نگران حکومت کی ضرورت کیا ہے؟

نگران حکومت کی ضرورت کیا ہے؟
 نگران حکومت کی ضرورت کیا ہے؟

  

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر وفاقی وزراء اگر اپنی تقریروں اور بیانات میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام لینا بند کردیں تو ایک اعتبار سے وفاق کی سطح پر ملک میں نگران سیٹ اپ ہی ہے اور شاہد خاقان عباسی محض سیٹ گرم رکھنے کے لئے ہی وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔

اس موقف کو مزید تقویت اس بات سے مل جاتی ہے کہ تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی، اپوزیشن کی کسی بھی پارٹی کو مرکزی حکومت کے خلاف کوئی شکائت نہیں ہے اور متحدہ اپوزیشن طاہرالقادری کی قیادت میں پنجاب حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے پر تول رہی ہے !

اس سے بھی اگلی دلچسپ بات سنئے کہ تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی ، دونوں ہی 2018ء کے انتخابات میں جیت کر اگلی حکومت بنانے کی دعویدار ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک جماعت بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک لیڈ نہیں کررہی ہے، اس کے برعکس دونوں جماعتیں علامہ طاہرالقادری کی تحریک قصاص میں شامل واجہ جماعتوں کے طور پر کھڑی نظر آرہی ہیں ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ایک جملہ اس صورت حال پر صادق آتا ہے کہ ’پلے نئیں دھیلہ تے کردی میلہ میلہ !‘

ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف نے بحالی عدل کی تحریک کا اعلان کرکے عمران خان کے تبدیلی کے نعرے سے ہوا نکال دی ہے ، دوسرے لفظوں میں عمران خان کی ہوا نکال دی ہے کیونکہ نواز شریف نے عمران خان کے خلاف نہیں ،عدلیہ کے فیصلے کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور جنرل مشرف کو سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے پچھلے دو ماہ کے دوران ثابت کیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر مخالف پراپیگنڈہ کتنا ہی تندوتیز کیوں نہ ہو، کسی سیاسی جماعت کو ختم نہیں کر سکتا ہے تاآنکہ اس کے خلاف بے انصافی کے فیصلے آنا شروع ہو جائیں ، یہ بے انصافی خواہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ہو یا نواز شریف کے خلاف!

نواز شریف نے نون لیگ سوشل میڈیا کے نوجوانوں سے خطاب میں ثابت کردیا ہے کہ وہ ڈس کوالیفائی ہونے کے باوجود ایک بڑا مجمع لگاسکتے ہیں ، یہ الگ بات شہباز شریف اور چوہدری نثار وغیرہ اس مجمع سے غائب تھے ۔ دوسری جانب علامہ طاہرالقادری آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرکے مقابلے کا مجمع لگانا چاہتے ہیں ، دیکھئے مجمع لگانے کا مقابلہ اب کون جیتے گا، علامہ قادری اور انٹی نواز فورسز کو اگر کوئی برتری حاصل ہے تو یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت ان کے ساتھ ہے، وگرنہ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر مجمع لگا کر ثابت کردیا ہوا ہے پنجاب میں بلاشرکت غیرے مقبول ترین لیڈر ہیں۔

علامہ طاہرالقادری، عمران خان اور آصف علی زرداری مل کر زور تو لگا رہے ہیں، لیکن دیکھا جائے تو ان کی قیادت میں صرف اگلی صف میں ہی قابل ذکر لوگ نظر آتے ہیں اور ان کے پیچھے توچھان بورا بھی نہیں ہے، اسی طرح مولانا پیر حمیدالدین سیالوی اور خادم حسین رضوی نے علامہ قادری سے بڑے اور جاندار مجمعے لگاکر ان کی حیثیت کو گہنا دیا ہے۔

علامہ قادری اور نواز شریف کی تحریکوں میں ایک نقطہ مشترکہ ہے کہ دونوں ہی انصاف کے حصول کے لئے اپنا اپنا حشر بپا کرنا چاہتے ہیں ، قادری صاحب یہ انصاف صوبہ پنجاب کے چیف ایگزیکٹو اور وزیر قانون کا استعفیٰ لے کر حاصل کرنا چاہتے ہیں،جبکہ نواز شریف Selective Justiceکے خاتمے کی تحریک بپا کرنا چاہتے ہیں ۔ اس اعتبارسے ان کی تحریک علامہ قادری کی تحریک سے بڑی ہوجاتی ہے، کیونکہ پاکستان بھر کے عوام اس بات پر نالاں ہیں کہ ہماری عدلیہ دباؤ میں آکر فیصلے کیوں کرتی ہے ، اگرچہ جسٹس ملک قیوم اور سیف الرحمٰن کی گفتگو بھی اسی دباؤ کے زمرے میں آتی ہے، لیکن اگر ایسا ہے تو پھر جسٹس باقر نجفی نے کس دباؤ میں شکوک و شبہات سے بھرپور شاہکار رپورٹ پیش کی ہے ۔ بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو ، پاکستان میں عدل کی بحالی کی تحریک وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔

نواز شریف کو ایک برتری یہ ہے کہ ابھی تک نون لیگ ان کی قیادت میں متحد ہے جس کا مطلب ہے کہ پنجاب کے عوام ان کی قیادت میں متحد ہیں یا یوں کہئے کہ نواز شریف ابھی تک مضبوط ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی مرکزی پنجاب میں نہیں ،پی ٹی آئی جنوبی پنجاب میں نہیں ہے جبکہ علامہ قادری کی عوامی تحریک سوائے ادارہ منہاج القرآن کے کہیں بھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ نوابزادہ نصراللہ کی طرح وہ پارلیمنٹ میں بھی نہیں ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت ان کے پیچھے کھڑی جچتی ہو، کوئی جواز پیش کرسکتی ہو!

اس صورت حال میں نواز شریف کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح صورت حال کو سنبھال کر 2018ء کے عام انتخابات تک لے جاتے ہیں کیونکہ ان کے مخالفین کی کوشش ہوگی کہ لوگوں کو سڑکوں پر لاکر ایسی صورت حال پیدا کی جائے کہ یا تو فوج آجائے یا پھر کوئی نگران سیٹ اپ لے آئے ، اسی طرح نیب مقدمات کے فیصلے اور سینٹ کے انتخابات بھی ان کے لئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے اور یہی وہ موڑ ہیں جن پر انٹی نواز فورسز کی امید بر آسکتی ہے، دیکھئے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!

مزید :

رائے -کالم -