اکلوتی بیگم

اکلوتی بیگم
 اکلوتی بیگم

  


کہتے ہیں کہ میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں۔ ان دو پہییوں کی موجودگی میں زندگی کی گاڑی بڑی ہموار چلتی ہے۔لیکن جس طرح گاڑی کے ہموار چلنے کے لئے سڑک کا ہموار ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اسی طرح ہموار زندگی کے لئے ایک توحالات کا سازگار ہونا بہت ضروری ہے۔

دوسرا پہییوں کا ایک جیساہونا بھی بڑا ضروری ہے۔سڑک ناہموار ہو یا پہیے سائز میں مختلف تو گاڑی گھومے گی ناچے گی اور خوب ہچکولے بھی کھائے گی۔

میاں اور بیوی دونوں کا مزاج ایک ہو تو بہت خوب ورنہ دنگل تو ایک عام سا معمول ہوتا ہے۔زندگی کو ہچکولوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں، جنہیں ایک آدھ فالتو پہیے کا بھی شوق ہوتا ہے ۔یہ تیسرا پہیہ فالتو نہیں ، گاڑی کا حصہ ہوتا ہے۔

اب گاڑی ایک اور پہیے تین ، یقینی بات کہ گاڑی تھوڑی نہیں بہت دشواری سے چلتی ہے، مگر اسی کھینچا تانی میں کسی طرح چلاتے ہیں،کیونکہ شوق تو شوق ہے، جس کی تکمیل بھی ضروری ہے۔

جی ہاں بیویاں دو ہو جائیں تو گھرسے برتنوں کی کچھ اضافی آوازیں بھی آتی ہیں، لیکن شوق کی تکمیل تو ہو جاتی ہے۔ آدمی سینہ تان کر چلتا ہے کہ لوگ ایک کا سامنا نہیں کر سکتے وہ دو شیروں کی کچھار میں رہتا ہے۔

سنا ہے دو بیویوں والے جنتی ہوتے ہیں، مگرافسوس میری ایک بیوی ہے ،فقط ایک، میری اکلوتی بیگم۔ زندگی بہت خوشگوار ہے، کسی چیز یا بات کی کمی کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ البتہ جنت کا خیال آتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ ایک پر قناعت کرکے خود کو جنت سے محروم رکھا۔

اب عمر ایسی آگئی ہے کہ چاہنے کے باوجود اس خواہش کی تکمیل ممکن نہیں۔ ایک تو اب پلے کچھ نہیں ، بڑھاپے اور ریٹائرمنٹ کے سوا۔دوسرا بچے بڑے ہو گئے ہیں اور کسی ایسی حرکت کی صورت میں ماں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اس سپر پاور کے سامنے میری وہی حیثیت ہوگی جو امریکہ کے سامنے پاکستان کی ہے، لیکن جنت نہ حاصل ہونے کا افسوس تو بہر حال ہے اور رہے گا۔ کہتے ہیں رب العزت کا دربار لگا تھا۔ اپنی اپنی باری پر لوگ آرہے تھے۔فرشتے حساب کتاب میں مصروف تھے۔ بڑا کڑا احتساب جاری تھا۔

اتنے میں ایک شخص آیا تو حکم ملا کہ اسے سیدھا جنت میں جانے دیا جائے۔ حکم کے مطابق وہ مسکراتا جنت میں پہنچ گیا۔ ڈرتے ڈرتے فرشتوں نے پوچھا، رب العزت اس پر یہ خاص کرم کیوں؟ جواب ملا اس کی دو بیویاں تھیں۔ دوزخ کے عذاب سے بڑھ کر دنیا میں بھگت آیا ہے۔

بیویاں ویسے اتنی بھی بری نہیں ہوتیں جتنا مرد حضرات نعرے بازی کرکے انہیں برا بنا دیتے ہیں۔کسی نے پوچھا، بھائی آپ کی سر درد کا کیا حال ہے، جواب ملا، میکے گئی ہوئی ہے۔ مجھے اس کی بات سے سمجھ آ گئی کہ عورتوں کو سر درد بھی شاید اسی لئے بہت کم ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بیوی نہیں ہوتی۔

ایک صاحب صبح دفتر گئے، مگر تھوڑی دیر میں واپس آگئے۔ بیوی نے پوچھا کیا بات ہے، اتنی جلدی واپس آ گئے ہو۔ کہنے لگے، دفتر میں مجھ سے تھوڑی سی غلطی ہو گئی تھی۔ باس ناراض ہو گئے اور حکم دیا کہ جہنم میں جاؤ، سو تمھارے پاس آ گیا ہوں۔ ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ عورتوں کے گاڑی چلانے کے دوران زیادہ ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ گاڑی میں شیشے زیادہ ہونے کے سبب اپنا چہرہ دیکھنے میں مگن ہو جاتی ہیں۔

کچھ بیویاں مردوں کی نسبت تھوڑی تگڑی ہوتی ہیں اور اپنے تگڑے پن کا مظاہرہ نہ چاہتے ہوئے بھی کر دیتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ جس کی بیوی جتنی تگڑی ہواور وہ اس تگرے پن کا عموماً شکار رہتا ہے، وہ کبھی بھی جو اصل میں اس پر گھر میں گزرتی ہے کسی کو نہیں بتاتا کہ دنیا اس کے حالات سے خوامخواہ لطف اندوز ہو گی، بلکہ باہر دوستوں میں شیر کی طرح گرجتا اور یہی کہتا ہے کہ اس کی گھر میں بہت دہشت ہے ، وہ گھر میں جاتا ہے تو ہر چیز کانپ جاتی ہے کہ شیر کی آمد ہے، لیکن حقیقت الٹ ہوتی ہے گھر میں بیوی کا راج ہوتا ہے۔بیوی یوں آتی ہے کہ محسوس ہوتا ہے ’’کس رن کی آمد ہے کہ شیر کانپ رہا ہے۔‘‘ جی پنجابی میں رن عورت کو کہتے ہیں۔

ضرور پڑھیں: "ہم ایک ہیں"

ایک صاحب دوستوں میں بیٹھے بڑے فخر سے بتا رہے تھے کہ کل انہوں نے اپنی بیوی کو وہ سبق سکھایا کہ اس نے گھٹنے ٹیک کر مجھے منایا۔سبھی دوست جو ان کی بیوی کے مزاج سے واقف تھے ، پریشان کہ اتنی خونخوار بیوی اور گھٹنے ٹیک دے ، بات سمجھ نہیں آتی۔ایک واقف حال نے صورت حال بتائی کی ان کی بیگم جلال میں تھیں، ڈر کر پلنگ کے نیچے گھس گئے۔ دو گھنٹے بعد بیگم کو رحم آ گیا۔

مسکراتی ہوئی گھٹنے ٹیک کر پلنگ کے نیچے جھانکیں اور بڑے پیار سے بولیں، میری جان، دو گھنٹے ہو گئے ہیں، اب تو باہر نکل آؤ۔ بس بیگم کی اسی نظر کرم پر ابھی تک نہال ہیں۔ ایک بچے سے کسی نے پوچھا، بیٹا آپ کے والد کیسے ہیں، کہنے لگا بہت دلیر ہیں۔پوچھا تمہیں کیسے پتہ ہے۔بچے نے مسکرا کر جواب دیا، میری ماما سے شادی کی ہے۔

ویسے بیوی کو آپ کچھ بھی کہہ لیں ۔ جتنے مرضی مذاق بنا لیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ بڑھاپے میں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی غمگسار ، کوئی مدد گار اور کوئی ہمدم نہیں ہوتا۔ یہ گھر کی معمار ہے ۔ جوانی میں یہ بچوں کی تر بیت کرتی ہے اور بڑھاپے میں میاں کی بہترین دوست،جب اولاد بھی اپنے بیوی بچوں میں کھو جاتی ہے ،میاں کے دوستوں کا حلقہ بھی محدود ہو جاتا ہے۔

جسم کے اعضا یعنی ٹانگوں ، ہاتھوں اورپاؤں کی حرکت بھی محدود ہونے لگنی ہے، اس وقت میاں اور بیوی کا ساتھ ہی بڑھاپے کو خوشگوار بنا تاہے ۔ وہی ایک دوسرے کے چارہ ساز ہو تے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہوتے ہیں۔ مدد گار ہوتے ہیں۔اور اسی عمر میں یہ یقین آتا ہے کہ میاں بیوی واقعی ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔

مزید : رائے /کالم