اگلی حکومت بھی ہم ہی بنائیں گے ، عدلیہ کے فیصلوں سے نقصان ہوا، شیروانی سلواکر رکھنے والوں کو شرمندگی ہو گی : وزیراعظم

اگلی حکومت بھی ہم ہی بنائیں گے ، عدلیہ کے فیصلوں سے نقصان ہوا، شیروانی ...

  

برہان (آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 2030تک پاکستان کو بجلی کیلئے خود کفیل کر دیا ہے،الیکشن وقت پر ہوں گے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت 15جولائی کو الیکشن کے بعد دوبارہ آئے گی،شب خون مارنے والوں اورشیروانی سلوا کر رکھنے والوں کو بھی شرمندگی ہو گی،عدالت کے فیصلوں پر بات نہیں کرنا چاہتا،سیاسی استحکام ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، یہ معمولی منصوبہ نہیں اس پر 32,33ارب روپے خرچ ہورہے ہیں، موٹروے پورے علاقے کو بدل دے گا، مسلم لیگ (ن) جو منصوبہ شروع کرتی ہے اسے مکمل بھی کرتی ہے، ماضی میں اور آج بھی منصوبے مسلم لیگ (ن) لگا رہی ہیں، جتنی سڑکیں اس دور حکومت میں بنیں66سال میں نہیں بنیں،9سال پرویز مشرف اور5سال آصف زرداری کے دور حکومت میں کوئی ایک منصوبہ نہیں مکمل ہوا۔وہ بدھ کو برہان تا شاہ مقصود انٹرچینج سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کا دن ہزارہ کیلئے کسی انقلاب سے کم نہیں ہے، ہزارہ موٹروے کا منصوبہ علاقے میں ترقی اور انقلاب لائے گا، منصوبے کے متعلق سنا بھی نہیں تھا، نواز شریف نے کہا یہ منصوبہ بنے گا، مسلم لیگ (ن)وہ جماعت ہے جو صرف باتیں نہیں کرتی بلکہ کام کر کے دکھاتی ہے، مسلم لیگ (ن) جو منصوبہ شروع کرتی ہے اسے مکمل بھی کرتی ہے، یہ معمولی منصوبہ نہیں اس پر 32,33ارب روپے خرچ ہورہے ہیں، موٹروے پورے علاقے کو بدل دے گا، موٹروے سے کاروبار اور روزگار اس علاقے میں آئے گا،پاکستان کی پوری عوام کو اس منصوبے سے فائدہ ہو گا، اس جیسی سڑکوں کی موجودگی میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا، منصوبے کا اثر پورے علاقے پر پڑتا ہے، تقدیر بدل جائے گی ۔منصوبوں کیلئے وژن اور محنت چاہیے، نواز شریف نے منصوبے مکمل کئے، کام کر کے دکھایا، آج خنجراب سے گوادر تک منصوبوں کا جال بچھادیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4سال میں جو کام ہوئے پہلے کبھی نہیں ہوئے،ماضی میں بھی منصوبے مسلم لیگ (ن) نے لگائے آج بھی ہم لگا رہے ہیں، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی بتائے وسائل کہاں خرچ کئے؟2030تک پاکستان کو بجلی کیلئے خود کفیل کر دیا ہے، جتنی سڑکیں اس دور حکومت میں بنیں66سال میں نہیں بنیں، دھرنوں ،گالیوں کو برداشت کیا اور کام کر کے دکھایا، 15جولائی کو الیکشن کے بعد دوبارہ مسلم لیگ(ن)کی حکومت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلوں پر بات نہیں کرنا چاہتا، سیاسی عدم استحکام نہ ہوتا تو پاکستان زیادہ ترقی کرتا، سیاسی استحکام ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، الیکشن وقت پر ہوں گے، حکومت عوام کے ووٹوں سے آئے گی، شب خون مارنے والوں کو شرمندگی ہو گی، شیروانی سلوا کر رکھنے والوں کو بھی شرمندگی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کون سی تبدیلی آئی عوام فیصلہ کریں کہ کام کرنے والے چاہئیں یا گالیاں دینے والے؟۔

وزیراعظم

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے عام انتخابات کا ٹائم فریم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جون سے پہلے نہیں 15جولائی کے بعد نہیں انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے قبل از وقت انتخابات کے حامی عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں شوق پورا ہوجائیگادھرنوں سے ترقی نہیں ہوتی جس نے مقابلہ کرنا ہے وہ انتخابات میں کرے وزیراعظم کیلئے پارٹی نے نامزد کیا تو سوچوں گا ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی مسلم لیگ ن کے پاس سینیٹ میں اکثریت موجود ہے نواز شریف ملک کے سینئر سیاستدان ہیں نواز شریف نے تقاریر میں تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔مسلم لیگ ن نے عدلیہ کے ہر فیصلے کو مانا ہے تاہم عدلیہ کے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوا ہے عدلیہ کو عدالت کے باہر عدالت لگانے سے روکنا چاہیے تھا اراکین پارلیمینٹ کو دھمکی آمیز کالز سے متعلق اطلاعات ملی تھیں اراکین اسمبلی کو دھمکیاں دینا درست نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے اخبار پڑھ کر لگتا ہے کل حکومت نہیں ہو گئی صورتحال مختلف ہے حکومت اپنا کام کر رہی ہے حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور انتخابات وقت پر ہوں گے قبل از وقت الیکشن کے حامی عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں عدلیہ کا فیصلہ عوام اور تاریخ قبول کرے گی یا نہیں یہ وقت بتائے گا آئین کے مطابق عدلیہ کے فیصلے پر پارلیمینٹ میں بھی بحث نہیں کر سکتے عدالتی ریمارکس پر اظہار رائے کا حق سب کو ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ نواز شریف کے نام پر ملتا ہے نواز شریف ن لیگ کا حصہ ہیں تھے اور رہیں گے 28جولائی کا فیصلہ نواز شریف کو سیاست سے الگ نہیں کر سکتا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم کے لیے پارٹی نے نامزد کیا تو سوچوں گا شہباز شریف کی کارکردگی کو چین اور ترکی نے بھی تسلیم کیا ہے شہباز شریف کو بطور وزیر اعظم نامزدگی کا فیصلہ پارٹی کرے گی مریم نواز پارٹی کی فعال رکن ہیں مریم نواز نے سوشل میڈیا پر پارٹی کے لیے بہت کام کیا ہے پارٹی جو بہتر سمجھے گی انہیں ذمہ داریاں سونپ دے گی انہوں نے کہا کہ 1999ء کے بعد ن لیگ کے علاوہ تمام جماعتوں نے سمجھوتے کیے نواز شریف عدلیہ تحریک شروع نہ کرتے تو عدلیہ بحال نہ ہوتی ہمارا ہر قدم بغیر کسی دباؤ کے ملک کے مفاد میں ہوتا ہے آئیڈیل صورتحال کوئی نہیں ہوتی صورتحال جو بھی ہو ہم نے اپنا کام کرنا ہے متفقہ رائے سے فیض آباد دھرنے کے مسئلے کو حل کیا گیا ہر دوسرے ہفتے ہماری نیشنل سیکورٹی کی میٹنگ ہوتی ہے ملک کی سیکورٹی صورتحال ماضی سے بہت بہتر ہے وزیر اعظم نے کہا کہ اسحاق ڈار علیل ہیں وہ بیماری کے باعث ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے اثرات ملکی معیشت پر پڑے کسی کو انصاف چاہیے تو عدالت جائے دھرنے والے اپنا شوق پورا کر لیں اس سے انصاف نہیں ملتا دھرنا کسی مسئلے کا حل نہیں وزیر اعظم نے کہا کہ معلوم نہیں طاہر القادری پاکستانی شہری بھی ہیں یا نہیں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں یکم جون سے 15جولائی تک الیکشن ہوں گے سینیٹ انتخابات مارچ میں متوقع ہیں بہتر ہو گا عوام کو انتخابات میں فیصلہ کرنے دیا جائے دھرنے دینے والوں کے مقاصد کچھ اور ہیں مسائل کے حل کے لیے اسمبلیاں موجود ہیں ماڈل ٹاؤن واقعہ کے حقائق مختلف ہیں سامنے ضرور آنے چاہیں جسطرح سے میڈیا پر دکھایا گیا معاملہ اس سے مختلف ہے۔

مزید :

صفحہ اول -