پاکستان اپنے مقامی وسائل کو فعال انداز میں بروئے کار لا کر ہی بیرونی قرضوں اور امداد سے نجات حاصل کر سکتا ہے: مونس الٰہی

پاکستان اپنے مقامی وسائل کو فعال انداز میں بروئے کار لا کر ہی بیرونی قرضوں ...
پاکستان اپنے مقامی وسائل کو فعال انداز میں بروئے کار لا کر ہی بیرونی قرضوں اور امداد سے نجات حاصل کر سکتا ہے: مونس الٰہی

  

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما مونس الٰہی نے پنجاب کے کینو کے پھل کے کاشتکاروں کے وفد سے لاہور میں ملاقات کے دوران ملک کو درپیش خطرناک معاشی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے اس یقین کااعادہ کیا کہ پاکستان دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہو سکتا ہے اگر اس کے وافر قدرتی اور انسانی وسائل کو صحیح طریقہ سے بروئے کار لایا جائے ۔ انہوں نے ملک سے غربت کے خاتمہ اور انتہائی مشکل شرائط پر بیرونی قرضو ں کے حصول کو ترک کرنے کیلئے زراعت کے اہم ترین کردار پر زور دیا ۔ پاکستان میں کینوکی پیداوار کا حوالہ دیتے ہوئے مونس الٰہی نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے مگر اس پھل کی 2.4ملین ٹن سالانہ پیدا وار کے باوجود صرف کچھ لاکھ ٹن برآمد کیا جاتا ہے جو اس قیمتی پھل کو کوڑے میں پھینکنے کے مترادف ہے جبکہ اس کو برآمد کرنے سے سالانہ کثیر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ن لیگ کے کسانوں کے ساتھ سوتیلی ماں کی طرز کے سلوک کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مونس الٰہی نے کہ ن لیگ کی کسان کش پالیسیوں کی وجہ سے کسان اپنے کھیت اور باغات ہاؤ سنگ سکیموں ، شادی گھروں اور بیرونی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔مونس الٰہی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں 2007ء میں ہم نے واقعی کشکول توڑ دیاتھا ۔ معاشی خود کفالت کے اس تاریخی کارنامہ کا سہرا مونس الٰہی نے پنجاب میں 2002-2007 کے دوران پاکستان مسلم لیگ کی کسان دوست پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کو دیا۔

مزید :

کسان پاکستان -