نشتر کے بچہ آؤٹ ڈور میں علاج معالجہ کی بجائے گھنٹوں کھڑا رکھنا معمول

نشتر کے بچہ آؤٹ ڈور میں علاج معالجہ کی بجائے گھنٹوں کھڑا رکھنا معمول

  

ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال بچہ آؤٹ ڈور کے میڈیکل آفیسرز نے دور(بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

دراز علاقوں سے آنے والے مریض بچوں کو علاج معالجہ کی سہولیات دینے کی بجائے گھنٹوں کھڑے رکھنا معمول بنالیا ہے۔پیڈز آؤٹ ڈور میں بچوں کے علاج معالجہ کیلئے ہسپتال انتطامیہ کی جاب سے درجن سے زائد میڈیکل آفیسرز اور بی جی آرز وغیرہ کی ڈیوٹیاں لگارکھیں ہیں۔تاکہ مریض بچوں کا بروقت علاج ہوسکے۔مائیں بچوں کو کندھے پر اٹھائے پیڈز آؤٹ ڈور میں ڈاکٹرز سے علاج کرانے کیلئے کھڑی رہتیں ہیں۔مگر ڈاکٹرز چند مریض بچوں کو دیکھنے کے بعد موبائل فونز،خوش گپیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں یاپھر طویل ترین چائے کا وقفہ کرلیا جاتا ہے۔جس پر بچوں کی ماؤں اور والدین نے احتجاج کیا ہے اور مذکورہ صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔واضع رہے نشتر ہسپتال کے پیڈز آؤٹ ڈور وارڈ میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کی تعدا میں مریض بچوں کو علاج کی غرض سے لایا جاتا ہے جسکی وجہ سے بچوں کے والدین مذکورہ صورتحال پر شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔جبکہ نشتر ہسپتال حکام کا کہنا ہے ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔اب اسکی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -