حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے

حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے

  

عوام کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور معاشرے کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ معیاری اور خالص غذا کی اہمیت کو اجاگر کر کے اس ضمن میں موثر اقدامات کے ذریعے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انسانی صحت سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں، عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کیلئے جتنے وسائل درکار ہیں، دیں گے۔حکومت نے عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی جیسا مایہ ناز ادارہ بنایا ہے اور عوامی خدمت کے حوالے سے اس ادارے کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں انٹر نیشنل فوڈ سیفٹی نیوٹریشن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں اسلام آباد میں ایک اجلاس کو ختم کر کے اس اہم مجلس میں شرکت کیلئے یہاں پہنچا ہوں، اس سیمینار کی بے حد اہمیت ہے اور اگر میں اس میں شرکت سے محروم رہتا تو یہ غلط پیغام جا سکتاتھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی عوام کو معیاری اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کے لئے مصروف عمل ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب اس اہم محفل میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی جیسے ادارے کے قیام میں 9سال کی کاوشیں شامل ہیں کیونکہ اس حوالے سے نہ تو کوئی قانون تھا اور نہ ہی اس بارے میں زیادہ آگاہی اور شعور موجود تھا۔ عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی ایک بڑے محاذ کی حیثیت رکھتی تھی اور پنجاب حکومت نے اس کا بیڑہ اٹھایا۔ سکولوں، کالجوں، اداروں، ہوٹلوں ، ریستورانوں، چھابڑی فروشوں کو آگاہی دینا ضرعری ہے۔ اس کا احاطہ کئے بغیر اچھی اور آلودگی سے پاک غذا کی فراہمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ترکی،سعودی عرب، ایران، ملائشیاجیسے اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے خوراک کے اعلیٰ معیار مقرر کر رکھے ہیں، ہم نے پنجاب میں اس کی شروعات کی ہیں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی میں اس کی شروعات کی ہیں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حوالے سے بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فوڈ اتھارٹی کو اس سال 2ارب 70کروڑ رو پے کے فنڈز دیئے ہیں، اگر اس ادارے کو عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کیلئے20ارب روپے کے فنڈز بھی درکار ہوئے تو دیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں بد قسمتی سے طبقاتی کشمکش موجود ہے ۔ یہاں امیر ،امیر تر اور غریب ،غریب تر ہے۔ اشرافیہ تو معیاری ریستورانوں میں اچھے اور معیاری کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ اس ملک کی بڑی آبادی چھابڑی فروشوں، چھوٹے ہوٹلوں اور چھوٹی دکانوں سے اپنی اشیائے ضروریہ حاصل کرتے ہیں۔ جہاں گذشتہ 70برسوں سے ان غریب عوام سے ڈنڈی ماری جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کھلے دودھ کی فروخت کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ بھارت اگرچہ ہمارا مخالف ہے لیکن وہاں بھی عوام کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پیکنگ میں بہترین دودھ ملتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کے خوالے سے قوانین کا احترام کیا جاتا ہے، ہم نے اس سلسلے میں بہت وقت ضائع کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی جیسا اہم ادارہ قائم کر کے اس سلسلے میں شروعات کی ہیں اب ہمیں اس کلچر کع صرف لاہور یا پنجاب تک ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلانا ہوگا ۔ بھر پور آگاہی مہم کے ذریعے عوام میں احساس ذمہ داری اور قانون کی عملداری کو اجاگر کرنا ہے۔ سزا اور جزا کے موثر نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب جوڈ اتھارٹی کی لیب کی طرح پنجاب فوڈ ایگریکلچر ڈرگ ٹیسٹنگ لیب اتھارٹی بھی بنائی گئی ہے، جہاں خوراک ، ادویات اور زرعی اشیاء کی چیکنگ کا مربوط نظام ہو گا، یہ لیب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے قریب بنائی جا رہی ہے۔ اور یہ لیب بھی سٹیٹ آف دی آرٹ ہو گی۔ حکومت نے لاہور میں جدید ڈرگ ٹیسٹنگ لیب بھی بنائی ہے اور اس کے عملے کو برطانیہ اور ترکی سے تربیت دلائی گئی ہے اور یہ لیب دنیا کی اچھی لیبز کے ہم پلہ ہے، پنجاب حکومت نے اس سال 6ارب روپے کی ادویات خریدی ہیں اور ان ادویات کے نمونوں کا تجزیہ جنوبی افریقہ ، برطانیہ ، سنگا پور اور ترکی کی لیبز سے کرایا گیا ہے اور ان ادویات کے نمونوں کا تجزیہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب لاہور سے بھی کرایا گیا ہے۔ عالمی لیبز اور لاہور کی لیب کے نتائج میں کوئی فرق نہیں ہے، اس کے بر عکس دو سال قبل ادویات کے نمونے تجزیے کیلئے جب اس وقت کی لیب میں بھجوائے گئے تو اس نے 100فیصد نمونوں کو پاس کیا جبکہ عالمی لیبز نے 33فیصد ادویات کے نمونوں کو مسترد کر دیا۔ لاہور میں جدید سٹیٹ آف دی آرٹ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کا قیام عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب فود اتھارٹی نے عوام کو معیاری اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے۔ اور یہ ادارہ ،ادارہ جاتی میکانزم اور مربوط نظام کے تحت کام کر رہا ہے۔ میں ادارے کے ڈی جی نورالامین مینگل اور ان کی پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی پر سلیوٹ کرتا ہوں۔ اگر یہ ادارہ محنت ، ایمانداری اور جذبے سے کام نہ کر رہا ہوتا تو شاید لاکھوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے تھے۔انسان بندوق کی گولی سے ہی نہیں مرت بلکہ جعلی ادویات اور غیر معیاری خوراک سے بھی لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جود اتھارٹی نے عوام کو بیماروں سے محفوظ بنانے کے حوالے سے جو شاندار خدمات سر انجام دی ہیں اللہ تعالیٰ اسے اجر دے گا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو سوچ کی ہے۔ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے صوبائی دارلحکومت میں جنوبی ایشیاء کا امراض گردہ و جگر کے عالج کا سٹیٹ آف دی آر ٹ ادارہ بنا رہی ہے اس منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے ، انشاء اللہ پہلے مرحلے کا افتتاح 25دسمبر کو ہو گا جبکہ دوسرے مرحلے کا افتتاح دو تین ماہ بعد ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70سالوں سے حکومتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب غریب عوام کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوئی ادارہ بنانا ہوتا ہے تو مالیاتی اداروں یا دوست ممالک سے وسائل کے حصول کیلئے بات چیت شروع کر دی جاتی ہے لیکن جب غریب عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے بجائے پیسہ خرد برد کرنا ہو یا اپنی جیب میں ڈالنا ہو تو دوسرا طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ اسی کلچر نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے،جب ہم نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا فیصلہ کیا تو میرے رفقاء نے بھی مشورہ دیا کہ ادارے کے قیام کے لئے دوست ممالک سے وسائل حاصل کئے جائیں ، میں نے کہا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ خدا نخواستہ اگر میں یا اشرافیہ کا کوئی اور فرد بیمار ہو جائے تو وہ اپنا علاج بیرون ملک سے کراتا ہے جب غریب دکھی انسانیت کو علاج کی فراہمی کیلئے ادارے کے قیام کی بات ہو تو وسائل بیرون ممالک سے حاصل کرنے کی بات کی جائے یہ مجھے گوارہ نہیں۔ پنجاب حکومت سٹیٹ آف دی آرٹ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر سو فیصد وسائل خرچ کر رہی ہے۔ اگلے سال اس ادارے میں گردہ اور جگر کے امراض میں مبتلا مریضوں کے آپریشنز ہون گے اور غریب مریضوں کا عالج بالکل مفت ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت جگر کے امراض میں مبتلا غریب اور نادار مریضوں کے بیرون ملک علاج پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ کر چکی ہے اس ادارے کے قیام سے اب مریضوں کو علاج کیلئے بیرون ملک نہیں جانا پڑے گا۔ یہ ہسپتال پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے اور یہاں ملک بھر سے آنے والے ہر غرہب کا علاج مفت ہوگا۔ اسی پاکستان کا خواب قائد اور اقبال نے دیکھا تھااور ہم اپنے عمل کا جائزہ لیکر اپنا احتساب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں پر رونے دھونے کی بجائے ان سے سبق سیکھ کر ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے ایسال کام کرنا ہے جسے وہ ہمیشہ یا د رکھیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں عظیم جدوجہد کے نتیجے میں لازوا ل قربانیوں اور خون کے دریا عبور کر کے آزاد وطن حاصل کیا گیا تھا جہاں سب کو بلا امتیاز سہولتیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کی چوکھٹ پر تو دنیا کی ہر نعمت سلام کرتی ہے جبکہ عام آدمی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہو،اسے کسی صورت قائد و اقبال کا پاکستان نہیں کہا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ میری فوڈ اتھارٹی سے گزارش ہے کہ وہ بڑے اور فائیو سٹار ہوٹلوں کی طرح ملک کی 95فیصد آبادی کو معیاری غذا کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے چھوٹے ہوٹلوں ، دکانوں اور چھابڑی فروشوں کو بھی پابند کریں کہ وہ عوام کو ساف ستھری اشیاء فراہم کریں، اس بارے میں انہیں سمجھایا ور آگاہی دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صحت سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ،میری گزارش ہے کہ پنجاب بھر میں جتنے بھی ریڑھی بان ہیں ان کی ریڑھیوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ اس منصوبے کا آغاز پنجاب کے کسی دو بڑے شہروں یا بازاروں سے کیا جا سکتا ہے، اس مقصد کے لیے جامع پلان بنایا جائے حکومت ہر ممکن وسائل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ جس طرح موٹروے پولیس کے حوالے سے کرپشن کی بات نہیں سامنے آئی، اسی طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے بھی کرپشن کی بات نہیں سامنے آئی جو ایک بڑی بات ہے۔میں اس میں صوبائی وزراء اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پر کام کی اجازت دینے پر عدالت عظمیٰ کے شکر گزار ہیں۔تحریک انصاف نے اس عظیم منصوبے کی مخالفت کی درحقیقت پی ٹی آئی نے اس منصوبے میں 22ماہ کی تاخیر کر کے تحریک انصاف نے غریب مزدوروں کے ارمانوں خون اور پاکستان کا نقصان کیا ۔کیا تحریک انصاف کا انصاف ہے؟خدا را ایسی سیاست سے باز آجائیں۔ اگر آپ کے پاس لمبی گاڑیاں ہیں تو غریب عوام کی با عزت سواری کی مخالفت نہ کریں۔ اس اورنج لائن میٹرو ٹرین نے 25دسمبر کو چلنا تھا اور لاکھوں لوگوں نے روزانہ اس پر سفر کرنا تھا لیکن پی ٹی آئی نے اس میں 22ماہ کی تاخیر کر کے پاکستان کے عوام کا نقصان کیا ہے۔ ان لوگوں نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کی مخالفت شدید اس لئے کی کہ اگر کہ ٹرین چل پڑی تو مسلم لیگ (ن)لاہور سے تمام سیٹیں جیت لے گی ۔ نیازی صاحب یاد رکھیں ہمیشہ جیت عوامی خدمت کی سیاست کی ہوتی ہے اور انشاء اللہ مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں بھر پورکامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو مجھے وزیر اعظم بنانے کی پیشکش ہوئی ،میں نے درخواست کی کہ مجھے پنجاب میں رہنے دیں کیونکہ میرا عوام سے وعدہ ہے کہ ان کیلئے منصوبے مکمل کرنے ہیں ،میں مفاد عامہ کے منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر اسلام آباد نہیں جاسکتا ۔ مجھے عوام کی محبت ،خوشحالی اور ترقی عزیزہے۔وزارت عظمیٰ آنی جانی چیز ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قومیں محنت، امانت اور دیانت سے بنتی ہیں۔ پاکستان قائد اعظم کی عظیم تخلیق ہے اور اگر ہم من حیث القوم اسے عظیم مملکت بنانے کا فیصلہ کر لیں تو کوئی پہاڑ اور سمندر راستے میں حائل نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے کہا کہ محنت اور ایمانداری سے کام کر کے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر ملک بنانا ہے۔ انشاء اللہ پاکستان اپنی منزل ضرور حاصل کرے گا اور قائد کے افکار کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست بنے گا۔ قبل ازیں چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی عامر ہراج نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو جاتا ہے اور یہ ادارہ ان کے ویژن کے مطابق کام کر رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے کہ اکہ ادارے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا دائرہ پنجاب کے تمام اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہے اور رواں سال کے آخر تک پنجاب کے تمام اضلاع میں ٹریننگ سکول فعال کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق محافظ خوراک کا موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ادارے کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اداروں میا8 تربیت مکمل کرنے والے طلباء و طالبات میں ایوارڈ بھی تقسیم کیے۔صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ خان، رانا مشہود ، بلال یاسین،خیبر پختونخواہ کے ڈی جی فوڈ اتھارٹی،صنعتکاروں،طلباء و طالبات،چیمبر کے عہدیداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -