جب اسلامی لشکر صحرا میں پیاسا بھٹکنے لگا تو ایک گھوڑے نے ایسا کام کردکھایاکہ سارا لشکر خوشی سے جھوم اٹھا

جب اسلامی لشکر صحرا میں پیاسا بھٹکنے لگا تو ایک گھوڑے نے ایسا کام کردکھایاکہ ...
جب اسلامی لشکر صحرا میں پیاسا بھٹکنے لگا تو ایک گھوڑے نے ایسا کام کردکھایاکہ سارا لشکر خوشی سے جھوم اٹھا

  


دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے علامہ اقبال کا یہ شعر جس عظیم مسلمان سپہ سالار کے لئے وارد ہوا تھا ان کا نام عقبہ بن نافعؓ تھا ۔آپؓ نے مغربی الجزائر اور مراکش میں اسلامی فتوحات کا آغاز کیا۔آپؓ نے بحر اوقیانوس کو عبور کرنے کے لئے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور اللہ تبارک تعالٰی سے عرض کی تھی ’’اے میرے اللہ اگر یہ سمندر میری راہ میں حائل نہ ہوتا تو زمین کے آخری کونے تک تیرا نام بلند کرتا چلا جاتا‘‘ ایک بار حضرت عقبہ بن نافعؓ اپنے مجاہدین کا لشکر لے کر ایک سفر میں ایک لق و دق صحرا سے گزر رہے تھے ، سفر بہت طویل تھا۔ راستہ بھی اجنبی تھا۔ پھرتے پھرتے ایک مقام پر پہنچے جہاں لشکر کا پانی ختم ہو گیا، دور دور تک پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔لشکر پیاس سے نڈھال ہوئے جارہا تھا،گھوڑے بھی ہانپ رہے تھے ۔اس پریشانی کی حالت میں حضرت عقبہ بن نافعؓ نے دور کعت نماز پڑھ کر طویل دعا کی۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ اسی وقت آپؓ کے گھوڑے نے اپنے سم سے صحرائی زمین کو کرید نا شروع کیا۔ جب تھوڑی دیر گزری تو ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ مجاہد ین نے اس پتھر کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ایک خوشگوار اور ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ نکل آیا۔ سب لوگ بہت خوش ہوئے اور خوب سیر ہو کر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھی پانی سے بھر لیے۔ حضرت عقبہ بن نافعؓ نے اس جگہ کا نام ماء الفرش (یعنی گھوڑے کے پانی کا چشمہ ) رکھ دیا ۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : روشن کرنیں