ایس ایم ایز کے لئے فنانسنگ کی شرح افسوسناک ہے، ابراہیم قریشی

ایس ایم ایز کے لئے فنانسنگ کی شرح افسوسناک ہے، ابراہیم قریشی

  

کراچی(پ ر)ا سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایس ایم ای فنانس کی ترقی کے لئے اپنی پالیسی کا اجراء کیا ہے، آل پاکستان بزنس فورم نے کمرشل بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایس ایم ای سیکٹر کیلئے اپنی فنانسنگ میں بہتری لائیں جن کا مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد حصہ ہے۔ آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ بینکس چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو فنانسنگ سے گریزاں ہیں جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ریکارڈ کمی کے باوجود ان کی فنانسنگ منفی نمو کو ظاہر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ اور اسلامی بینکوں کا ایک چھوٹا شعبہ اور چند ترقیاتی مالیاتی ادارے (ڈی ایف آئیز) ایس ایم ایز سیکٹر کو فنانسنگ کیلئے متحرک ہیں۔ جی ڈی پی میں ایک نمایاں حصہ ڈالنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے باوجود مختلف سطحوں کے صارفین کیلئے مجموعی فنانسنگ میں ایس ایم ایز کو فنانسنگ کی شرح افسوسناک ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایس ایم ای پالیسی کی توجہ ایس ایم ای سیکٹر کو درپیش مخصوص مسائل اور ایس ایم ایز کو فنانسنگ کی فراہمی کے لئے مالیاتی اداروں کی نگرانی میں مدد پر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آل پاکستان بزنس فورم ایس ایم ای فنانس کو فروغ دینے کے لئے تجویز کردہ اقدامات بشمول ایس ایم ای کے لئے رسک شیئرنگ فیسلٹی کی فراہمی سے متعلق کریڈٹ گارنٹی کمپنی کی تشکیل اور مالیاتی اداروں کے محفوظ لین دین کے ایکٹ 2016ء کے تحت یکم جولائی 2018ء سے محفوظ ٹرانزیکشنز کی مشترکہ رجسٹری کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے تمام شراکت داروں پر ایس ایم ای پالیسی کے مقاصد کو پورا کرنے اور ترجیحی شعبوں کی معاونت پر زور دیا۔ ابراہیم قریشی نے معیشت کی ترقی اور نمو کیلئے ایس ایم ایز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایس ایم ایز کے لئے مالیاتی رسائی کی رفتار میں تیزی بشمول ریگولیٹری فریم ورک کو فعال کرنے، مارکیٹ ڈویلپمنٹ، شعور کی تخلیق اور بینکوں اور ایس ایم ایز کے لئے صلاحیتوں کی تعمیر کے پروگرام اور بینکوں و ڈی ایف آئیز کے لئے ایس ایم ای فنانسنگ اہداف کے تعارف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مجموعی ترقی میں ایس ایم ای سیکٹر کی شراکت کو فروغ دینے کیلئے ایک الگ اور جامع پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک مکمل مشاورتی عمل کو اپنانا چاہئے جہاں تمام متعلقہ شراکت دار بشمول بینکس، ترقیاتی مالیاتی ادارے، مائیکرو فنانس بینکس، چیمبرز، تجارتی تنظیمیں، سمیڈا، کثیر المالیاتی ادارے، ایس ایم ایز، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکمے ایس ایم ای فنانس کی نمو میں رکاوٹ بننے والی مختلف مشکلات پر تبادلہ خیال اور مختلف شعبوں میں پالیسی کی مداخلت پر مشاورت کر سکیں۔ ابراہیم قریشی نے کہا کہ پاکستان وژن 2025ء کے اہداف کے حصول میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر میں ترقی سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ملکی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایس ایم ایز کی تعداد 3.2 ملین ہے جن کا پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 30 فیصد حصہ ہے اور پنجاب میں اس کا حصہ 66 فیصد ہے، بلوچستان میں ملکی ایس ایم ای شعبہ کا حصہ سب سے کم 2.3 فیصد ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بالترتیب 18 فیصد اور 15 فیصد ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -