر چوڑی 6 لین شاہراہ تین سال کی بجائے صرف ایک سال میں مکمل کرکے وزیر اعلیٰ نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔لاہور کی تمام آبادیوں کو ملانے والی شاہراہ پر روزانہ لگ بھگ ایک لاکھ افراد سفر کریں گے۔

انہیں وقت اور اخراجات میں کافی ریلیف ملے گا۔لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ٹریفک کے بہاو کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی۔یہ شاہراہ لاہور کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کا باعث بنے گی اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ دوسری شاہراہ ریشم ثابت ہوگی۔

عوام اور کاروباری طبقہ اس عظیم شاہراہ کی تکمیل پر خوش اور وزیر اعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ،تاہم بعض سیاستدان وزیر اعلیٰ کے تعمیری منصوبوں سے کچھ زیادہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں، اس کے پیچھے پیچھے وزیر اعلیٰ کی کاوشوں کا ایک اور شاہکار اورنج ٹرین کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے جو پنجاب کے دارالحکومت کو دنیا کے بڑے ترقی یافتہ شہروں کے ہم پلہ بنادے گا۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ نے لاہور میں میٹرو بس کا ٹریک بچھانے کا آغاز کیا تو انہی سیاست دانوں کی طرف سے نہ صرف اسے ہدف تنقید بنایا گیا ،بلکہ جنگلہ بس کا نام دے کر منصوبہ کو حقیر قرار دینے کی کوشش کی گئی، اسی طرح کا سلوک اسلام آباد راولپنڈی اور ملتان کی میٹرو بس کے بارے میں روا رکھا گیا۔

پنجاب کا کاروباری طبقہ وزیر اعلیٰ کی تعمیری کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبوں کی تعمیر و ترقی میں حتی الامکان معاونت فراہم کرنے میں پیچھے نہیں رہتا ۔ہمسایہ ملک نے پہلے دن سے پاکستان کو ذہنی طور پر تسلیم نہیں کیا۔

پاکستان کی زرعی زمینوں کو بنجر بنانے کے لئے پاکستان کے پانیوں پر ڈاکہ زنی کرتا رہتا ہے، بجلی کی ضرورتوں اور بوقت ضرورت آبپاشی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے پاکستان نے کالا باغ ڈیم کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کے لئے مشینری منگوائی اور فزیبلٹی رپورت تیار کر لی تو انڈیا نے پاکستان کے اندر سے بعض سیاسی عناصر کو ڈیم کی مخالفت کے لئے تیار کر لیا اور بڑے ڈیم کو موخر کر ا دیا۔

انڈیا کالا باغ ڈیم مخالف لابی پر اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ جب بھی ملک میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں آواز اٹھتی ہے۔ مخالف لابی مرنے مارے کی باتوں پر اتر آتی ہے۔

ایسے سیاسی عناصر بھی موجود ہیں جو موجودہ حکومت کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو عوام کی نظروں میں گرانے کے لئے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں ،لیکن ان کی اپنی صورت حال ایسی ہے کہ انہوں نے چند سیاست دانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کالا باغ ڈیم کو ہمیشہ کے لئے سر د خانے میں ڈال دیا تھا۔ وہی زمانہ تھا، جب ملک لوڈ شیڈنگ کی گرفت میں رہا۔

ملکی صنعت اور عوام کو بھیانک لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے کسی بڑے منصوبے پر کا م شروع کرانا دور کی بات ہے، انہوں نے اندھیرے میں شگاف ڈالنے کے لئے کبھی دیا تک نہیں جلایا۔انڈین آرمی افسر کلبوشن کی پاک سرزمین سے گرفتاری اور پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لئے اس کے اقرار جرم سے ملک کی سلامتی کے خلاف بیرونی خطرات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکے ہیں۔

حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کے سیاست دانوں سمیت تمام طبقات دھرنوں سڑک مارچوں اور جلسے جلوسوں کو چھوڑ کر شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں کی بحفاظت تکمیل اور ملک کی سلامتی کے لئے حکومت کے ساتھ یک جان دو قالب کی طرح متحد ہو جائیں۔

اکثر و بیشتر سیاست دان خود کو ملک و قوم کا ہمدرد و خیرخواہ قرار دیتے ہیں، لیکن عملی صورت یہ ہے کہ فلاح و بہبود کے پروگراموں میں حکومت کے ساتھ ہم آواز و ہم قدم ہونے کی بجائے کھوکھلے نعروں اور گالی گلوچ پر انحصار بڑھاتے ہیں۔ مقدمہ بازیوں اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے خدمت کا سفر کھوٹا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

منفی بیان بازیوں کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج باربار گررہی اور سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب جاتے ہیں، سیاست دانوں کے ہمہ وقت مخالفانہ طرز عمل کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف پنجاب کو ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن رکھنے کے لئے دن رات منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں، انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ لاہور اور پورے پنجاب میں خوبصورت سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کو سہل اور آرام دہ بنا دیا گیا ہے، لامحالہ بہتر سفری سہولتوں سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، بشرطیکہ ٹانگ کھینچ کلچر کو ختم کر دیا جائے۔

مزید : رائے /کالم