پاکستان پیپلز پارٹی، مستقبل کی پالیسی؟

پاکستان پیپلز پارٹی، مستقبل کی پالیسی؟
 پاکستان پیپلز پارٹی، مستقبل کی پالیسی؟

  


جنرل ضیاء الحق کی دنیا سے رخصتی کے بعد جب انتخابات ہوئے، 1988ء کی قومی اسمبلی وجود میں آگئی، پاکستان پیپلز پارٹی کو سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت مل گئی، مسلم لیگ کی نشستیں بھی معقول تھیں، یہ انتخابات سپریم کورٹ سے بیگم نصرت بھٹو کی رٹ پر فیصلے کی روشنی میں پارلیمانی جمہوریت کے تحت ہوئے تھے، اس سلسلے میں یہ امر بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف مرزا اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت بھی دیا تھا کہ ان انتخابات کے انعقاد اور اس کے بعد حکومت سازی کے وقت بھی ان کا کردار تھا، بہر حال وفاق میں کشمکش کے باوجود محترمہ کو حکومت بنانے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھالیا، اس سلسلے میں ایک عرصہ تک یہ بحث بھی ہوئی کہ محترمہ کو حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنا چاہئے تھا کہ اس کے بعد ہونے والے انتخابات کی تیاری ہوتی اور وہ بھاری اکثریت سے جیت جاتیں،تاہم اس حوالے سے ایک دوسرا نقطہ نظر خود محترمہ اور ان کے ہم خیال پارٹی راہنماؤں کا بھی تھا، مرحوم ڈاکٹر جہانگیر بدر نے خود ہم سے یہ کہا کہ پارٹی کے کارکن جدوجہد اور تحاریک سے بہت تھک چکے ہیں، ان کو کچھ آرام اور وقفے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ تازہ دم ہوسکیں، اس حوالے سے ہمارے دوست طارق خورشید کے مطابق محترمہ نے خود ان سے کہا تھا کہ وہ اسیر پارٹی راہنماؤں اور کارکنوں کی جلد رہائی چاہتی ہیں چنانچہ جب وہ برسر اقتدار آگئیں تو سیاسی بنیادوں پر جیلوں میں قید کارکنوں کو بھی نجات مل گئی تھی، طارق خورشید بھی ان میں سے ایک ہیں اور خود ان کے بقول وہ آٹھ سال تک جیل میں رہے اور محترمہ کے برسراقتدار آنے کے بعد ہی ان کی گلو خلاصی ہوئی تھی۔

ایسی گفتگو اب بھی ہورہی ہے تاہم اب سوال 2008ء اور اس کے بعد 2013ء کے عام انتخابات کے حوالے سے کیا جاتا ہے، پوچھا جاتا ہے کہ 2008ء میں سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت سے اقتدار ملا اور یہ محترمہ کے بغیر تھا کہ وہ اس سے گئے سال 27دسمبر 2007ء کو شہید کردی گئی تھیں، آصف علی زرداری کی قیادت میں ہی عام انتخابات میں حصہ لے کر سنگل اکثریتی جماعت کی حیثیت اور پھر اقتدار ملا، یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم اور خود آصف علی زرداری صدر منتخب ہوئے، یوسف رضا گیلانی کو عدالتی فیصلے کی رو سے گھر جانا پڑا اور باقی وقت کے لئے راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم رہے، پارٹی کے سنجیدہ فکر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک غیر مرئی مصالحت کے تحت وقت گزارا گیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے پانچ سال پورے کئے اور پھر الیکشن کے نتیجے میں پارٹی کو 2013ء میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور تب سے مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار ہے، بقول شخصے یہ عرصہ باہمی طور پر سمجھوتے کے تحت دوستانہ اپوزیشن کرکے گزارا گیا، اس کا سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کو مزید نقصان پہنچا اور اب صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے دیہی حلقوں کی نمائندگی کے طور پر سمٹ کر سندھ تک محدود ہوگئی کسی اور جگہ اس کی نمائندگی نہیں ہے، اب پھر نئے انتخابات کا غلغلہ ہے تو پیپلز پارٹی نے مفاہمانہ سیاست ترک کرکے مخالف جماعت کے طور پر خود کو ابھارنا شروع کیا، نوجوان بلاول بھٹو زرداری ان کے ساتھ ہیں اور اب پارٹی حزب اختلاف کا کردار بخوبی نبھانے پر تیار اور آمادہ ہے آصف علی زرداری جن کی ہدائت پر 2014ء کے دھرنے کے وقت حکومت وقت کا ساتھ دیا گیا اب خود کنٹینر والے ڈاکٹر طاہر القادری کی مہم جوئی میں حصہ دار بننے کو تیار ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری بھی لحاظ کرتے ہیں۔

چنانچہ انہوں نے آصف علی زرداری کی مصروفیات ہی کوپیش نظر رکھ کر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس کو دو تین روز کے لئے موخر کیا، اسی طرح ملاقات بھی ملتوی ہوئی جو اب 29دسمبر کو متوقع ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کل جماعتی کانفرنس کے لئے 28تاریخ مقرر کی تھی یہ اس لئے آگے کردی گئی کہ آصف علی زرداری بھی شرکت کرسکیں، چنانچہ کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی گزشتہ روز (27دسمبر) محترمہ کی برسی تھی یہاں سے فرصت کے بعد آصف علی زرداری لاہور آکر ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کریں گے جو کل(29دسمبر) ہونا طے پائی ہے۔ یہ فیصلہ نو ڈیرو میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ پر ہونے والے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، بہر حال اس برسی پر بھی یہ سوال تو ضرور ہوا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں کتنی پذیرائی حاصل کرے گی آصف علی زرداری برسراقتدار آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم پارٹی کے کردار کا بھی تو ذکر ہوتا ہے پوچھا جاتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کارکردگی کیا ہوگی؟ آصف علی زرداری فرماتے ہیں، پیپلز پارٹی جیتے گی لیکن سائنسی انداز سے تجزیہ نہیں کیا جاتا اب بھی بی، بی کے یوم شہادت پر ایسے ہی دعوے کئے گئے ہیں، لیکن جماعت کے عمل کی حیثیت یہ ہے کہ پارٹی کے میڈیا (معہ سوشل) سیل والے نابغے یہ سمجھتے ہیں کہ مخالف نقطہ نظر والی تحریریں ان کے بلاگ پر روک لی جائیں تو پارٹی کو فائدہ ہوگا یہ ان کا فلسفہ تو آنکھیں بند کرنے والا ہے، محترمہ بے نظیر بھٹو تو میڈیا سے تعلق رکھنے کی قائل تھیں مخالف ہو یا موافق، یہ امران نابغوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا، ایک انجینئر محترم ہیں جنہوں نے فیس بک پر دہائی دی کہ ان کی چالیس سالہ خدمات کو نظر انداز کیا گیا اور میڈیا( سوشل) سیل والوں نے ان کا بائیکاٹ کردیا ان کو گروپ میں سے نکال دیا ہے اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ پارٹی کاز کو چایس سال سے بلند کررہے ہیں، لیکن اب ان کو یہ انعام دیا گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم