پارلیمان کو راستہ دیجئے!

پارلیمان کو راستہ دیجئے!
پارلیمان کو راستہ دیجئے!

  


یقیناً خوفناک ہلچل تھی، جب چیف آف آرمی سٹاف سینٹ تک نہیں آئے تھے، ایک طرف نادیدہ قوتیں پارلیمنٹ کے خلاف گہری سازشوں میں مصروف تھیں اور دوسری جانب پارلیمنٹ کے بڑے عجب تذبذب کا شکار تھے، سپیکر قومی اسمبلی یہاں تک کہہ چکے تھے کہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی، جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی یہ کہنے پر مجبور ہوئے تھے کہ کسی بھی پریشر یا کسی بھی طرح کے حالات کے پیشِ نظر وہ اسمبلی نہیں توڑیں گے۔

لیکن پھر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینٹ میں آکر تمام سازشوں کا گلا گھونٹ دیا اور سازشیوں کے منہ لٹک گئے۔ سیاسی یتیموں کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور سیاسی اُفق پر چھائے مایوسی و نااُمیدی کے گہرے بادل چھٹ گئے۔ پاک فوج کے سربراہ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ جمہوری عمل کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے یہاں تک کہا کہ پارلیمنٹ دفاع اور خارجہ پالیسی جوبھی بنائے گی، فوج اس پر عمل کرے گی۔

جناب جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان جرنیلوں کی بھی خبرلی جو ریٹائرمنٹ کے بعد خواہ مخواہ پاک آرمی کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، چیف آف آرمی سٹاف نے دو ٹوک انداز میں ایسے تجزیہ کاروں کو کہا کہ وہ ’’ہمارے ترجمان نہیں‘‘۔

جناب جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بھی کہا کہ فوج کا کام حکومت کرنا نہیں اور نہ ہی افواجِ پاکستان کے کوئی سیاسی عزائم ہیں۔۔۔بے شک فوج کے سربراہ جناب جنرل قمر جاویدباجوہ نے تمام الٹے سیدھے خدشات وشکوک و شبہات کو خس و خاشاک کی طرح بہادیا ہے، لیکن اِس سب کے باوجود وہ کون سی قوتیں ہیں جن کو صرف5 ماہ مزید اسمبلیاں برداشت نہیں ہورہیں؟

دیکھا جائے تو ساری کی ساری دھینگا مشتی نیوز چینلوں پر ہے، چند عناصر کے بیانات ہیں جو آئے روز ٹی وی چینلز پر سننے کو ملتے ہیں، یہ عناصر نام نہاد سیاستدان یا ٹیکنوکریٹس کے روپ میں ہیں، جو اینکرز کو بتاتے نظر آتے ہیں کہ جمہوری پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا، اب یہ باب بند ہونا چاہئے۔

دوسری جانب چند میچور سیاستدانوں کی دبی دبی آوازیں ہیں، جو پریشانی کے عالم میں کہتے نظر آتے ہیں کہ خدارا! ملک کے اندر سے جمہوری اور سیاسی سسٹم کی بساط مت لپیٹو! تیسری جانب عوام ہیں جو چپ سادھے اپنی روزی روٹی کے چکر میں لگے ہوئے ہیں، ان کے نزدیک کہیں بھی کسی بھی طرح کا سیاسی عدم استحکام نہیں ہے، بلکہ عوامی اکثریت کی نگاہ اگلے سال ہونے والے جنرل الیکشن پر ہے، جس میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔۔۔ افسوس اِسی بات کا ہے کہ جب جنرل الیکشن میں صرف ساڑھے پانچ مہینے باقی ہیں تو قومی حکومت جیسے شوشوں کی آگ عوام کے اصل سرچشمہ ایوانوں کو بھسم کرنے کے لئے کیوں لگائی جارہی ہے؟

یہ بے صبری کیوں ہے؟ عوام کے اندر سے کون سی ایسی آواز اٹھی ہے، جس سے ثابت ہوسکے کہ قوم کا دل سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے بھرگیا ہے، لہٰذا اب قومی حکومت جیسا ناسور پال لیا جائے اور جمہوریت سمیت جمہوری اداروں کو تیغ کردیا جائے؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے اندر سول وملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں، ہر بڑے قومی مسئلے پر سیاسی و عسکری قیادت مل کر فیصلے کرتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ’’تڑپن‘‘ کن سینوں میں ہے؟ کون سی کٹھ پتلیاں کن کے اشاروں پرشیطانی ڈانس کررہی ہیں؟

وزیر اعظم کا یہ کہنا بجا کہ عدالتوں کو اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے چاہیں اور ایسے فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے،جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہاں تک کہا کہ عوام خود سوچیں کہ 28جولائی کے عدالتی فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوا یا نقصان؟

بے شک میاں نواز شریف کی نااہلی سے ملک سیاسی،معاشی، معاشرتی اور جمہوری سطح پر بری طرح عدم استحکام کا شکار ہوا ہے۔ اچھی خاصی مقبول و مضبوط حکومت کو ایک عدالتی فیصلے نے ایساپٹڑی سے اتارا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھی پٹڑی سے اتر گیا ہے، تیزی سے ترقی کرتی معیشت یکدم گہرے کنوئیں میں جاگری ہے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلا گیا ہے اور تاریخی سی پیک منصوبہ پر خوفناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ہم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کاسفر شروع کرچکے ہیں اور قوم پھر سے کسی مضبوط، مقبول سیاسی حکومت کی راہ دیکھنے پر مجبور ہوگئی ہے، وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کا بھی یہ کہنا بجاکہ قانون کے منافی فیصلوں پر بات کرنا ان کا ان کی جماعت کا اور عوام کا حق ہے اور ایسے فیصلوں پر بات کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔

سعد رفیق کا یہ گلہ بھی بجا کہ جہانگیر ترین کو نااہل کرتے وقت کوئی جے آئی ٹی بنی نہ ان کے مقدمات نیب و غیرہ کے حوالے کئے گئے، بلکہ سیدھی سادی ’’نااہلی‘‘ سے جہانگیر ترین کا قصۂ پاک کردیا گیا۔

دوسری جانب عمران خان نے اقرار کیا کہ ان کی آف شور کمپنی ہے، مگر انہیں ’’پاک‘‘ کردیا گیا، اِس کے باوجود کہ عمران نے عدالت کے سامنے بارہا اپنے بیانات بدلے، لیکن انہیں ’’گرین چٹ‘‘ سے نوازا گیا۔

ایسے فیصلوں سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔ عوام میں بے چینی پھیلتی ہے۔ ترقی کا پہیہ رکتا ہے، معیشت کی گاڑی گہرے کھڈے میں جاگرتی ہے، قانون اور انصاف سے عوام کا اعتماد اٹھتا ہے،عدالتی وقار متاثر ہوتا ہے اور جمہوریت بیچ بازار بال کھول کر بین کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

یقیناً ہمیں اب ہر طرح کے کھیل تماشوں سے باہر آنا ہے۔ محلاتی سازشوں کی غلام گردشوں سے پیچھا چھڑوانا ہے۔ عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ انصاف کریں تو انصاف ہوتا ہوا نظر آئے، جمہوریت پر فرض ہے کہ وہ خود کو اِس قدر مضبوط کرے کہ کسی بھی طرح کے چور، ڈاکو اور ٹھگ کو اِس میں نقب لگانے کی جرأت نہ ہو، عسکری اداروں سمیت تمام قومی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری ایمانداری و دیانتداری سے اپنے فرائض منصبی ادا کریں اور اپنی حدود و قیود کا خود ہی خیال رکھیں۔

جب ایسا ہوگا تو کوئی بھی نقب زن اپنی دلی مرادیں پوری نہ کرسکے گا، کوئی قومی حکومت کا شوقین اقتدار کے تالاب میں غوطہ خوری کا خواب نہ دیکھ سکے گا، شعبدہ بازوں جیسی بیان بازی والا کوئی سیاستدان یا ٹیکنو کریٹ ٹی وی چینلوں پر اپنی مخصوص ڈگڈگی نہ بجاسکے گا اورقوم ملکی و سیاسی عدم استحکام پر تذبذب کا شکار نہ ہوسکے گی۔

چلتی حکومت کی ٹانگیں کھینچنے والوں کو اپنے ہوس زدہ مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے گردن گھماکر 20 کروڑ عوام کی طرف ضرور دیکھ لینا چاہیے اور سوچ لینا چاہیے کہ ملک کے باشندے کیسے جان جوکھوں میں ڈال کر اپنے بچوں کا رزق کماتے ہیں؟

سیاسی عدم استحکام کا دوسرا نام معاشی عدم استحکام ہے۔ کون نہیں جانتا کہ معاشی عدم استحکام میں عام آدمی کے لئے پیٹ پالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ خود کشیوں، خود سوزیوں میں اضافہ ہوتا ہے، عوام مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں،جرائم کی شرح بڑھ جاتی ہے اور سیاست سمیت کسی کی جان و مال عزت آبرو محفوظ نہیں رہتی۔ خدارا! قومی حکومت جیسے شوشے چھوڑ کر ملک کو ہر سطح پر غیر محفوظ نہ کیجئے!پارلیمان کو اپنی مدت پوری کرنے کے لئے راستہ دیجئے۔

مزید : رائے /کالم