14کمپنیوں سے 185ارب کی وصولی، قائمہ کمیٹی کی ذمہ داری نیب کے سپرد کرنے کی سفارش

14کمپنیوں سے 185ارب کی وصولی، قائمہ کمیٹی کی ذمہ داری نیب کے سپرد کرنے کی سفارش

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے 14 کمپنیوں سے 185 ارب روپے وصولی کی ذمہ داری نیب کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی ہے جبکہ سٹیل مل کو اربوں روپے خسارہ سے دوچار کرنے والے اعلی افسران اور وزراء کے خلاف تحقیقات کی سفارش کر دی ہے ۔ ان 14 کمپنیوں کی نجکاری نواز شریف اور مشرف دور حکومت میں ہوئی تھی۔ نجکاری میں بھی اربوں روپے کی مالی بدعنوانیاں کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید عمران احمد شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں اکثریتی ممبران نے شرکت کی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ( پی ٹی سی ایل) کے ذمہ 81 ارب 28 کروڑ 94 لاکھ روپے کے واجبات ہیں۔ نیشنل فائبر لمٹیڈ کے ذمہ 25 کروڑ 60 لاکھ روپے ہیں ۔ پاک پی وی سی لمٹیڈ کے ذمہ 14 کروڑ 31 لاکھ روپے ‘ سندھ الخالص لمٹیڈ کے ذمہ 12 کروڑ 45 لاکھ روپے ‘ پاک چائنہ فرٹیلائزر لمٹیڈ کے ذمہ 23 کروڑ 54 لاکھ روپے ‘ نیشنل موٹرز لمٹیڈ کے ذمہ 3 کروڑ روپے ۔ بلوچستان ویلز لمٹیڈ 7 کروڑ 36 لاکھ روپے ‘ ڈینڈوٹ ورکس آف نیشنل سمنٹ لمٹیڈ کے ذمہ 5 کروڑ 71 لاکھ روپے ‘ ہری پور ویجیٹیبل آئل پروسسنگ انڈسٹریز کے ذمہ 3 کروڑ 82 لاکھ روپے ‘ کریسنٹ فیکٹریز ویجیٹیبل گھی ملز کے ذمہ 9 کروڑ 19 لاکھ روپے ‘ سراں والی رائس ملز کے ذمہ 46 لاکھ روپے ‘ دھانکل رائس مل کے ذمہ 4 لاکھ روپے ‘ مبارک پور رائس ملز لمٹیڈ 38 لاکھ روپے ‘ قائدآباد وولن ملز کے ذمہ 3 کروڑ 30 لاکھ روپے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ 1991 سے لے کر آج تک 1420 کیسسز عدالتوں میں زیر التواء ہیں ۔ سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ اداروں کی نجکاری کے بقایا جات 97 فیصد وصول کر لئے گئے ہیں پی ٹی سی ایل کے واجبات کے حوالے سے آج میٹنگ ہے امید ہے کہ آج نتیجے پر پہنچ جائیں گے ۔ پی ٹی سی ایل کے 800 ملین ڈالرز بقایا جات پر کوئی مارک اپ نہیں لگایا گیا ۔ رکن کمیٹی عبدالوسیم نے کہا کہ جو نظر آ رہا ہے کہ ملک کی چیزیں ایسے ہی دی جا رہی ہیں ۔ ڈی جی نجکاری نے کمیٹی کو بتایا ہم نے 1420 کیسسز لڑے ہیں اور 1275 کیسسز ختم ہو گئے ہیں ۔ 145 کیسسز کے بقایا جات کے حوالے سے کیس چل رہے ہیں ۔ سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ سٹیل مل 2008 سے خسارے میں ہیں اس سے پہلے یہ ایک منافع بخش ادارہ تھا اس کے فنڈز نکال کر استعمال کر لئے گئے ہیں ۔حکومت کو ہر سال ان اداروں کو منافع بخش بنانے کے لئے اربوں روپے کے انجکشن لگانا پڑتے ہیں۔ ابھی پی آئی اے کو انجکشن لگایا گیا ہے ۔ 2008-09 سے اب تک 59 بلین روپے کے بیل آوٹ پیکج دیئے گئے ہیں ۔15 بلین روپے سٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں دیئے گئے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر