وزارت تعلیم میں اربوں کی بے ضابطگیاں، ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی آڈٹ کی ہدایت

وزارت تعلیم میں اربوں کی بے ضابطگیاں، ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی آڈٹ کی ہدایت

  

اسلام آبا د( آئی این پی ) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں وزارت وفاقی تعلیم کو 2005-06میں دی جانے والی بجٹ گرانٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو ا ہے ۔،کمیٹی نے گرانٹ کا سپیشل آڈٹ کر نے کی ہدایات جا ری کر دیں ، کنوینئر کمیٹی رانا افضال حسین نے کہا کہ 4.520بلین اوریجنل گرانٹ تھی ،3.58بلین خرچ ہو گیا اور 1بلین سیونگ میں آ گیا ، 80فیصد رقم خرچ ہو گئی اور پراجیکٹ کہیں آئے ہی نہیں ، 80فیصد پیسہ خرچ کیسے ہو گیا ، 3.5بلین کہاں خرچ ہو ا اس کی رپورٹ ایک مہینے کے اندر ہمیں دی جائے ، اس کا سپیشل آڈٹ کریں سب چیز سامنے آ جائے گی ، ارکان کمیٹی نے کہا کہ سارے ملک میں انہوں نے پولی ٹیکنیک سکول کھولنا تھے ،یہ کہتے ہیں کہ پی سی ون ہی نہیں بنا، کروڑوں روپے ایسے ہی گئے ، کم از کم اتنا تو بتا دیں کتنے ضلعوں میں بنے؟ ، ساڑھے تین ارب روپے کہا ں گئے جب کوئی کام ہوا ہی نہیں ؟ کمیٹی نے وزارت وفاقی تعلیم میں ہونے والی تقرریوں اور ترقیوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر بھی اظہار برہمی کیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب ایک ویکینسی ہی نہیں ہے تو کیسے کسی کو وہاں لگا دیا گیا، پنامہ کیس کے پیچھے سب لگے ہوئے ہیں ،اس کو کوئی نہیں پوچھتا۔بدھ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر رانا افضال حسین کی صدارت میں ہوا جس میں وزارت وفاقی تعلیم کو دی جانے والی بجٹ گرانٹس کا جائزہ لیا گیا ، آڈٹ حکام نے نے بتایا کہ وزارت وفاقی تعلیمکی 1999-2000میں 1676ملین اوریجنل گرانٹ تھی جبکہ ٹوٹل گرا نٹ 1696 ملین تھی جس میں سے 680ملین سیونگ رہا جبکہ 660.894سرینڈر کیا گیا ۔کنوینئر کمیٹی نے کہا کہ ڈیمانڈ دیکھ کر کر تے 40پر سنٹ سیونگ آگئی ہے ۔وزارت وفاقی تعلیم کے حکام نے کہا کہ651ملین کا بجٹ کٹ لگا تھا، جس پر آڈٹ حکام نے کہا کہ جو بھی کٹ لگتا ہے اس کو سرینڈر کرنا پڑتا ہے ، 2005-06کی گرانٹ میں 1بلین کی سیونگ ہے ، کنوینئر کمیٹی نے کہا کہ 61ملین سرینڈر کیا گیا ہے ، 1بلین اپنے پاس کیوں رکھا گیا ہے رکن کمیٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سارے ملک میں انہوں نے پولی ٹیکنیک سکول کھولنا تھے یہ کہتے ہیں کہ پی سی ون نہیں بنا،ہر ڈسٹرکٹ میں پولی ٹیکنیک سکول بننا اچھی بات تھی ، کروڑوں روپے ایسے ہی گئے ، کم از کم اتنا تو بتا دیں کتنے ضلعوں میں بنے؟ جس پر وزارت وفاقی تعلیم کے حکام نے کہا کہ کہیں نہیں بنائے گئے کیوں کہ پی سی ون ہی نہیں بنا۔کنوینئر کمیٹی نے کہا کہ 4.520بلین اوریجنل گرانٹ تھی ،3.58بلین خرچ ہو گیا اور 1بلینسیونگ میں آ گیا ، 80فیصد رقم خرچ ہو گئی اور پراجیکٹ کہیں آئے ہی نہیں ، 80فیصد پیسہ خرچ کیسے ہو گیا ، 3.5بلین کہاں خرچ ہو ا اس کی رپورٹ ایک مہینے کے اندر ہمیں دی جائے ۔ اجلاس میں کنوینئر کمیٹی نے 2006-07 میں وزارت وفاقی تعلیم کو دی جانے والی گرانٹ کے حوالے سے کہا کہ یہ 6.5بلین کی گرانٹ کس لئے تھی ؟، یہ گرانٹ ملی تو کس مقصد کے لئے ملی ؟، جس پر وزارت وفاقی تعلیم کے حکام نے کہا کہ ہمارے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کس پر کنوینئر کمیٹی نے کہا کہ اس کا بھی سپیشل آڈٹ کریں۔ اس مو قع پر کمیٹی اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم میں ہونے والی تقرریوں اور ترقیوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی متعلقہ حکام نے بتایا کہ کچھ لوگوں کی ترقیوں میں بے قاعدگیاں کی گئیں 5کیسز سیٹلڈ کر دیئے گئے جبکہ 2کا مسئلہ باقی رہ گیا ہے ، رکن کمیٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب ایک ویکینسی ہی نہیں ہے تو کیسے کسی کو وہاں لگا دیا گیا، پنامہ کیس کے پیچھے سب لگے ہوئے ہیں اس کو کوئی نہیں پوچھتا۔

مزید :

صفحہ آخر -