انتخابات نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر بروقت کرائے جائیں : پیپلز پارٹی

انتخابات نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر بروقت کرائے جائیں : پیپلز پارٹی

  

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے آئندہ عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر بروقت کرائے جائیں، پشاور ہا ئیکو رٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے اور قبائلی علاقہ جات میں دیگر اصلاحات لا کر اس کا کے پی کے سے انضمام اور اس کیلئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جائے، میثاق جمہوریت کے وژن کے مطابق ایک سچائی اور مفاہمت کا کمیشن قائم کیا جائے تاکہ تاریخ مسخ کرنے کے عمل کو درست اور سیاسی دوریوں کو روکا جائے۔ یہ تمام مطالبات ان قراردادوں میں کئے گئے جو پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی پار لیمنٹیرینز کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ روزکئے گئے جس کی صدارت مشترکہ طور پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے نوڈیرو ہاؤس میں کی۔اجلاس میں پیش کردہ قراداد میں کہا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس بات کو واضح انداز میں کہنا چاہتی ہے کہ وہ جمہوری عمل کے تسلسل میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گی۔ پارٹی کے ترجمان اور پی پی پی پی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا پارٹی نے آئند عام انتخابات پر بھی غوروخوض کیا اور پارٹی کی تمام تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی سرگرمیاں تیز کردیں، خواتین کے ووٹ کو یقینی بنائیں اور ہر قسم کی دھاندلی کو روکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کسی بھی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی جو نظام کو پٹڑی سے اتار دے اور پارلیمنٹ کی حیثیت کم کرے۔ سی ای سی نے شہید بینظیر بھٹو کیس کے ا نسداد دہشتگردی کی عدالت کے فیصلہ کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس فیصلے کیخلاف دائر کردہ اپیل کا مقدمہ پوری قوت سے لڑے گی تا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اجلاس نے اس بات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیا ر پو ر ٹوں کے مطابق عسکریت پسند تنظیموں کو قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے اور یاددہانی کروائی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان کالعدم عسکر یت پسند تنظیموں کو کسی بھی دوسرے نام سے ابھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سی ای سی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پشاور ہائی کو ر ٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے گا اور فاٹا میں دیگر اصلاحات بھی کی جائیں گی۔ گلگت بلتستان کے شریوں کو ان کے حقوق دئیے بغیر ان پر کوئی ٹیکس نہ لگایا جائے۔ اجلاس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حالیہ پاس شدہ آئینی ترمیمی بل کے مطابق نئی حلقہ بندیاں شروع کی جائیں اور ان حلقہ بندیوں میں حکومت کی کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔ سی ای سی نے یروشلم کو یکطرفہ طور پر اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کا اعلان مسترد، کشمیری عوام سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ اجلاس نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب اور سندھ کے سیاسی لیڈروں کے درمیان احتساب کے عمل میں امتیازبرتا جا رہا ہے۔ اجلاس نے صوبائی خودمختاری کو رول بیک اور اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد نہ ہونے ، سندھ کی نہروں میں پانی کے بہاؤ کو وقت سے پہلے روکنے کی شدید مذمت کی اور اسے سندھ کے عوام کے حقوق کی خلا ف ورزی قرار دیا۔

مزید :

علاقائی -