بیکاری ء جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل!

بیکاری ء جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل!
 بیکاری ء جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل!

  


مجھے معلوم نہیں میرے دوسرے ہم قبیلہ حضرات کیا سوچتے ہیں لیکن میں نے کئی بار سوچا ہے کہ آخر کالم نویسی کا فائدہ کیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس ایکسرسائز کا مقصود لوگوں کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے؟۔۔۔ لیکن لوگ جب انفارم اور ایجوکیٹ ہونا ہی نہ چاہیں اور یہ کہیں کہ ہم جاہل اور اَن پڑھ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کیا کریں گے؟

موسلادھار بارش میں بھی اگر آپ کا پیالہ اوندھا ہو تو کیا وہ ہمیشہ خالی ہی نہیں رہے گا؟ سوال پیالے کے لبریز یا خالی ہونے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ پیالہ بدست شخص کا ارادہ کیا ہے۔

ذرا اس جاہل اور اَن پڑھ شخص سے پوچھ کے دیکھیں تو وہ آپ کی طبعیت صاف کر دے گا اور اپنی براہینِِ قاطع سے آپ کو خاموش کر دے گا بلکہ بتانے لگے گا کہ بھرے پیالے کے نقصانات کیا ہیں اور خالی کے کیا فائدے ہیں۔

اگر کوئی کالم نویس یہ سمجھتا ہے کہ وہ زندگی کے بے شمار نظری اور عملی پہلوؤں کی ناتمامی پر اَن اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کروا لے گا جو اس ناتمامی کو تمام کر سکتے ہیں تو یہ بھی کالم نگار موصوف کی ایک شدید غلط فہمی ہوگی۔

کسی صاحبِ اقتدار کو اس وقت تک پرنٹ میڈیا کی طرف جھانکنے کی فرصت نہیں ملتی جب تک وہ مسندِ اقتدار پر فائز رہتا ہے۔ وہ تو جب اقتدار کی کرسی بھی اس سے چھن جاتی ہے اور کرنے کو اور کوئی کام بھی نہیں ہوتا تو تب بھی وہ اخباروں کی طرف نگاہ نہیں اٹھاتا۔

اس کی پہلی ترجیح اپنے کھوئے ہوئے اختیار و اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اور یہ کام تو کوئی کالم نویس نہیں کر سکتا۔ ہاں البتہ موصوف کے عہدِ اقتدار کی خوشامدی باقیات اور گروہِ مفاد پرستاں، روز و شب اس کے در پر حاضری دیتے ہیں اور مشوروں، تجویزوں، پروگراموں اور لگائی بجھائی کے ہزاروں ہتھکنڈے اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔

ایسے میں اس کے لئے اخبار ایک پرزۂ کاغذ کے سوا کچھ اور نہیں رہتا۔ اگر کوئی کالم نویس اس کے سابقہ دور کی کوتاہیوں اور دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کی طرف اس کے دامنِ توجہ کو کھینچنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو موصوف ایک خندۂ استہزا سے اس کی تحریر رد کر دیتا ہے۔۔۔۔ اس کی دانست میں اختیارِ کُل، عقلِ کُل بھی ہے۔۔۔۔ وہ زمانے بیت گئے جب شاہی درباروں میں سعدی و فردوسی کی ادبی عظمت کو سراہا جاتا تھا اور ملافیضی اور میاں تان سین کے علم و فن کی داد دی جاتی تھی۔ آج کے درباروں کے قصیدہ گو شعراء اور نورتنوں نے تو کابینہ کا نیا نام دریافت کر لیا ہے، شعری قصائد کی جگہ نثری قصائد نے لے لی ہے اور طلائی اشرفیوں کی جگہ اونچے اونچے مشاہروں اور بڑی بڑی مراعات نے پا لی ہے!

اگر کوئی کالم نگار ’جرم و سزا‘ کے موضوعات کا سپیشلسٹ ہے تو اس کو عصر حاضر کے پاکستان میں تبدیلیء آب و ہوا کا ادراک ہوناچاہیے۔ نہائت ادب سے گزارش کروں گا کہ اگر عدلیہ کے جج صاحبان، نظامِ عدل کی حدود سے باہر نکل کر انتظامی و انصرامی معاملات کی زبوں حالی کا درماں ڈھونڈنے کی فکر کرنے لگیں تو لیلی ء جمہوریت کے چہرے کا غازہ کیوں نہ اترے؟ سنا ہے کبھی ایک وقت وہ بھی تھا کہ جج صاحبان نہیں، ان کے فیصلے بولتے تھے۔ لیکن اب ای (E) میڈیا جو آ گیا ہے تو گویا ان فیصلوں کو زبانیں مل گئی ہیں۔

اور زبانیں تو آپ جانیں گز گز بھر لمبی بھی ہوتی ہیں، ان کو لگام کون دے؟ ایک فیصلہ ابھی کسی فاضل جج کی زبان سے نکلتا ہے تو اگلے لمحے میڈیا میں طوفانِ بدتمیزی یا باتمیزی کے جھکڑ چلنے لگتے ہیں۔ عوام کے ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ آ گیا ہے۔ وہ بٹن دباتے جاتے ہیں اور ان جھکڑوں اور بگولوں کی شدت و حدّت دور دور تک بکھرنے لگتی ہے۔

اگلی صبح جب اخباروں میں اس موضوع پر کسی کالم نگار کا کوئی کالم چھپتا ہے تو وہ قارئین جو گزشتہ شب، سامعین بن کر درجنوں ٹی وی چینلوں کو کھنگال چکے ہوتے ہیں ان کو مزید کسی تجزیئے اور تبصرے کی حاجت نہیں رہتی۔ وہ کالم کے آغازِ و اختتام پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالتے ہیں اور چبائے ہوئے کو چبانا ضروری نہیں سمجھتے۔

1947ء میں قیامِ پاکستان سے لے کر 2017ء تک کے سات عشروں میں سے ساڑھے چھ عشروں تک فوج کا نام لے کر اس کا ذکر کرنا شجر ممنوعہ گردانا جاتا تھا۔ بعض صحافی اور مبصر اسٹیبلشمنٹ کی آڑ استعمال کیا کرتے تھے تو بعض حساس اداروں کی اوٹ تک اکتفا کر لیا کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ہوا تو سیکیورٹی فورسز کا نام لے لیا کہ اس نام میں پولیس، نیم مسلح فوجی دستے اور فوج سب شامل ہوتے ہیں۔

پھر فوج کو ’’مقدس گائے‘‘ کہہ کر مطلب پورا کیا جانے لگا لیکن جب جمہوریت کا حسنِ عالم سوز کچھ زیادہ ہی حرارت افزاء ہونے لگا تو پھر سیدھے سبھاؤ فوج کا نام لے کر ایک فلڈ گیٹ کھول دیا گیا۔ ٹویٹ نام کی ایک اور نئی بدعت نکل آئی۔

اِدھر کوئی واقعہ ہوا اور اُدھر ٹویٹ پر ٹویٹ آنے لگیں۔ یعنی فقیر نے گلی میں جا کر صدا لگائی تو آس پاس کے سارے مکین باہر نکل آئے اور کہا : ’’بابا جی معاف کرو ریزگاری نہیں ہے‘‘۔۔۔۔ پھر جب سوسائٹی زیادہ شفاف ہو گئی تو ملک کے فاضل چیف جسٹس ہسپتالوں میں جانے لگے اور جس جگہ آبِ نوشیدنی میں زہر کی ملاوٹ کی خبر سنی وہاں خود جا کر بگڑی صورتِ حال کو درست کرنے کی ٹھان لی۔ فرمایا کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری ہے سو عدلیہ اس کو پورا کرکے رہے گی!

پاکستان کی داخلی صورتِ حال کو آج جو چیلنج درپیش ہیں ان کو دیکھتے ہوئے فاضل چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ عزم، مایوس اور بے سہارا لوگوں کے لئے امید اور آس کا گویا ایک بہتا آبشار ہے۔ لیکن بعض اوقات سوچتا ہوں عدلیہ کے پاس قوتِ حاکمہ تو ہے، قوتِ نافذہ نہیں۔

قوتِ نافذہ کے لئے انتظامیہ کی ضرورت ہوگی۔ اور انتظامیہ اگر ہاتھ کھڑے کر دے تو عدلیہ کتنے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریوں، سیکرٹریوں اور ڈائریکٹروں کو حوالہ ء زنداں کرنے کے احکامات صادر کرے گی؟ پھر وہی بات آتی ہے کہ حکم تو دیا جا سکتا ہے، تعمیلِ حکم کی راہ میں ہزاروں حیلے بہانے نکل سکتے ہیں۔ ان میں شائد بعض کا جواز بھی ہو اور بعض کا جواز بالکل نہ ہو لیکن پیاسے عوام کے خالی کپ کو لبوں (Lips) تک لانے کے سفر میں بہت ساری رکاوٹوں (Slips) کا سامنا ہوتا ہے۔۔۔ ان کا مداوا کیا ہوگا؟

ہر ادارے کا اپنا اپنا دائرہ کار و اختیار ہے۔ اس لئے دائرہ اختیار کو دائرہ کار کی مشکلات کا ادراک بھی کرنا چاہیے ۔بعض کام چٹکی بجانے میں پورے ہو جاتے ہیں اور بعض کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کیا آپ نے پاکستان کی 70برس کی تاریخ میں کبھی دیکھا یا سنا تھا کہ پاکستان آرمی کا فورسٹار جنرل جو آرمی چیف بھی ہو وہ سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہو کر گفتگو کا وہی قرینہ اپنائے جس کو پاکستان کے عوام سیاستدانوں کی زبان سے ہزاروں بار سن چکے ہوں اور جس کی اصابت وصداقت پر رتی بھر اعتماد نہ کرتے ہوں۔۔۔ جب کوئی آرمی چیف یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ : ’’اگر فلاں کیس میں آرمی کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی تو میں استعفے دے کر گھر چلا جاؤں گا‘‘ تو ملک کی مجموعی انتظامی، عدالتی اور قانونی صورت حال کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔

اچھی طرزِ حکمرانی کی بنیاد اچھا نظم و نسق ہوتا ہے۔ اپنے اردگرد دیکھئے۔ تمام فطرت (Nature) ڈسپلن کے ایک عالمگیر ضابطے میں بندھی ہوئی نظرآئے گی۔۔۔ اقبال اسی ڈسپلن کو ایک زنجیرِ عالمگیر قرار دیتے ہیں:

نغمہ ء بلبل ہو یا آوازِ خاموشِ ضمیر

ہے اسی زنجیرِ عالمگیر میں ہر شے اسیر

آوازوں میں اگر ڈسپلن نہ ہو تو شور و غل کہلاتی ہیں اور ڈسپلن ہو تو ’’مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش‘‘ بن جاتی ہے۔۔۔ موج اگر دریا میں رہے تو موج ہے اور باہر اچھل کر ساحل پر جا پڑے تو اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ذرا اپنے آس پاس اور اوپر نیچے مظاہرِ فطرت کا تماشا تو کریں۔

آپ کو ہر چیز ایک ضابطے اور ڈسپلن میں بندھی نظرآتی ہے۔ انسان نے جب اجتماعی طرزِ معاشرت کواپنایا تو پہلے آمریت، پھر بادشاہت اور پھر جمہوریت نے جنم لیا۔ اگر ہم جمہوریت کے نظم و نسق کو چھوڑ کر بدانتظامی کو جمہوریت کا حسن کہیں گے تو اپنے آپ کو دھوکا دیں گے۔۔۔ لیکن ہم پاکستان میں ایک عرصے سے یہی کر رہے ہیں۔۔۔اچھی حکمرانی کا فقدان ملک کو آہستہ آہستہ دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ادارے اپنی حدود میں رہنے کے پابند تو کہے جاتے ہیں لیکن کہنے اور کرنے میں جو فرق ہے اس کی طرف ہماری کوئی توجہ نہیں۔

کوئی کسی کی بات نہیں سنتا۔ قوموں کا اندرونی انسلاک (Internal Cohesion)جب بکھرتا ہے تو پورا معاشرہ بکھر جاتا ہے۔ میری اس ناچیز سی تحریر کی طرح کے بھاشن آپ نے کئی بار پڑھے اور سنے ہوں گے لیکن ان پر انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں عمل کرنے یا نہ کرنے کی ذمہ داری عوام سے زیادہ عمّالِ حکومت پر ہے۔

ان عمّال کے فرائض نہ صرف قانون و آئین کے صفحات میں لکھے ہوئے ہیں بلکہ دنیا کے تمام منضبط معاشروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہاں کے معاشرے اپنے میڈیا کی باتوں اور تحریروں کو سنجیدگی سے دیکھتے ،سنتے پڑھتے اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

پرنٹ میڈیا میں ہمہ وقت مجھ جیسے کالم نگاروں کی ایک پوری بٹالین بلکہ بریگیڈ موجود رہتا ہے، جن کی تحریروں کو وہ لوگ درخورِ اعتنا نہیں جانتے جن کے پاس قوتِ نافذہ ہوتی ہے لیکن جو قوتِ حاکمہ کا حکم سن اور پڑھ کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔۔۔ سوچتا ہوں ہم کب تک اس ماحول میں جی سکیں گے؟۔۔۔ ملک کی داخلی صورت حال اگر ابتری اور کنفیوژن کا شکار ہو تو پرنٹ میڈیا کا کالم نگار ملک کی خارجی صورت حال پر کیا لکھے اور کس کے لئے لکھے۔۔۔ کئی بار خیال آتا ہے کہ کالم نویسی گویا بیکاری ء جنوں میں سر پیٹنے کا شغل ہے۔ اس میں ہاتھ اگر نہ بھی ٹوٹیں تو دل جیسا آبگینہ تو ضرور تڑخ جاتا ہے!

مزید : رائے /کالم