نجی شعبے میں قائم میڈیکل کالجوں کی حالتِ زار

نجی شعبے میں قائم میڈیکل کالجوں کی حالتِ زار

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈ نجی میڈیکل کالجوں میں تاحکم ثانی داخلے روک دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی پرسخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ حکم نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسوں کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی میڈیکل کالجوں کے مالکان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے اس بات کی بھی وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے کہ نجی کالجوں میں بھاری فیسوں کا جواز کیا ہے۔ گھروں کے گیراجوں اور ایک ایک دو دو کمروں میں کالج بناکر چلائے جارہے ہیں۔ بتایا جائے کہ نجی میڈیکل کالجوں کا سٹرکچر کیا ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجوں میں ڈاکٹر بننے کے لئے مجموعی طور پر 80ہزار روپے بطور فیس ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ نجی میڈیکل کالجوں میں فیسوں کی مَد میں چھ لاکھ 42ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ نجی میڈیکل کالج کے قیام کے لئے شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے ساتھ ایک ٹیچنگ ہسپتال ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح میڈیکل لیبارٹریوں، لیکچر ہالوں اور دیگر سہولتوں کی شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ میڈیا اور بعض تنظیموں کی طرف سے یہ شکایات سامنے آتی رہتی ہیں کہ نجی شعبے میں میڈیکل کالج کام کررہے ہیں، جو متعلقہ اتھارٹیز کی ملی بھگت سے شرائط پر پورا نہیں اُترتے، اس کے باوجود انہیں کام کرنے سے نہیں روکا جاتا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کو بیشتر میڈیکل کالجوں کے بارے میںیہ اطلاعات بھی دی گئی ہیں، کہ وہ گھر یا کسی دفتر کے گیراج، ایک یا دو کمروں میں قائم ہیں۔ نجی میڈیکل کالجوں کی یہ صورت حال افسوسناک ہے، اس حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کالجوں کے مالکان نے متعلقہ اتھارٹیز کی ملی بھگت سے میڈیکل کالجوں کے نام پر مذاق بنا رکھا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کئی برسوں سے یہ ناجائز اور غیر قانونی کاروبار شروع ہے۔ اس کے باوجود زیر تعلیم طالب علموں کو سرکاری کالجوں کے مقابلے میں سات گنا زائد فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ اس افسوسناک صورت حال کی وجہ سے سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا سلسلہ تاحکم ثانی روک دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے فوری ایکشن لائق تحسین ہے، سوال یہ ہے کہ متعلقہ اتھارٹیز نے اتنے عرصے سے آنکھیں کیوں بند کررکھی ہیں۔ کیا ذمے داران کے خلاف حکومتی سطح پر کوئی کارروائی کی جائے گی؟ پورے ملک میں نجی میڈیکل کالجوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ صرف لاہور میں چودہ کالج قائم ہیں۔ چند کمروں اور گیراجوں میں قائم ان نام نہاد میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والوں کو تعلیم کیسے ملتی ہے اور ان کا مستقبل کیا ہوتا ہے، اس بارے میں حیرت انگیز اور تشویشناک انکشافات ہونے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کی وجہ سے توقع ہے کہ اسے انجام تک ضرور پہنچایا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ