فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر313

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر313
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر313

  

’’ کوڈک‘‘ کے واقعے سے پہلے ایک اور وا قعہ بھی رونما ہو چکا تھا جس کی وجہ سے ہمارے جھگڑالو پن کو شہرت ملی تھی۔

ہوا یہ کہ جب فلم ’’کنیز‘‘ کی ریلیز کے بعد کچھ پیسے آئے تو مسلمانوں کی روایت کے مطابق ہم فیاّضی کے ساتھ اخراجات کرنے لگے۔ جن کا پروگرام ہم پیسے وصول ہونے سے پہلے ہی بنا چکے تھے۔ اس شیڈول میں ایک نئی کار خریدنا سرفہرست تھا۔

اطالوی کار ’’فئٹ‘‘ اُن دنوں پاکستان میں کافی مقبول تھی۔ فئٹ ایک نامور کار ساز ادارہ تھا(اب بھی ہے مگر پاکستان میں اب اس کی کار کی درآمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے) پاکستان میں جاپانی کاریں مقبول ہونے سے پہلے انگریزی، جرمن اور اطالوی کاریں ہی پسند کی جاتی تھیں لہذا ہمیں بھی دوستوں نے مشورہ دیا کہ آنکھیں بند کر کے فئٹ کار خرید لو۔

فئٹ کار شاندار دفتر الفلاح بلڈنگ میں قائم تھا۔ لاہور میں پلازا سنیما والے چوک پر فئٹ کی ایک بہت بڑی ورکشاپ بھی تھی جس کے سپروائزر تھے تو پاکستانی مگر خود کومسولینی کا جانشین خیال کرتے تھے۔ سوٹ بوٹ، ٹائی سر پر فلیٹ ہیٹ ،منہ میں پائپ ،جوان آدمی تھے اور اپنے کام میں ماہر بھی تھے۔ ان کے ماتحت درجنوں کاریگر کام کرتے تھے۔ ہم نے فئٹ کار خریدنے کیلئے معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ چھوٹی فئٹ کار کی قیمت تیرہ ہزار چند سو روپے ہے۔ اب تو ہمیں خود بھی یقین نہیں آتا، آج کی نسل کو بھلا کیا یقین آئے گا مگر یہ بالکل درست بات ہے کہ تیرہ ساڑھے تیرہ ہزار میں آپ شو روم سے بالکل برانڈ نیو اپنی پسند کی کار حاصل کر لیجئے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر312 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اداکار محمد حنیف آزاد صاحب کاروں کے معاملے میں بہت باخبر اور ہنر مند سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے مشوہ دیا’’ میاں، کراچی سے گاڑی خریدو، دو ڈھائی سو روپے کم قیمت میں پڑے گی‘‘۔

ہم نے کہا ’’ مگر وہاں سے ٹرین کے ذریعے لانے پر بھی تو دو ڈھائی سو روپے خرچ ہوں گے‘‘۔

’’ ارے میاں ٹرین کے چکر میں مت پڑو۔ آرام سے بائی کار سفر کرو۔ راستے میں سیرو تفریح کرو۔ جہاں جی چاہے رک جاؤ‘‘۔

خیال تو اچھّا تھا مگر سوال یہ تھا کہ ہم تو تھے بالکل اناڑی اتنے لمبے سفر میں کار کون چلائے گا؟

وہ بولے’’ارے میاں۔ کیا ہم مر گئے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ڈرائیور بن کر آ جائیں گے۔ آخر قائداعظم کے ڈرائیور رہے ہیں آپ کے لئے تو بڑے اعزاز کی بات ہو گی‘‘۔

ہم نے کہا’’ہم نے منٹو صاحب کا وہ مضمون پڑھا ہے۔ آ پ جیسے ڈرائیور ہیں وہ ہم خوب جانتے ہیں‘‘۔

وہ قہقہہ مار کر ہنسے ’’ ارے میاں وہ تو زمانۂ جاہلیت کی باتیں ہیں اب تو ا للہ کے فضل سے ماہر ہوں۔ آنکھیں بند کر کے کار چلاتا ہوں‘‘۔

’’ پھر تو ہمیں معاف ہی رکھئے‘‘۔

مگر محمد حنیف آزاد کوئی ارادہ کر لیں اور پھر اس سے باز بھی آجائیں، یہ ممکن نہیں تھا۔

قصہ کوتاہ ، ہم بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچے۔ میٹروپول ہوٹل میں ٹھہرے۔ دوستوں سے ملاقاتیں کیں۔ فیٹ کار خریدی اور لاہور واپس آنے کیلئے پابہ رکاب ہو گئے۔

’’ آزاد صاحب پھر کب چل رہے ہیں ہمارے ساتھ لاہور؟‘‘

’’ ارے صاحب۔ ایک غریب فلم ساز کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔ بیچ میں چھوڑ دی تو وہ مر جائے گا، غریب اور بددعائیں دے گا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ میں کثر العیال آدمی ہوں۔ کسی کو بددعاؤں کا موقع نہیں دے سکتا اور پھر ابھی آپ کو کم از کم چار پانچ سو میل بہت آہستہ رفتار سے کار چلانی ہے۔ آپ کراچی میں گھومیں پھریں اور عیش کریں۔ ا تنے میں بھی شوٹنگ سے فارغ ہو جاؤں گا‘‘۔

ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ فور اً اس پروگرام پر عمل شروع کر دیا اور خوب اپنا ہاتھ صاف کیا۔ چمچماتی ہوئی نئی کار میں بیٹھنے اور اسے چلانے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے اور یہ تو ہماری اپنی کمائی کی ، پہلی پہلی ذاتی کار تھی۔ ان ددنوں ہم تھے، ہمارے دوست تھے اور کراچی کی سڑکیں۔ کراچی میں ان دنوں صحیح معنوں میں میٹروپولیٹن شہر تھا۔ انتہائی صاف ستھرا، روشن خوبصورت اور قائدے قانون کا پابند۔ وہاں کی ٹریفک پولیس کو دیکھ کر ہمیں رشک آتا تھا۔

گاڑی چار سو میل چل چکی تو ہم نے پھر الیاس بھائی کے توّسط سے آزاد صاحب سے رابطہ قائم کیا۔ وہ دوسرے ہی دن ہفت روزہ نگار کے دفتر میں تشریف لے آئے ۔ہماری بات انہوں نے بڑی توجّہ سے سنی۔ پان کی ایک گلوری کّلے میں دبائی اور بولے’’آفاقی میاں۔ بھائی آپ کو کیا وحشت ہے؟ ارے میاں کراچی چھوڑ کر جانے والا شہر نہیں، رہنے والا شہر ہے‘‘۔

الیاس بھائی نے ہم سے کہا ’’ دراصل آزاد صاحب کو اچانک ایک اور فلم ساز کی شوٹنگ کرنی پڑ رہی ہے جو انہیں نقد معا وضہ دے رہا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ یا تو تم ایک ہفتے اور کراچی میں رک جاؤ یا پھر ڈرائیونگ کے لئے کوئی اور بندوبست کر لو‘‘۔

کراچی میں ای ایم آئی گراموفون کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر راشد لطیف صاحب ہمارے بہت گہرے دوست تھے۔ انہوں نے بعد میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی بنائی۔ بے نظیر حکومت میں سیکرٹری اطلاعات بھی رہے۔ پولکا آئس کریم بھی ان ہی بھائیوں کی تخلیق ہے۔ راشد لطیف صاحب سے ہماری دوستی اقبال شہزاد کے ذریعے ہوئی تھی۔ ان دونوں کا میدان ایک ہی تھا اس لئے خوب گاڑھی چھنتی تھی، راشد صاحب موسیقی کے دلدادہ اور فن کاروں کے بڑے قدردان تھے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں گلوکاروں، موسیقاروں اور نغمہ نگاروں کیلئے کاپی رائٹ قانون بھی ان ہی کی کوششوں سے بنایا گیا ہے۔

راشد صاحب بہت ا چھّے بلکہ مثالی انسان ہیں مگر ان میں ایک خرابی یہ ہے کہ وہ ہر وقت کام کرتے رہتے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں پچیس گھنٹے مصروف رہا کریں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ بھی ان ہی کی طرح کام کرتے رہیں۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے ا ن کے ماتحت بے حد نالاں رہتے ہیں۔ دوست احباب بور ہوتے رہتے ہیں ، گھر والے بھی عاجز رہتے ہیں۔

راشد صاحب نے پاکستان میں موسیقی کی ترویج و ترقی میں بہت نمایاں حصّہ لیا۔ وہ ایک انجینئر ہیں لیکن ان کا دماغ بھی انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ ٹیکنیکل معاملات میں ان کا دماغ کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیزی سے چلتا ہے اس کے باوجود نہ صرف باذوق ہیں بلکہ ہنسنے ہنسانے کا شوق و ذوق بھی رکھتے ہیں۔ وہ اگر لطیفہ پسند کرنے والے نہ ہوتے تو شاید ہم سے اتنی گہری دوستی نہ ہوتی۔ خود تو وہ لطیفے نہیں سناتے مگر سُن کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ بہر حال ان کا پہلا شوق’’کام ، کام اور کام‘‘ ہے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہماری ان سے دوستی کراچی میں ہوئی تھی جو لاہور سے ہوتی ہوئی ڈھاکہ تک پہنچ گئی۔ ہم جب بھی کہیں جاتے تھے وہ ہمیں مل جاتے تھے۔ مثلاً ہم اسلام آباد گئے تو وہ اچانک ہوٹل میں مل گئے اور خوب گپ شپ رہی۔ ہم فلم اسٹاروں کے ساتھ ڈھاکہ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ راشد صاحب بھی ہوٹل شاہ باغ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ان کے ایک دوست ابو سیٹھ بھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ کاروباری آدمی تھے مگر بے حد لطیفہ باز۔ ہم انہیں اردو میں لطیفے سناتے اور وہ انگریزی میں لطیفے سناتے۔ پھر ہم سب اردو میں خوب ہنستے۔ اقبال شہزاد بھی وہیں موجود تھے اس لئے خوب محفل سجتی تھی۔

راشد صاحب کو اقبال شہزاد نے ’’انتہائی شریف اور بے کار ‘‘ شخص کا خطاب دیا تھا۔ان کا حال یہ تھا کہ وہ نہ تو گوشت اور مچھلی مرغی کھاتے تھے۔ نہ سگریٹ پیتے تھے۔ شراب کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ کافی اور چائے البتہ کبھی کبھی پی لیتے تھے حالانکہ وہ انگلستان میں پڑھے تھے اور کافی عرصے ای ایم آئی کمپنی کی ملازمت کے سلسلے میں لندن میں مقیم رہے تھے۔ اقبال شہزاد کہتے تھے کہ اس شخص کی زندگی میں کوئی اچھّی چیز نہیں ہے۔ رومانس سے انہیں دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ لڑکیوں کو یوں دیکھتے تھے جیسے وہ گراموفون ریکارڈ ہوں بلکہ گراموفون ریکارڈوں سے انہیں زیادہ دلچسپی تھی۔ صنف مخالف سے وہ دور ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ شہزاد صاحب کا بیا ن تھا کہ وہ لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے شرماتے ہیں خیر انہیں شرماتے ہوئے تو ہم نے نہیں دیکھا البتہ یہ ضرور دیکھا کہ خواتین کو وہ مطلق خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ عجیب و غریب آدمی تھے حالانکہ بے حد مہذّب، بااخلاق اور وضع دار تھے۔ نوجوانی میں کسی شخص میں یہ صفّات پیدا ہو جائیں تو اسے ولی ہی کہا جا سکتا ہے۔

ایک دن اچانک کراچی سے اقبال شہزاد کا فون آیا اور انہوں نے حسب عادت دوچار فلک شگاف قہقہے لگانے کے بعد فرمایا ’’ سوفی ( وہ ہمیں اسی گھریلو نام سے پکار تے تھے) یار انقلاب آ گیا‘‘۔

ہم نے پوچھا’’کیوں ۔ کیا ہوا؟‘‘

بولے ’’ ر اشد نے شادی کر لی ہے‘‘۔

ہم تو ہکّا بکّا رہ گئے۔ کہاں راشد لطیف اور کہاں شادی؟ ان دنوں ہمارا کراچی آنا جانا لگا رہتا تھا۔ چند روز بعد کراچی گئے تو اقبال شہزاد کے ہمراہ راشد صاحب کے فلیٹ پر بھی گئے۔ اقبال شہزاد صاحب نے راستے ہیں چلتے چلتے ہمیں کافی معلومات فراہم کر دیں۔ را شد صاحب نے ایک بنگالی خاتون سے شادی کی تھی جو مشرقی پاکستان کے ایک بڑے کسٹم آفیسر کی صاحب زادی تھیں۔ نہایت ماڈرن تھیں۔ انگلستان میں کافی عرصہ رہ چکی تھیں۔ اردو واجبی جانتی تھیں۔ بنگلہ تھوڑی بہت البتہ انگریزی فرفر بولتی تھیں۔ ان کا مزاج اور عادات و اطوار بھی انگریزوں جیسے تھے۔ شہزاد صاحب نے ہمیں وارننگ دے دی کہ وہ راشد کے دوستوں کو پسند نہیں کرتیں۔ خاصی سرد مہری سے پیش آتی ہیں اس لئے تم بے تکلّف ہونے کی کوشش نہ کرنا۔ راشد صاحب کے اکثر دو ستوں نے ان کے گھر آمدو رفت کم کر دی ہے۔ کچھ نے تو بالکل ہی بند کر دی ہے۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر314 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -