مظفرآباد،سرگن بکوالی شاردہ میں قتل ہونیوالی خاتون کا کیس داخل دفتر

مظفرآباد،سرگن بکوالی شاردہ میں قتل ہونیوالی خاتون کا کیس داخل دفتر

  

مظفرآباد(بیورورپورٹ)بااثر افراد کی کارستانی ۔سرگن بکوالی شاردہ نیلم میں قتل ہونے والی خاتون کا کیس دبا لیا گیا ۔جرگہ داروں نے جبراً راضی نامہ کروا کر نعش بدوں ایف آئی آراور بدوں پوسٹ مارٹم رپورٹ سپرد خاک کرا دی ۔ورثاء انصاف کیلئے مظفرآباد پہنچ گئے ۔آئی جی پی کو تحریری درخواست بھی دیدی علی زمان ولد عزیز الرحمان نے اپنے والد کے ہمراہ صحافیوں کو بتایا کہ آج سے نو ماہ قبل 23مارچ 2017شام چار بجے میری والدہ سائل بی بی اپنے گھر سے ملحقہ مویشی کی بانڈی میں بھوسہ لانے کی غرض سے گئی ۔جہاں پر ملزمان عبدالرشید ولد عنایت اللہ ،ارشاد ،نذیر پسران ،فیروز دین ،صدیق ولد شمس الحمان ،نذیر ولد غلام حسین وغیرہ نے میری والدل سائل کو پکڑا ۔ہاتھ پائی کی اور زمین پر دبوچ لیا ہاتھ پائی کے دوران والدہ مقتولہ کی کمر اور بازو ٹوغ گیا ۔چہرے پر بھی سیاہ نشان کی ضربات آئیں اور گردن پر بھی زخم ہوئے ۔سائل کی ہمشیرہ نو سالہ شمائلہ والدہ کے ہمراہ تھی جس نے واقعہ خود دیکھا ۔ملزمان عبدالرشید ،ارشاد نے شمائلہ کو اٹھا کر کمرے سے باہر برف میں پھینک دیا ۔آٹھ نو فٹ برف میں شمائلہ پھنس گئی ۔میری والدہ کی چیخ و پکار پر چھوٹا بیٹا اور بھائی نوید دوٹا ہوا جائے وقوعہ پر گیا مگر دیوار پھیلانگتے ہی پاؤں پھسل کر برف میں ڈوب گیا ۔چچا سائل منگتا ولد یعقوب ساکنہ دیہیہ بھی شور شرابا اور چیخ و پکار سنتے ہوئے جائے واردات کی طرف گیا ۔مگر ملزمان بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ۔ملزمان عبدالرشید ارشاد،نذیر ،صدیق ،نذیر ولد غلام حسین کو چچا سائل نے بھاگتے ہوئے بذات خود دیکھا ۔مقتولہ والدہ سائل بی بی کی نعش برآمدے میں پڑی تھی سانس ختم ہو چکا تھا ۔بعد ازاں چچا سائل منگتا کا بیٹا فضل الرحمان اور پڑوسی عبدالرحمان ولد عزیز الرحمان بھی موقع پر پہنچ گئے ۔جنہون نے مقتولہ کی نعش اٹھائی اور اوپر گھر لے گئے جرگہ برادری کے دباؤ پر جبراً راضی نامہ کروا کر نعش کو بدوں ایف آئی آر پوسٹ مارٹم سپرد خاک کروا دیا ۔تھانہ شاردہ میں اطلاعی رپورٹ دی مگر بااثر ملزمان کی پشت پناہی کی وجہ سے جعلی و فرضی راضی نامہ کو آڑ بنا کر تاحال ملزمان کے خلاف تحت ضابطہ ایف آئی آر درج نہ کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ وجہ عناد تنازعہ اراضی ہے ۔دعویٰ بعنوانی عبدالرشید بنام عزیز الرحمان عدالت سول جج شاردہ زیر کار ہے ۔جرگہ کے روبرو ملزمان نے اعتراف قتل کیا اور اشٹام پیپر پر لکھ کر دیا کہ وہ زمین کے مقدمہ سے دستبردار ہو جائیں گے ۔حکم امتناعی ختم کروائیں گے اور سائل بی بی کے حصہ کی زمین چھوڑنے کے پابند ہونگے ۔ملزمان نے فعہ PC 302کا ارتکاب کیا ہے اور اب جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔مذکورہ ملزمان پہلے بھی سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں ملزمان نے علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم ،چیف سیکرٹری ،آئی جی سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور نعش کو ازسرنو پوسٹمارٹم کروایا جائے ۔ہم ملزمان کے خوف سے علاقہ چھوڑ کر کے پی کے میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -