فاٹا اصلاحات اور ہماراقومی رویہ

فاٹا اصلاحات اور ہماراقومی رویہ
 فاٹا اصلاحات اور ہماراقومی رویہ

  

سیاسی قیادت کی بے ثباتی نے فاٹا اصلاحات جیسے حساس معاملہ کو روایتی طور طریقوں میں الجھا کے ہمارے اجتماعی مصائب میں ایک نئے تنازعہ کا اضافہ کر دیا،کالا باغ ڈیم کے بعد اب فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا عمل بھی سیاسی عداوتوں،دوطرفہ الزام تراشیوں اور سازشی تھیوریز کی نذر ہو جائے گا،ہمیشہ کی طرح آج بھی کوئی نادیدہ قوت میڈیا کی مدد سے جذباتی فضاء بنا کے خانہ ساز فیصلوں کو مسلط کرنے کی کوشش میں قوم کے اجتماعی شعور کو ٹھکرا رہی ہے،سچ پوچھئے تو جلدی میں فیصلے کرنے والے ہی دیر تک کف افسوس مَلتے ہیں،خدشہ ہے کہ یہی رویہ مملکت کو کسی ناقابل برداشت المیہ سے دوچار نہ کر دے۔

قومی سلامتی سے جڑے ایسے حساس معاملات جو طویل بحث و مباحثہ اور وسیع تر قومی اتفاق رائے کے متقاضی ہوتے ہیں،انہیں سواد اعظم کی نظروں سے اوجھل رکھ کے نمٹانا خلاف عقل ہو گا اور یہی اخفا بداعتمادی کا سبب بھی بنے گا۔مو لانا فضل الرحمن سمیت کئی کہنہ مشق سیاست دان جب انہی بیمار سوچوں کے مضمرات کی نشاندہی کرنے کے علاوہ فاٹا کے مستقبل کا تعین کرنے جیسے حساس معاملات کو وسیع تر مشاورت اور قومی اتفاق رائے سے سلجھانے کی بات کر کے ملک و قوم کو نادیدہ مشکلات اور سیاسی پیچیدگیوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے،شاید اسی طرز عمل نے ستر سالوں میں ہمیں قوم نہیں بننے دیا۔

دہشت گردی کی مہیب جنگ کے خونی جبڑوں میں تڑپتے قبائل کے مستقبل بارے کسی بھی فیصلہ سے قبل قبائلی عوام کو مجوزہ اصلاحاتی منصوبوں کے نفع و نقصان سے پوری طرح آگاہ کرنا اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی شمولیت یقینی بنانا فطری تقاضا ہے۔

پچھلی سات دہائیوں میں قومی پالیسیوں اور ملک کے مستقبل بارے کئے جانے والے فیصلوں پہ قومی سطح پر بحث و تمحیص کی اجازت تھی نہ سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنے کی روایت ڈالی گئی،انتہائی اہم نوعیت کے ان فیصلوں کے فوائد و مضمرات سے قوم کو آگاہ نہیں کیا جاتا، جن سے ان کی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے، ریاست کی تمام قوتیں یا تو خود غرضانہ جبریت پہ صرف ہوئیں یا پھر اپنے فیصلوں کے دفاع پہ لگی رہیں۔یہاں مخصوص سوچ کا حامل اقلیتی گروہ اپنے اٹل ارادوں کے متبادل کسی تجویزکو پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے نہ قومی ماحول میں دوسرے نقطہ ہائے نظر کے لئے گنجائش چھوڑی جاتی ہے،بدقسمتی سے کشمیر اور بلوچستان کے سلگتے ایشوز ہوں یا جنگ دہشت گردی کا معاملہ،مڈل ایسٹ اور افغانستان کے تنازعات ہوں یا خارجہ پالیسی کی تشکیل،اگر ان ایشوز پہ کوئی قومی لیڈر متبادل تجاویز سامنے لائے تو ایک بپھرا ہوا گروہ ان کی نیت پر حملہ زن ہونے کے علاوہ میڈیا کی مدد سے انہیں بیرونی ایجنٹ اور وطن دشمن قرار دیکر ایسے فکری مغالطے پیدا کرتا ہے جو مدتوں قوم کو باہمی نفرتوں کی آگ میں جلاتے رہتے ہیں،ایک تو ہمارے تجزیہ کاروں کا تنقیدی شعور غیر ہمدردانہ ہے دوسرا وہ ایسے بیکار دعوے کر گزرتے ہیں جنہیں اگر مروجہ پیمانوں پہ جانچنے کی کوشش کی جائے تو جھلا اٹھتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے اسی رجحان نے پچھلے ستر برسوں میں من مانے فیصلے مسلط کر کے ملک کو دو لخت اور سیاسی نظام کو نا قابل عبور مشکلات سے دوچار رکھا۔فاٹا ریفارمز کے حوالے سے وفاقی حکومت کے سرتاج عزیز کمیشن نے قبائلی عمائدین اور عوام سے مشاورت کا جو طریقہ کار اختیار کیا وہ اگرچہ متنازعہ تھا ،لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے اصلاحات بارے جو تین چار ایشوز فریم کئے وہ منطقی طور پہ قبول کر لئے گئے،جن میں پہلا فاٹا کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی،تعلیم،صحت،قانون اور انتظامی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے قبائلی علاقوں کو بتدریج قومی دھارے میں لانا،دوسرا فاٹا کو الگ صوبہ کا درجہ دینا اور تیسرا وہاں منتخب کونسل کے قیام کے بعد فاٹا کو مرحلہ وار خیبر پختونخوا میں ضم کرنے جیسی صائب تجاویز شامل تھیں، تجاویز کی معقولیت کے پیش نظر نواز شریف کی وفاقی کابینہ نے فاٹا میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ ان تمام تجاویز کو پانچ سال تک پبلک بحث مباحثے کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا، تاکہ لمبے غور و فکر کے بعد خیبر پختونخوا اور قبائلی عوام کی آزادانہ رائے سے ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی راہ نکالی جائے، لیکن افسوس کہ کسی پر اسرار قوت نے اس مساعی کو بلڈوز کر کے میڈیا کی یلغار سے پبلک کے اذہان کو یر غمال بنا کر نہایت جلد بازی میں انضمام کی تجویز پر فوری عملدرآمد کرانے کی مہم چلائی،جس سے کئی سنجیدہ سوالات اور سیاسی تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔

بلاشبہ صرف مولانا فضل الر حمن ہی ایک ایسے بالغ النظر قومی لیڈر ثابت ہوئے جس نے جذبات کے اس بہتے دھارے کے سامنے سینہ سپر ہونے کا فیصلہ کیا اور ویژنری قائد کی مانند ایک متبادل نقطہ نظر لیکر سامنے آئے، انہوں نے فاٹا ریفارمز جیسے انتہائی حساس معاملہ کے لئے سر جوڑ کے بیٹھنے اور قومی امور کو بین الاقوامی طور پہ مسلمہ معیارات اور صدیوں سے آزمودہ طریقوں سے سلجھانے کی بات کی تو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے کرایہ کے دانشوروں نے ان کی نیت پہ حملے شروع کر دیئے اور میڈیا کے ذریعے ان کی کردار کشی کی مہم چلائی گئی،انتہائی شرمناک طریقہ سے ایک نہایت ہی معتبر سیاست دان کے خیالات کو وطن دشمنی اور ملت فروشی پر محمول کر کے بدگمانیاں پیدا کی گئیں،ہاں، یہی وہ طرز عمل ہے جس نے پون صدی سے اس قوم کو باہمی اعتماد کے فقدان اور سیاسی بحرانوں میں مبتلا رکھا،ایک ایسا رویہ جس سے ہم اجتماعی دانش کو بروئے کار لانے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو خود سے مختلف انداز میں سوچنے والے اہل وطن کو ملک دشمن ثابت کرنے پر صرف کرتے ہیں۔

حیرت ہے کہ ایک ایسا ایشو جس سے ملک و قوم کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہو اس پر وسیع بحث و تمحیص جیسا معقول مطالبہ کیوں ہضم نہیں ہوتا،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ معاملہ زیر غور کے تمام پہلووں کا اچھی طرح جائزہ لینے کے علاوہ قبائلی علاقوں کے ماہرین سے متبادل تجاویز مانگی جاتیں، لیکن نصف صدی تک فاٹا میں خدمات سر انجام دینے والے کہنہ مشق افسران اور قبائل کے بہترین دماغوں کو فاٹا اصلاحات سے لا تعلق کر کے اس حساس ایشو کو انتہائی تنگ نظر اور نا تجربہ کار ٹی وی اینکرز کے سپرد کر دیا گیا جو خود نہیں سوچتے ،بلکہ مقتدرہ کے چبائے ہوئے لقموں کو چبانے میں عافیت تلاش کرتے ہیں۔

رائے عامہ کا درست ادارک کئے بغیر قومی نوعیت کے فیصلوں کے منفی اور مثبت اثرات بجائے خود سیاسی جماعتوں کے مستقبل کومتاثر کر سکتے ہیں،ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے افلاطون آصف علی زرداری نے اے این پی کے ساتھ سیاسی رومانس کی لہر میں بہہ کر رائے عامہ کا درست ادراک کئے بغیر بالائی سطح پر این ڈبلیو ایف پی کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھنے کی غلطی کر کے اس صوبہ میں اپنی پارٹی کو زندہ درگور کر ڈالا، 2013 ء کے الیکشن میں پختونخوا نام رکھنے کی مخالف خاموش اکثریت نے پیپلزپارٹی کو عبرتناک شکست سے دوچار کر کے ایسا انتقام لیا، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی،اے این پی حکومت نے اس فیصلہ کے جبری اطلاق کی خاطر ہزارہ ڈویژن میں سات لاشیں گرا کے جو خونی لکیر کھینچی اس کے ہولناک اثرات مدتوں ان کا تعاقب کریں گے، اب اگر مسلم لیگ نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ ہزارہ میں اسے شدید ترین عوامی نفرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا،لاریب،اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن کا طرز عمل زیادہ لاجیکل اور دانشمندانہ ہے، انہوں نے عقل اجتماعی کو بروئے کار لانے کی خاطر فاٹا کے مستقبل بارے فیصلہ سازی کے عمل میں قبائلی عوام کی شمولیت کا موقف اپناکے فتح و شکست دونوں صورتوں میں اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ کر لیا،اگر حکومت نے رائے عامہ کو بلڈوز کر کے من مانے فیصلے کر بھی لئے تو مولانا فضل الرحمٰن اپنے اصولی موقف کی بدولت خیبر پختونخوا اور قبائلی عوام کے سامنے سرخرو ہوں گے اور عام انتخابات میں دونوں جگہوں پر انہیں بے مثال کامیابی ملے گی۔

مزید :

رائے -کالم -