بینظیر کا قاتل مشرف، میری ماں کو آمریت کیخلاف لڑنے کی سزا دی گئی : بلاول ، اب کو ئی این آر او آیا تو اسکی مخالفت کرینگے: زرداری

بینظیر کا قاتل مشرف، میری ماں کو آمریت کیخلاف لڑنے کی سزا دی گئی : بلاول ، اب ...

  

گڑھی خدا بخش(این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں اب دہرا انصاف نہیں چلے گا اگر اب کسی کو این آر او دینے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے۔بی بی اور پی پی کے خلاف سازش اب بھی جاری ہے ،اس کے گندے انڈوں سے بچے نکل رہے ہیں،کوئی کپتان تو کوئی لیڈر بن رہا ہے ۔اگرکسی نے آپ کواین آراودینے کی کوشش کی توہم مزاحمت کریں گے،اب میں ان کو جکڑ کر الیکشن لڑوں گا اور جیتوں گا۔ بے نظیر بھٹو ہر طرح سے بے نظیر تھیں۔ بے نظیر نے دنیا میں پاکستان کا اصل چہرہ دکھایا۔مجھ جیسے بہت سارے لیڈر آئیں اور جائیں گے لیکن نام صرف بھٹو کا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید ے نظیر بھٹو کی دسویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔آصف علی زرداری نے کہا کہ بی بی کی شہادت کو آج 10 سال ہوئے ہیں لگتا ہے بے نظیر ہم سے کل رخصت ہوئی ہیں۔ بی بی کا نام بھٹو صاحب نے بے نظیر رکھا تھا، وہ ہر طرح سے بے نظیر تھیں۔میں نے اپنی پوری زندگی میں آج تک بینظیر بھٹو جیسا کوئی بہادر بھی نہیں دیکھا۔انہوں نے جیل کاٹی تو بے نظیر اور مقابلے کیے تو بے نظیر کیے۔ بینظر بھٹو نے اگر دنیا کو پاکستان کا چہرہ دکھایا تو وہ بے نظیر چہرہ تھا۔ جس طرح آپ لوگ بھٹو، اور بے نظیر کے بچے ہیں اسی طرح بلاول، آصفہ اور بختاور بھی بے نظیر کے بچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا فلسفہ ہمیں صبرسکھاتا ہے مخالفین جان لیں ہم میں برداشت ہے مگرآپ میں برداشت کی ہمت نہیں، سارے آر اوکے بنائے ہوئے لیڈرزہیں،انڈوں سے گندے بچے نکل رہے ہیں جو آپ کے خلاف کام کرتے ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ جس طرح آپ کوہم سے ایشوزہیں ہمیں بھی آپ سے ایشوزہیں آپ نے ہمیشہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے آج بھی آپ کوشش کررہے ہیں کہ کوئی این آر او مل جائے لیکن کسی نے این آر او دینے کی کوشش کی تو مزاحمت کریں گے۔اب میں ان کو جکڑ کر الیکشن لڑوں گا اور جیتوں گا ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے خلاف سازش ہوئی ہے اورسازش اب تک جاری ہے لیکن مجھے پارٹی کوسنبھال کرچلانا ہے، تاریخ میں مجھ جیسے بہت لیڈرآئیں گے اورجائیں گے مگرنام بھٹوکا رہے گا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ مخالفین جان لیں ہم میں برداشت ہے مگرآپ میں برداشت کی ہمت نہیں،ہمارا فلسفہ ہمیں صبرسکھاتا ہے،میر ایک ورکر اگر زخمی یا شہید ہوتا ہے تو میرا دل پھٹتا ہے خون کے آنسو روتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اب دوہرا معیار نہیں چلے گا۔میں نے ہمیشہ سیاست سے کام لیا ہے۔ ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بچا کر چلانا ہے، کسی جنگ میں نہیں ڈالنا۔میں اپنے مخالفین کو کہتا ہوں کہ اتنا کرو جتنا برداشت کر سکیں۔ آپ میں برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں آپ جیلوں میں جا کر روتے ہیں۔

آصف زرداری

گڑھی خدا بخش(خصوصی نامہ نگار) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آج ہر ادارے کی آزادی کو ختم کرکے انہیں کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور معیشت کا بیڑا غرق کردیاگیا ہے ۔ آج وزیراعظم تو موجود ہے، مگر خود کہتا ہے کہ میں وزیراعظم نہیں، انھوں نے جمہوریت کو کمزور کیاہے، شہید بی بی کو عدالت کے چکر لگوانے والے عدالتوں کے باہرچیخ رہے ہیں، جنہوں نے بی بی پر کرپشن کا الزام لگایا، وہ آج خود کرپشن کے الزام کے مقدمات بھگت رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے خلاف فتوے دینے والے آج خود فتووں کی لپیٹ میں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گڑھی خدا بخش میں شہید بے نظیر بھٹو کی 10ویں برسی کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔بلاول بھٹو زرداری نے بے نظیر بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے لیے ظالموں سے لڑرہے ہیں، آپ کو بھی اسی کام کی سزا دی گئی ہے، آپ کو مزدورں، نوجوانوں اورخواتین کے حقوق دلانے کی سزا دی گئی، آپ کو آپ کی جرات اوربہادری اورعوام سے محبت کی سزادی گئی، میری قائد آپ کوآمریت سے لڑنیکی سزادی گئی۔ بی بی شہید روشنی اور زندگی کی علامت تھیں۔ ہم آج کے دن کو بی بی کی برسی نہیں کہتے کیونکہ برسی مناتے ہوئے آنکھیں بے چین ہو جاتی ہیں۔ ہم آج کے دن کو یوم شہادت کہتے ہیں۔ہم بینظیر بھٹو کے وعدوں کو نہیں بھولے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر ہی چل رہے ہیں۔ عوام کی خوشحالی کیلئے ظالموں سے لڑ رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو کو جمہوریت کا علم بلند کرنے، آمریت سے لڑنے اور پسے ہوئے طبقے کی آواز بلند کرنے پر سزا دی گئی۔ اس لیے آج پوری دنیا ان کو یاد کر رہی ہے۔ بی بی نے تیس سال جمہوریت کے لئے جدوجہد کی، جمہوریت کے لیے جان دی، مگر آج ملک میں روٹی مہنگی اورخون سستا ہوگیا ہے کسانوں اور محنت کشوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، آج بھی ہمارے اسکول، کالجز اورعبادت گاہیں محفوظ نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان دنیا میں سفارتی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے، سرحدیں غیرمحفوظ ہیں، دنیا دہشت گردی کی آگ میں جل رہی ہے حکمران خاموش ہیں۔ جمہوریت اور پارلیمان کو کمزور کیا، آج ہر ادارے کی آزادی کو ختم کرکے انہیں کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے۔بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق پارلیمنٹ کی بالادستی اور مضبوط جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے، آپ کے قاتل ابھی ہمارے نوجوانوں کو قتل کررہے ہیں، آپ کے قاتل ابھی تک معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ کل بی بی شہید کو عدالت کے چکر لگوانے والے حکمران آج عدالت کے باہر چیخ رہے ہیں اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے بھٹو شہید کے قاتلوں کا ساتھ دیا جب کہ جو دوسروں کو چور چور کہ رہے تھے آج سب سے بڑی چوری میں پکڑے گئے ہیں، انصاف کے سوداگر آج انصاف کی دہائی کررہے ہیں۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ جس نے بی بی کی شہادت کی تعزیت نہیں کی وہ آج سندھ میں آکر انہیں مظلوم کہہ رہا ہے تاہم ان کی سیاست اشاروں پر چل رہی ہے۔ جس عدلیہ کی آزادی کے لیے بی بی نے جدوجہد کی اور کارکنوں نے خون بہایا اس عدلیہ سے ہمیں، بی بی اور شہید بھٹو کو انصاف نہیں ملا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ جو دہشتگردوں کے خلاف بات تک نہیں کر سکتے وہ ان سے کیا لڑیں گے۔ بے نظیر بھٹو کو آمریت سے لڑنے، دہشتگردوں کو للکارنے، جمہوریت کا دفاع کرنے، خواتین کے حقوق دینے اور غیر مسلموں کو پاکستان کا برابر کا شہری تسلیم کرنے کی سزا دی گئی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج بیت المقدس بھی آپ کے والد کو پکار رہا ہے۔ وہ آپ ہی تھیں جو مسلمانوں کے ظلم و ستم کے خلاف ترکی کے وزیر اعظم کو لے کر بوسنیا گئیں۔ آج دنیا دہشتگردی کی آگ میں جل رہی ہے۔ آج ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس جمہوریت کیلئے آگ لگتی رہی ہم نے وہ جمہوریت بحال کی۔ ہم نے آپ کے والد کے دیئے گئے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا۔ آپ نے جمہوریت کیلئے اپنی جان دے دی۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیر اعظم موجود ہے لیکن کہتا ہے میں وزیر اعظم نہیں۔ انہوں نے جمہوریت کو کمزور اور پارلیمان کو بے توقیر کیا

بلاول

لاڑکانہ(این این آئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گڑھی خدابخش بھٹو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کونے کونے سے آنے والے کارکنان کو ویلکم کرتا ہوں، شہید محترمہ بینظیر کے بچھڑنے کو دس سال ہوچکے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ کل کا سانحہ تھا جسے ہم بھول نہیں سکے اور ان کی بتائے گئے مشن اور جمہوریت کی بقا کے لیے پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آور آصف علی زرداری کے ساتھ ہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اس ہستی کے لیے حاضر ہوئے ہیں جس کے باعث آپ پوری قوم سوگ میں ہے انہیں خراج تحسین پیش کرنے آئے ہیں، میں سمجھتا ہوں اگر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح کوئی لیڈر آج ہوتا تو ملک میں ایسے مسائل نہ ہوتے جو دنیا کے مانے ہوئے لیڈر تھیں جنہوں نے ایک آمر کو وردی اتارنے اور انتخابات کروانے پر مجبور کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کارکن گڑھی خدابخش بھٹو میں خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں، عوام ناامید نہ ہوں، بلاول بھٹو زرداری نوجوانوں کی قیادت کررہے ہیں، ملک میں نوجوانوں کی اکثریت ہے جو بلاول کی جانب دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے، پیپلز پارٹی اپنے منشور اور کارکردگی کے مطابق ملک میں انقلاب لائے گی، 2018 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوگی اور پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان قائرہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ملک کے لیے بہت جدوجہد کی، آج مخالفین بھی کہہ رہے ہیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو عظیم لیڈر تھیں، آصف علی زرداری نے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرکے آمریت کا راستہ روکا، آج پاکستان کو قائداعظم کا مک بنانا ہے، آئندہ عام انتخابات میں زندہ ہے بھٹو زندہ ہے نعرے لگے گے اور ہماری لیڈرشپ ملکی مسائل حل کرے گی۔

مراد علی شاہ

مزید :

صفحہ اول -