2017ء میں بھی سٹی ٹریفک پولیس کا قبلہ درست نہ ہوسکا

2017ء میں بھی سٹی ٹریفک پولیس کا قبلہ درست نہ ہوسکا

ملتان(وقائع نگار)سال 2017میں سٹی ٹریفک پولیس کا قبلہ درست نہ ہوسکا۔ٹریفک رواں دواں رکھنے کے بہانے کئی بے گناہ شہریوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کا سلسلہ بھی جاری(بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

رہا۔پولیس افسران کی جانب سے ٹریفک وارڈنز کو سزائیں بھی ملیں مگر ان کا شہریوں کے ساتھ رویہ متاثر کن نہ تھا۔معلوم ہوا ہے کہ ٹریفک وارڈنز نے یکم جنوری سے لیکر نومبر 2017ء تک عبوری اعداد و شمار کے مطابق کل 4لاکھ24ہزار747ٹکٹ چالان کی مد میں جاری کیں جس میں جرمانے کی مد میں 13کروڑ74لاکھ63ہزار 250روپے کی آمدن وصول ہوئی۔جبکہ اسی طرح یکم جنوری سے لیکر نومبر 2017تک کل لرنر56ہزار361جاری ہوئے اور ان میں سے 12ہزار836 افراد کے ڈرائیونگ بنائے گئے۔جسکی مد میں2کروڑ68لاکھ69ہزار روپے وصول ہوئے ہیں۔ٹریفک ڈرائیونگ سکول میں اب تک2612 افراد نے داخلہ لیا جس میں سے2073کار جبکہ ایل ٹی وی ڈرائیونگ کورس مکمل کرچکے ہیں۔حکومت پنجاب کے پروگرام کے تحت اب تک 448خواتین وویمن آن وہیل پراجیکٹ میں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں۔جن میں سے 210خواتین موٹر سائییکل کی ماہر ڈرائیور بن چکی ہیں اور 158خواتین کو موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس جاری ہوچکے ہیں جون 2016ء سے لیکر نومبر 2017ء میں اب تک 64ہزار 500ریفلیکٹر اسٹیکر سلو موونگ اور مختلف ڈیوائیڈرز،سلپ روڈز اور یوٹرنز پر چسپاں کئے گئے اوور سپیڈ کی روک تھام کی مد میں5ہزار 5سو46ڈرائیورز کے چالان کئے ہیں۔ون ویلنگ کے 640مقدمات درج ہوئے کم عمر4238ڈرائیورز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور 13نومبر 2017 سے لیکر 27دسمبر 2017تک آئی جی پنجاب کے حکم پر کم عمر ڈرائیورز 3420 کے چالان کئے گئے ہیں اور کریک ڈاؤن کے خلاف 8غیر قانونی ورکشاپس کو سیل کیا گیا ہے واضع رہے شہریوں کے ساتھ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ٹریفک وارڈنز کا رویہ ٹھیک نہ ہوسکا ہے۔ان وارڈنز کی عوام کے ساتھ ناروا سلوک ،ہاتھا ہائی سمیت دیگر مختلف نوعیت کے واقعات پر افسران نے نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کیں اور کئی کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا بھی پڑا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈنز ٹارگٹ پورا کرنے کے چکر میں عوام کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔صرف اپنا رویہ درست کرلیں جس کے بعد بہت سے روڈ پر مسائل حل ہوجائیں گے۔

قبلہ

مزید : ملتان صفحہ آخر