عمران خان کا ایجنڈا!

عمران خان کا ایجنڈا!
 عمران خان کا ایجنڈا!

  

عمران خان اکیس سال کی جدوجہد کے بعد اِس مقام پر پہنچے ہیں کہ اب اُنہیں سیاست میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کا وجود اِس لحاظ سے غنیمت ہے کہ سیاست میں حصہ لینے کے خواہش مندوں اور ووٹرز کے لئے ایک تیسرا آپشن سامنے آگیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دو بڑی جماعتیں ہیں، جنہیں اقتدار میں آنے کا کئی دفعہ موقع ملا۔ اُن کی خوبیاں خامیاں کافی واضح ہو چکی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے ڈھانچے میں کسی تبدیلی کے لئے تیار نہیں۔

پی ٹی آئی کو ابھی قومی سطح پر آزمایا نہیں گیا اس سے بہت لوگوں کی اُمیدیں وابستہ ہیں کہ شاید اُن کے آنے سے ہماری سیاست اور گورننس میں واقعی تبدیلی آجائے اورسٹیٹس کو ٹو ٹ جائے ۔ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں حکومت کرنے کا موقع ملا ہے، وہاں وہ کچھ معاملات میں ناکام ہوئی ہے مثلاً احتساب کمیشن کو فعال نہیں کیا جا سکا۔

کرپشن کی باتیں بھی چلتی رہتی ہیں، ناخوشگوار سیاسی اتحاد بھی کرنے پڑے ہیں صحت، تعلیم اور پولیس میں بہتری کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن ان شعبوں میں اگر واقعی کوئی بہتری آئی بھی ہے تو اس کے اثرات کو قومی سطح پر محسوس نہیں کیا گیا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ خیبرپختونخوا ایک چھوٹا صوبہ ہے۔

قومی سطح پر عمران خان کا اب تک کا ایجنڈا مجموعی طور پر منفی رہا ہے۔ پہلے انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک چلائی اور دھرنے دئیے معاملات سپریم کورٹ تک پہنچے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی منظم دھاندلی سامنے نہیں آئی کہ جس سے کسی کا مینڈیٹ چرا لیا گیا ہو۔

یوںیہ مہم ناکامی سے دوچار ہوئی۔ پھر انہوں نے کرپشن کے خلاف تحریک چلائی اور اس کے نتیجے میں اس حد تک ضرور کامیابی ہوئی کہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔ تاہم اس کا کوئی مثبت تاثر سامنے نہیں آیا۔ کرپشن کے خاتمے کا ابھی دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

عمران خان ایک قومی لیڈر ہیں اور ان کا ٹارگٹ بھی وزیراعظم بننا ہے تو یہ مقصد صرف ایک منفی نعرے کی بنیاد پر حاصل کرنا مشکل ہے۔ عمران خان کو قوم کی قیادت کے لئے صرف شریف فیملی یا زرداری کے خلاف مہم چلانا کافی نہیں ہو گا، بلکہ انہیں مثبت ایجنڈا قوم کے سامنے رکھنا ہوگا۔

چند روز پہلے انہوں نے پہلی بار ایک قدرے مثبت وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر اسمبلیوں کے ارکان کے ترقیاتی فنڈز بند کر دیں گے۔ یہ فنڈز مسلم لیگ نے شروع نہیں کئے تھے، بلکہ یہ ڈاکٹر محبوب الحق کا آئیڈیا تھا اوراس پر کسی نے اب تک اعتراض نہیں کیا تھا۔

عمران خان نے الیکشن پر اس کے ممکنہ اثرات سے پریشان ہو کر یہ بیان دیا ہے۔ پہلے وہ بھی خاموش رہے ہیں۔ بہرحال صحیح بات جب بھی کی جائے غنیمت ہوتی ہے۔ یہ فنڈز اب بدعنوانی کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی عمران خان کو دیگر شعبوں میں بھی اپنی سوچ واضح کرنی ہوگی۔

مثلاً رشتہ داروں اور دوستوں کو ہر ممکن فائدہ پہنچانا ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اپنے رشتہ داروں کے معاملے میں تو عمران خان کا دامن بوجوہ صاف ہے، لیکن کیا وہ اسے اپنے تک محدود رکھیں گے یا اسے اپنی پالیسیوں کا حصہ بنائیں گے۔

اِسی طرح دوست نوازی بھی میرٹ کی نفی کے مترادف ہوتی ہے، لیکن بعض حلقوں میں بڑی حد تک ایک خوبی سمجھی جاتی ہے۔چند روز پہلے عمران خان نے کہا ہے کہ وہ برسر اقتدار آ کر پنجاب کے گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چلا دیں گے۔

انگریزی دور کی ان یادگاروں کی طرف انہوں نے اشارہ کیا ہے، لیکن گورنر ہاؤس پر بلڈورز چلانے کی ضرورت نہیں،بلکہ اس کے اچھے استعمال کی ضرورت ہے اور پھرصرف پنجاب کے گورنر ہاؤس کی بات کافی نہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ضلع کی سطح پر سرکاری افسروں کی رہائش گاہوں جو دس دس،بیس بیس کنال پر محیط ہیں، کے بارے میں بھی کوئی واضح پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں وی آئی کلچر کا بڑا ذکر ہوتاہے۔ وزیراعظم وزیراعلیٰ کے ساتھ گاڑیوں کی لمبی قطاروں کو دیکھ کر غم و غصے کا اظہار ہوتاہے۔ ہیلی کاپٹر کے دوروں کی بھی بات کی جاتی ہے۔ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ایک مقبول نعرہ ہے ، لیکن یہ نعرہ سراسر منافقت پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔

وی آئی پی بننے کی خواہش سب کے اندر انگڑائیاں لے رہی ہوتی ہے۔ وزیراعظم بننے کی صورت میں ان معاملات پر عمران خان کا رویہ کیا ہو گا؟ عمران خان نے اب تک صرف مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس اور نوجوانوں کو متاثر کیا ہے یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ وہ اپر کلاس کو ووٹنگ باکس تک لے آئے ہیں، کیونکہ یہ کلاس تو اپنے ڈرائنگ رومز میں دانشوری بگھارنے تک محدود تھی ووٹ ڈالنا ان کے نزدیک چھوٹے لوگوں کا کام تھا۔

یہ کلاس ظاہر ہے معاشرے میں بڑی اہمیت رکھتی ہے، لیکن سائز کے اعتبار سے اتنی بڑی نہیں کہ صرف اس کے ووٹ سے کوئی برسر اقتدار آجائے۔ پی ٹی آئی کو دوسرے طبقوں مثلاً مزدوروں اور کسانوں میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کامیابی کے پیچھے کوئی ایک طبقہ نہیں تھا،بلکہ انہیں طالب علموں، کسانوں اور مزدور طبقے کے علاوہ اقلیتوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک اس لحاظ سے ابھی محدود ہے، لہٰذا اسے اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اب تک ملک پر مختلف طریقوں سے اشرافیہ ہی حکمران چلی آرہی ہے اور ظاہر ہے حکومتوں کی پالیسیاں اپنی کلاس کے حق میں ہوتی ہیں خواہ حکمران سیاسی ہوں یا فوجی، کسی نے اس پالیسی سے ہٹ کر کام نہیں کیا۔ پالیسیوں میں تبدیلی صرف نمائشی ہوتی ہے۔

عملی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ہر کسی نے اپنی کلاس کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے غریب اور لوئرمڈل کلاس کے لوگوں کا نام کبھی کبھار تبرک کے طور پر لے لیا جاتا ہے۔ کیا عمران خان بھی انہی کی طرح باتوں سے کام چلائیں گے یا پالیسیوں میں کوئی حقیقی تبدیلی لا سکیں گے؟ مثلاً اس وقت سول اور فوجی بیورو کریسی اور عدلیہ میں رہائشی پلاٹوں کی صورت میں جو نوازشات کاکلچر زوروں پرہے، کیا پی ٹی آئی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی کرنے کی ہمت کرے گی۔

ہمارا نظام تعلیم بنیادی مسائل کا شکار ہے ہم تعلیم کے شعبے میں معاشرے میں تین طبقے پیدا کر رہے ہیں ایک طبقہ دینی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر رہا ہے دوسرا انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھ رہا ہے اور تیسرا طبقہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہے۔

ان تینوں طبقوں میں بعد المشرقین ہے یہ ہمارے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے کیا اس طرح ہم ایک قوم بن سکتے ہیں ۔ میرے خیال میں ہم تضادات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عمران خان نے اس موضوع پر کئی دفعہ خیالات کا اظہار کیا اور ایک نظام تعلیم کی بات کی ہے، لیکن کیا وہ برسر اقتدار آکر اس شعبے میں کوئی قابل ذکر عملی اقدامات کر سکیں گے۔

جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں دینی مدرسوں کو امریکہ کے دباؤ پر قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی تھی، امریکہ نے اس مقصد کے لئے فنڈز بھی فراہم کئے تھے، لیکن یہ کوشش ادھوری رہی۔ ناکام طرزِ حکمرانی کی وجہ سے پبلک سیکٹر میں قومی ادارے مثلاً سٹیل مل، پی آئی اے، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان وغیرہ بہت بری حالت میں ہیں اور خزانے پر ایک بوجھ ہیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے ان اداروں کی بحالی کی کوششیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں، کیونکہ موجودہ حالات میں انہیں منافع بخش بنانا ناممکن ہے اور ان کی نجکاری کے سلسلے میں یونینز اور سیاسی پارٹیاں خصوصاً پیپلز پارٹی ایک رکاوٹ ہیں۔ پی ٹی آئی کے پاس اس معاملے کا کیا حل ہے اس پر بھی انہیں اپنی پالیسی واضح کرنی چاہئے۔

پاکستان ٹیلی وژن ،ریڈیو پاکستان اور اے پی پی قومی ادارے ہیں اور عام شہریوں کے پیسے سے چل رہے ہیں، لیکن عملی طور پر حکومت وقت کے ترجمان بن چکے ہیں۔ خصوصاً خبروں کی پالیسی پر اب تک سیاسی اور فوجی حکومتوں کے درمیان حیرت انگیز اتفاق رائے دیکھتے میں آیا ہے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً اس یک رنگی اور حکومتی اجارہ داری پر احتجاج سننے میں آیاہے، لیکن نصف صدی گزرنے کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی کیا عمران خان قوم سے وعدہ کریں گے کہ وہ اِن اداروں پر سرکاری کنٹرول ختم کرکے انہیں آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حوالے کر دیں گے اورپی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک عوامی ادارہ بنائیں گے ۔

عمران خان طرز حکمرانی کے معاملے میں اکثر برطانیہ کی مثال دیتے ہیں۔ برطانیہ میں اپوزیشن لیڈر اپنی شیڈوکیبنٹ بناتا ہے اس سے ایک تو ووٹرز کو اس کی ٹیم کا پتہ چل جاتا ہے اور دوسرے شیڈو منسٹر اپنے اپنے شعبوں پر نظر رکھتے ہیں اور یوں متعلقہ شعبہ میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں، کیونکہ آج کے دور میں حکمرانی کافی پیچیدہ کام ہے اور ایک ناتجربہ کار وزیراعظم یا وزیر اپنے دائرہ کار میں کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکتا،بلکہ اکثر وزیر صرف نمائشی ہوتے ہیں کیا عمران خان شیڈوکیبنٹ کا اعلان کرنے کی ہمت کریں گے؟ایک زمانہ تھا کہ سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی نظریے کی حامل ہوتی تھیں، لیکن اب بات گڈ گورننس تک محدود ہے۔

نظریہ خواب و خیال ہو گیا، پارٹیاں اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کرتی تھیں، لیکن اب منشور کا ذکر بھی سننے میں نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ عنقریب پارٹی کا منشور پیش کرے گی۔ عمران خان آپ بھی اپنا منشور عوام کے سامنے لائیں، کیونکہ آپ تو فوری الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، لہٰذا وقت کم ہے۔

مزید :

رائے -کالم -