اسرائیلی عدالت کا فلسطینی طالبہ کو دو سال قید اور جرمانے کی سزاؤں کا حکم

اسرائیلی عدالت کا فلسطینی طالبہ کو دو سال قید اور جرمانے کی سزاؤں کا حکم

رام اللہ (اے این این)اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے زیر حراست ایک فلسطینی طالبہ کو دو سال قید اور چھ ہزار شیکل جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض صہیونی ریاست کی عوفر نامی فوجی عدالت نے گذشتہ روز غرب اردن کی بیرزیت یونیورسٹی کی طالبہ استبرق التمیمی کے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر طالبہ کو بھی پیش کیا گیا تھا۔فلسطینی اسیران میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قابض صہیونی ریاست کی فوجی عدالت نے طالبہ استبرق التمیمی کو دو سال قید اور چھ ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی۔خیال رہے کہ استبرق کو اسرائیلی فوج نے 20 مارچ 2017 کو رام اللہ میں بیرزیت یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل سے گرفتارکیا تھا۔استبرق پر صہیونی ریاست کے جرائم کو بے نقاب کرنے اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ زیرحراست طالبہ یونیورسٹی میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے شعبے کی میں تعلیم حاصل کررہی ہے۔ گرفتاری اور سزا کے نتیجے میں وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

مزید : عالمی منظر