تعلیمی انحطاط تعلیمی نظام میں بنیادی خامیوں کا ذمہ دار کون؟

تعلیمی انحطاط تعلیمی نظام میں بنیادی خامیوں کا ذمہ دار کون؟

  

تعلیم وہ شعبہ ہے کہ جو کسی بھی قوم اور معاشرے کی مثبت نمو، بڑھوتری اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تعلیم کی روشنی کے مرہون منت ہی ہے کہ وہ خام ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشی کر انسان کو معاشرے کے لئے کارآمد انسان بناتی ہے اور اسے انسانیت کی بھلائی کی طرف راغب کر کے ترقی کی نئی منازل کی جانب گامزن کرتی ہے، یعنی تعلیم انسانی سوچ کو خوبصورت اور تعمیری بناتی ہے اور اسے ہم نفسوں میں ممتاز حیثیت عطا کرتی ہے۔ آئے روز تعلیمی اداروں اور ان اداروں کے ارباب اختیار کے متعلق منفی خبریں میڈیا پر اجاگر ہوتی ہیں، مثلاً یہ کرپشن کے الزامات پر فلاں سکول کے ہیڈ ماسٹر یا فلاں ادارے کے پرنسپل کی خدمات سکولز ونگ کے سپرد کر دی گئیں یا انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا یا جعلی ڈگری ثابت ہونے پر فلاں استاد کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔ ان پر سکول میں غیر نصابی کتب کی فروخت‘ طلباء سے ناجائز جرمانے وصول کرنے اور دیگر بد عنوانیوں کے الزامات لگتے ہیں‘ جس کی انکوائری مکمل ہونے پر مذکورہ احکامات جاری کئے جاتے ہیں‘‘۔

21ویں صدی میں ہمارے طلباء و طالبات کن کی سرپرستی میں اور کیا تعلیمی مدارج طے کر رہے ہیں؟ اور ہمارے مستقبل کی ذہنی و اخلاقی آبیاری کرنے کی ذمہ داری جن افراد پر عائد ہے‘ وہ کیا خدمات سر انجام دے رہے ہیں‘ اس کی ایک جھلک مذکورہ بالا متن سے ظاہر ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی انتہائی کم ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر نظام میں خرابیاں ہوتی ہیں مگر تعلیمی نظام میں خامیاں ہونے کا صاف مطلب ہے کہ ترقی یافتہ اور با اخلاق قوموں میں آپ کا شمار نہیں ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کچھ بنیادی خامیاں ہیں جن کا تدارک کئے بغیر نہ تو ہم تعلیمی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں اور نہ ہی ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ قوم کہلا سکتے ہیں۔

اس کیلئے سب سے پہلے تو ہمیں ایسے اساتذہ پیدا کرنے ہوں گے کہ جو صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ ہوں اور پھر تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل کے ذہنوں کو جلا بخشنے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ تعلیم کا یہ شعبہ بنیادی توجہ کا متقاضی ہے۔ دیہاتی علاقوں میں تو اساتذہ اور ا ن سے پڑھنے والے طلباء کی علمی استعداد تقریباً یکساں ہے تو ایسے اساتذہ طلباء کو کیا سکھا سکتے ہیں۔ اس لئے حکومتی سرپرستی میں اساتذہ کو تربیت دینے کی ضرورت مسلمہ ہے۔ اس سلسلے میں چند گنے چنے ادارے مثلاً ٹیچرز ریسورس سینٹر اور انسٹیٹوٹ آف ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ ایسے ادارے ہیں جو پروفیشنل اساتذہ پیدا کر رہے ہیں مگر ان اداروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور اس طرح کے مزید اداروں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

پاکستان میں رائج نظام تعلیم اور نصاب تعلیم عالمی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ ہمارے ہاں میٹرک لیول کے طالب علم کی علمی استطاعت مغربی اور دیگر ممالک کے ششم کلاس کے طلباء سے بھی کم ہے ،پھر ہمارے ہاں ایم اے کی ڈگری کو دیگر ممالک میں گریجوایشن سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کیلئے اس شعبہ کو اپ گریڈ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہمارے پبلک سکول صرف کنویں کے مینڈک پیدا کر رہے ہیں۔ ان سکولوں کا نصاب اور نظام تعلیم علم و تحقیق کا دشمن ہے اور حصول علم کی طلب اور پیاس کو جلا بخشنے کی بجائے اسے مقید کرتا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی کے طلباء کی غالب تعداد اپنے مضامین کو ذوق و شوق سے نہیں پڑھتی،ان میں مزید جستجو پیدا نہیں کرتی اور نہ ہی آگے بڑھنے کے جذبے کو مہمیز دیتی ہے۔ اپنے سارے تعلیمی کیرئیر کے دوران اور بعدازاں بھی یہ طلبہ نصابی کتب کے علاوہ سنجیدہ موضوع پر شاید ہی کوئی کتاب پڑھتے ہوں۔ فلسفیانہ اور معاشرتی موضوعات پر مباحثوں کا انعقاد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے طالب علموں کو معاشرتی حالات کا ادراک نہ ہونے کے برابر ہے اور عملی میدان میں قدم رکھتے ہی معاشرتی مسائل کی یلغار ان کے ذہنوں کو شل کر دیتی ہے اور بجائے تعمیراتی کام سر انجام دینے کے وہ انہی مسائل سے نبرد آزما رہتے ہیں۔

ہمارا نصاب تعلیم‘ ٹیکسٹ بکس‘ امتحانی نظام اور اساتذہ کی ٹریننگ ایسے مسائل ہیں کہ جن کے حل کیلئے مقامی اور بین الاقوامی سپیشلسٹ ٹیموں سے مدد لی گئی۔ مگر ان کی تیار کی گئی رپورٹس ‘ تجاویز اور مشورے بھی بالائے طاق رکھ دیئے گئے ہیں۔

سکولوں کا نصاب طلبہ کوتعلیم کی شاہراہ پر گامزن کرنے اور حصول علم کی پیاس بڑھانے میں کلیدی کردار کا حامل ہے اور یہیں پر بنیادی کمزوریاں بھی موجود ہیں۔ یہ نصاب نہ تو صحیح معنوں میں طالب علم پیدا کر رہا ہے‘نہ ہی تعلیم کی جستجو پیدا کرتا ہے اور نہ ہی یہ موجودہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ یہاں صرف طلبہ کو رٹا لگوا کر امتحانات کیلئے تیار کیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ محب وطن پاکستانی پیدا کئے جا رہے ہیں۔ وزارت تعلیم کی جانب سے وضع کردہ اصولوں کے مطابق پانچویں کلاس کی تعلیم مکمل کرنے والے طالب علم کو ہندو مسلم تضادات اور اس کے نتیجے میں قیام پاکستان کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے‘ اسے پاکستان کی دشمن قوتوں کے متعلق جانکاری ہونا چاہیے، عملی طور پر اللہ کے خوف کا اظہار آنا چاہیے،اسے پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم مقاصد کا ادراک ہونا چاہیے‘جہاد اور شہادت کے بارے میں علم ہونا چاہیے‘ قومی ترانہ زبانی یاد ہونا چاہیے اور پاکستان کے حکمرانوں کیلئے تعظیم کا مظاہرہ کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ اس نصاب تعلیم میں حب الوطنی‘ معاشرتی انصاف‘ پاکستان میں مختلف مذاہب کی موجودگی اور برداشت ‘ زبانوں کے تنوع‘ ثقافت‘ درخت لگانے کی اہمیت‘ٹیکسوں کی ادائیگی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم نکات کو بھی شامل کرنا چاہیے جبکہ موجودہ نصاب طلباء کو ذہنی وسعت دینے کے بجائے انہیں اندھے مقلد اور لکیر کے فقیر بناتا ہے۔ سکول کے طلباء کو بیک وقت اردو‘ انگریزی اور عربی زبانیں پڑھائی جاتی ہیں اور اگر ان کی مادری زبان الگ ہے تو اس کی تعلیم بھی ضروری ہے۔ صرف یہ عمل ہی نازک ذہنوں پر بہت زیادہ بوجھ بن جاتا ہے اور تحقیق و جستجو کے در بند کر دیتا ہے۔ اس مسئلہ کا ایک حل تو یہ ہے کہ نصاب تعلیم کی سلیکشن کا کام ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے سپرد کر دیا جائے۔ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ برطانیہ میں ایسا ہوتا ہے اور امریکہ میں ہر سکول اپنا نصاب تجویز کرنے کا اہل ہے۔ بھارت اور ایران کا بھی کوئی قومی نصاب نہیں ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہو رہا ہے تو پاکستان میں بھی اس نظام کو متعارف کروانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

درسی کتب کے اہم مسئلہ پر بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ بورڈ کی جانب سے میٹرک کی تجویز کردہ درسی کتب اور او لیول کے نصاب اور معیار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اگر درسی کتب طلباء کے ذہن اور علم کی جستجو کی خواہش کو جلا نہیں بخشتیں تو ہم انہیں بدل کیوں نہیں دیتے۔ دراصل بے شمار افراد غیر معیاری اور اغلاط سے بھری ہوئی درسی کتب شائع کر کے کثیر منافع کماتے ہیں اور حکومتی سرپرستی میں سکولوں میں ان درسی کتب کی فراہمی ایک قابل افسوس عمل ہے۔ عالمی دباؤ پر کچھ عرصہ قبل حکومت اس امر پر راضی ہوئی کہ پرائیویٹ پبلشرز کو بھی اس میدان میں اترنے کی اجازت دی جائے،مگر پھر ان کتابوں کو منتخب کرنے کی ذمہ داری بھی وزارت تعلیم کو ہی تفویض کی گئی جس سے بہتری کی امیدیں پھر دم توڑ گئیں۔

ہمارا امتحانی نظام بھی فرسودہ اور خامیوں سے بھر پور ہے۔ سارے تعلیمی نتائج کا انحصار امتحانی سسٹم پر ہی موقوف ہے مگر نقل کے رجحان نے لائق اور نالائق طلباء کی پہچان کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ بوٹی مافیا سوالاتی پرچے اور ان کے جوابات مناسب قیمت پر فراہم کر دیتا ہے۔ اس سلسلے میں امتحانات کے دوران تعلیمی کرپشن پر قابو پانے کیلئے پولیس اور آرمی سے بھی مدد لی جاتی ہے مگر یہ مناسب طریقہ کار نہیں ہے۔ بے شک بوٹی مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن وقت کی اہم ضرورت ہے مگر قابل اور لائق طلباء میں پیدا ہونے والی مایوسی کو دور کرنے کیلئے اس مسئلے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اشد ضروری ہے۔

کسی بھی تعلیمی نظام میں امتحانات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ یہ طلباء کی ذہنی و علمی استعداد کو جانچنے کا آئینہ ہوتے ہیں۔ مگر غیر معیاری سوالاتی پرچے‘ غلطیوں کی بھر مار‘ نا اہل اساتذہ کا پرچے چیک کرنا ایسے عوامل ہیں کہ جو امتحانات کے کلیدی کردار کو منفی کر دیتے ہیں۔ لا محالہ ان حالات کا ذمہ دار بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ہے جو کثیر منافع کے باوجود ان خامیوں پر تا حال قابو نہیں پا سکا۔ ماضی میں ’’BISE‘‘ کو ری سٹرکچر کرنے کیلئے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں اور کثیر سرمایہ بھی خرچ کیا گیا مگر یہ سارے منصوبے وزارت تعلیم میں جوں کے توں پڑے ہیں اور عملی طور پر کوئی قدم نہ اٹھایا جا سکا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پاکستان میں صرف وہی اسکول بہتر تعلیم فراہم کر رہے ہیں کہ جو کیمبرج اور لندن سے الحاق شدہ ہیں اور اے لیول اور او لیول کی تعلیم دیتے ہیں۔ علمی آگہی کے ساتھ ساتھ اے لیول اور او لیول کے امتحانات دینے والوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومت کو بھی اس نظام تعلیم کو فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عالمی ماہرین تعلیم کے ذریعے پاکستان میں تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے جو سروے کروائے گئے‘ جو رپورٹس مرتب کی گئیں اور جو تجاویز و مشورے دیئے گئے ان پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے کیونکہ ایک تو ان پر کثیر سرمایہ خرچ کیا گیا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ عمل اگر آج شروع کیا جائے تو اس کے ثمرات تیسری نسل میں جا کر ظاہر ہوناشروع ہوں گے۔ آخر میں یہی عرض ہے کہ ہم نصاب تعلیم‘ معلم اور نظام تعلیم میں بہتری لائے بغیر نہ تو قوم کی نوجوان نسل کا مستقبل سنوار سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان ترقی یافتہ و تعلیم یافتہ مہذب ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی ہر میدان میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں سر اٹھا کر کھڑے ہوں تو ہمیں طلبہ میں تعلیم کے ساتھ تعلیمی آگہی پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ کوئی بھی ذی ہوش اور تعلیم یافتہ انسان اس حقیقت سے مفر اختیار نہیں کر سکتا کہ تعلیم ہی وہ پاکیزہ روشنی ہے جو عقل و شعور اور انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ترقی کے روشن راستے پر گامزن کرتی ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -