عوام کا لاڈلا بھی کوئی ہے؟

عوام کا لاڈلا بھی کوئی ہے؟
عوام کا لاڈلا بھی کوئی ہے؟

  


آج کل نواز شریف اور عمران خان میں مقابلہ بیت بازی جاری ہے، دونوں ایک دوسرے کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں،اس سے آصف علی زرداری کو تکلیف ہوتی ہو گی کہ یہ دونوں مجھے کیوں بھول گئے ہیں،مَیں بھی تو ایک بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں۔

چند روز پہلے گیدڑ کے خطاب نے سیاست کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا اور نواز شریف بمقابلہ عمران خان میں اس لفظ کو خاصی اہمیت مل گئی تھی۔ اب نواز شریف نے عمران خان کو لاڈلا کا خطاب دیا ہے،جواب میں عمران خان کہاں چپ رہنے والے تھے،عمران خان نے سیدھا نام لے کر نواز شریف کے سرپرست اعلیٰ کی نشاندہی کر دی،مَیں تو یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا ہوں کہ مُلک کے دو بڑے رہنما کس سطح کی لڑائی لڑ رہے ہیں، معاف کیجئے مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے گلی محلے کی عورتوں والی لغت نے ہمارے اِن رہنماؤں کو گھیر لیا ہے۔

عوام سب جانتے ہیں کہ کون کس کا لاڈلا رہا ہے اور آج کل کس کا ہے۔ تاریخ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، نہ ہی نواز شریف اپنے ماضی سے انکار کر سکتے ہیں اور نہ عمران خان ماضی کی حقیقتوں سے جان چھڑا پائیں گے، سو یہ سب تو ساتھ ساتھ چلنے والی چیزیں ہیں،مگر صاف لگ رہا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کے پاس بے شمار ایشوز ہونے کے باوجود اُن پر سیاست کرنے کی فرصت نہیں،اُن کی لڑائی تو بس شخصی خوبیوں اور خامیوں پر ہے۔

نواز شریف کو اپنے خلاف آنے والا فیصلہ ہضم نہیں ہو پا رہا۔اب جب سے عمران خان کے حق میں فیصلہ آیا اُن کی سوئی اِس نکتے پر اٹک گئی ہے کہ اُنہیں کیوں اہل قرار دیا گیا اور مجھے نااہل کیوں کیا گیا ہے، کچھ ہی عرصہ پہلے اُن کا اور وزراء کا بیانیہ یہ تھا کہ عمران خان کا نواز شریف سے کیا مقابلہ،کہاں تین بار وزیراعظم بننے والا رہنما اور کہاں عمران خان، جس نے سوائے کرکٹ کے زندگی میں کچھ نہیں کیا،مگر آج خود نواز شریف عمران خان کا بار بار حوالہ دے کر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ انہیں اپنا مقابل سمجھتے ہیں۔

سیاسی مقابل تو شاید وہ دِل سے اب بھی نہ سمجھتے ہوں۔ البتہ اِس حوالے سے مقابل ضرور سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے انہیں نااہل کیوں نہیں کیا، نواز شریف کو کیوں کر دیا،حالانکہ کیس تو ایک ہی نوعیت کا تھا۔یہ کہتے ہوئے وہ اپنے تین مرتبہ کے اقتدار کو بھول جاتے ہیں۔

صاحبو! پاکستان واحد جمہوری ملک ہے،جہاں یہ کوئی نہیں کہتا کہ مَیں عوام کا لاڈلا ہوں، نہ ہی کوئی بننا چاہتا ہے، سب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یا تو امریکہ کی آنکھ کا تارا بن جائے یا پھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ۔

یہ اسٹیبلشمنٹ بھی صرف فوج کا نام ہے، باقی پردہ ڈالنے کے لئے کچھ بھی کہا جاتا ہے،جس ملک میں تیس سال تک مارشل لاء رہا ہو،اُس ملک کے سیاست دان اگر یہ طعنے دیں کہ فلاں لاڈلا ہے اور فلاں نہیں، تو حیرت ہوتی ہے، سوائے بے نظیر بھٹو کے ملک کا کون سا سیاست دان ہے، جو فوج کے سہارے سیاست میں نہ آیا ہو۔

بے نظیر بھٹو چونکہ ایک ایسے باپ کی بیٹی تھی، جو ایک آمر کے ہاتھوں تختہ دار پر چڑھ گیا، اِس لئے وہ ایسا کوئی راستہ اختیار نہیں کر سکتی تھیں جو بھٹو کی شخصیت سے لگا نہ کھاتا ہو۔ نواز شریف تو جب سیاست میں داخل ہوئے وہ ضیاء الحق کی آمریت کا دور تھا۔

اُن کی سیاست کو جس تیزی سے اقتدار میں آنا نصیب ہوا، ایسا تو کسی کوبھی نہیں ہوا، بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ انہوں نے تو سیاسی آنکھ ہی اقتدار میں کھولی۔ اب یہ بہت عجیب بات ہے کہ وردی والوں کی آشیر باد سے سیاست میں آنے والے نواز شریف کی بعدازاں وردی والوں سے کبھی نہیں بنی۔

اس ’’لڑائی‘‘ میں انہوں نے اپنی حکومتیں بھی گنوائیں اور جلا وطنی پر بھی مجبور ہوئے۔اب آج بھی اُن کا یہی بیانیہ ہے کہ انہیں ماضی کے وزرائے اعظم کی طرح وقت سے پہلے اقتدار سے نکال دیا گیا۔یہ وہ صورتِ حال ہے جس کی وجہ سے کل کا لاڈلا آج کل معتوب کردار نظر آتا ہے۔

دوسری طرف عمران خان ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کی۔ جنرل(ر) ظہیر الاسلام اور جنرل(ر) پاشا کے حوالے سے بھی اَن گنت کہانیاں اُن سے منسوب کی جاتی رہیں کہ وہ اُن کے اشاروں پر چلتے ہیں۔

اسلام آباد میں تحریک انصاف نے دھرنا دیا تو نجانے کس ترنگ میں عمران خان امپائر کی انگلی اُٹھنے کا اعلان کر گئے، پھر کیا تھا، اُس انگلی کی وجہ سے اُن پر مسلم لیگ(ن) نے پکا لیبل لگا دیا کہ وہ فوج کے اشارے پر سب کچھ کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا عمران خان کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد فرق صرف یہ پڑا ہے کہ نواز شریف عمران خان کو فوج کی بجائے اب عدلیہ کا لاڈلا کہہ رہے ہیں۔

ہم تو پچھلی کئی دہائیوں سے سنتے آئے ہیں کہ کوئی چاہے فوج کا لاڈلا ہو یا اسٹیبلشمنٹ کا، وہ جب تک امریکہ کی آنکھ کا تارا نہیں بنے گا، اقتدار میں نہیںآ سکے گا۔یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکیوں کی آنکھ کا تارا بننے کے لئے ہماری سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں نے امریکہ میں مہنگی ترین لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کیں،اپنے آپ کو امریکہ کا وفادار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، زیادہ دور نہ جائیں یہ دیکھیں کہ چند روز پہلے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے سینیٹ میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے اُن پر تنقید کی تو پیپلزپارٹی نے فوراً رضا ربانی کے بیان ہی سے نہیں،بلکہ اُن سے بھی قطع تعلق کا یہ کہہ کر اعلان کر دیا کہ جب وہ سینیٹ کے چیئرمین بنے تھے تو انہوں نے پارٹی سے استعفا دے دیا تھا۔

جب امریکہ کے حوالے سے احتیاط کا عالم یہ ہو تو بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کی ہماری سیاست میں اہمیت کیا ہے،اِس لئے لاڈلا بننے کی کاوشیں صرف اندرونِ ملک ہی نہیں، بیرونِ ملک بھی جاری رکھنی پڑتی ہیں۔

نواز شریف کی حالت دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اندرون و بیرون ملک کی سب طاقتوں کے لاڈلے نہیں رہے؟ وہ جس راہ پر چل نکلے ہیں، وہ تو تخت یا تختہ والی ہے، وہ تو موجودہ نظام عدل کو مانتے ہیں اور نہ اسٹیبلشمنٹ کو تسلیم کرنے پر راضی ہیں۔

انہوں نے ووٹ کے تقدس کی بحالی کا جو بیانیہ اختیار کیا ہے، وہ اِس قدر مبہم ہے کہ اُس کے جتنے چاہیں معانی نکال لئے جائیں، اُن کے خیال میں جسے عوام ووٹ سے منتخب کریں اُسے کوئی نہیں نکال سکتا، چاہے ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی اُس کے خلاف فیصلہ نہ دیدے۔ اگر کوئی اُن سے پوچھے کہ ایسا دُنیا میں کہاں ہوتا ہے تو وہ جواب نہیں دے پائیں گے،لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ اب پاکستان میں ایسا نہیں چل سکتا۔

مَیں بہت عرصے سے اِس سوال میں اُلجھا ہوا تھا کہ پاکستانی جمہوریت کی آخراصل خرابی کیا ہے،کیوں یہ جمہوریت وہ نتائج نہیں دے پا رہی جو اکثر جمہوری ممالک میں نظر آتے ہیں۔ سچی بات ہے جب سے نواز شریف اور عمران خان نے ایک دوسرے کو لاڈیا ہونے کے طعنے دیئے ہیں،مجھے اس کا جواب مل گیا ہے،جس جمہوریت میں سیاست دان یا حکمران یہ نہیں سمجھیں گے کہ وہ عوام کے لاڈلے ہیں،اُس جمہوریت سے عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔

بھٹو نے جب اپنی پارٹی بنائی تھی تو اُس کے بنیادی نکات میں یہ نکتہ بھی شامل کیا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ گویا سیاست دانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اُنہیں صرف عوام کی خوشنودی ہی یہ مقام عطا کر سکتی ہے، مگر یہاں تو عوام کا کوئی لاڈلا بننا ہی نہیں چاہتا۔

سب کو علم ہے کہ عوام صرف مٹی کے مادھو ہیں، لائی لگ ہیں، انہیں چکمہ بھی دیا جا سکتا ہے اور دھوکہ بھی، اُن کے ووٹ کی پرچی کو جیسے چاہے اسٹیبلشمنٹ توڑ مروڑ کے رکھ دے۔

عوام کا تو صرف نام استعمال ہوتا ہے، فیصلے امریکہ، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی تثلیث کرتی ہے۔ اس سوچ نے ہماری جمہوریت کو عوام دوست نہیں بننے دیا۔ اگر طاقت کا سر چشمہ واقعی عوام بن جائیں اور سیاست دان عوام کی پرچی کے سوا اور کوئی اشارے نہ ڈھونڈیں، اپنا سارا زور اس امر پر لگا دیں کہ انہوں نے عوام کی نظر میں لاڈلا بننا ہے تو ہماری جمہوریت بھی ثمر آور ہو سکتی ہے،پھر ایسا نہیں ہو گا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے عوام کو بھول کر لوٹ مار میں لگ جائیں، پھر کوئی یہ شکوہ بھی نہیں کرے گا کہ پارلیمینٹ بے اختیار ہے، پھر کسی حکمران کو یہ شکوہ بھی نہیں ہو گا کہ اُسے کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔

یہ سب کچھ تو اِس لئے ہے کہ ہماری اسمبلیاں، ہمارے ارکانِ پارلیمینٹ، ہمارے حکمران، ہمارے سیاست دان عوام کے لاڈلے نہیں ہیں،بلکہ عوام کے لاڈلے بننا ہی نہیں چاہتے وہ تو کوئی خفیہ ہاتھ ڈھونڈتے ہیں جو اُن کی پشت پر تھپکی دیتا رہے۔

عوام ہر بار جوش و جذبے سے انہیں ووٹ دے کر اسمبلیوں اور اقتدار میں پہنچاتے ہیں،مگر وہاں پہنچ کر وہ عوام سے قطع تعلق کر لیتے ہیں اور اُن کی ساری توجہ کسی اور کو خوش رکھنے پر مرکوز ہو جاتی ہے تاکہ باغباں بھی خوش رہے اور راضی رہے صیاد بھی۔

مزید : رائے /کالم