جوگی کی بددعا نے نیپالی بادشاہت کا خاتمہ کردیا،دوسوسال پہلے جس بادشاہ نے جوگی کو دھتکارااسکی دسویں نسل کیسے اندوہناک انجام کو پہنچی ،یہ جان کر آپ ششدر رہ جائیں گے

جوگی کی بددعا نے نیپالی بادشاہت کا خاتمہ کردیا،دوسوسال پہلے جس بادشاہ نے ...

  

لاہور(ایس چودھری )نیپال کا جادو سرچڑھ کر بولتا ہے اور پوری دنیا میں نیپال جادوٹونے کے حوالے سے اپنی شہرت رکھتا ہے۔نیپال میں عام سے خواص تک سبھی سادھو،بھکشو، پنڈتوں، جوگیوں کے کالے علوم کا احترام کرتے اور انکی دل آزاری سے گریز کرتے ہیں۔ پندرہ سال پہلے کا یہ ہولناک واقعہ تو سب کو یاد ہوگا جب نیپال کے ولی عہد نے پورے شاہی خاندان کوقتل کرکے خود کشی کرلی تھی۔آج تک اس کے پیچھے چھپی سازشوں کو تلاش کیا جارہا ہے لیکن نیپال کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ قتل کی واردات ایک بددعا کا نتیجہ ہے جو دوسوسال پہلے اس خاندان جد امجد کے لئے کی گئی تھی اور یوں 280 سال تک بادشاہت کرنے والے خاندان کو تخت و تاج سے محروم ہونا پڑا۔

۲۰۰۲ء میں ساری دنیا اس وقت حیرت زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ غم و اندوہ میں ڈوب گئی جب یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی کہ نیپالی ولی عہد دیپیند رانے اپنے والدین سمیت شاہی خاندان کے مزید سات افراد کو گولیاں مار کر خود اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔ اس حوالے سے سب سے پہلے جو کہانی منظر عام پر آئی وہ یہ تھی کہ ولی عہد نے یہ انتہائی قدم اپنے والدین کی جانب سے اس کی پسند کی لڑکی کو ٹھکرائے جانے پر اٹھایا تھا۔ وہ ہر وقت شراب کے نشے میں دھت رہتا اور نشے کی وجہ سے ہوش و حواس سے بیگانہ رہنے لگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے بغیر سوچے سمجھے اپنے ماں باپ سمیت کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس دل دہلا دینے والے واقعے نے لوگوں کے ذہنوں پر ایک ان مٹ نشان چھوڑ دیا۔ اس خونی واقعے کے پیچھے بھی ایک روایت ہے جس کے ڈانڈے دو سو سال قبل نیپال کے پہلے بادشاہ پر تھوی نرائن شاہ سے جا ملتے ہیں جس نے گورتھ ناتھ نامی ایک جو گی کو دہی پیش کیا تھا مگر اس نے کھانے کے بجائے اسی دہی میں قے کر کے بادشاہ کو واپس کر دیا۔ کراہت اور غصے کے مارے بادشاہ نے وہ دہی قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر ناراض ہو کر جوگی نے بددعا دی کہ دسویں پشت تک اس کی نسل میں بادشاہت کاخاتمہ ہو جائے گا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ شہزادہ دیپیندرا اس پشت کا دسواں بادشاہ بننے والا تھا۔ گو اپنے بھائی اور بھتیجے کی اموات کے بعد اس کے چچا گینندرا نے تخت و تاج سنبھالا مگر اس سانحے کے بعد پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں جلد یعنی۲۰۰۶ء ہی میں اسے تخت سے دستبردار ہونا پڑا اور نیپال میں بادشاہت کے مکمل خاتمے کے بعد جمہوری طرز حکومت رائج ہو گیا۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -