ایران اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان کو یہ کام کرنا ہوگا

ایران اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان کو یہ کام کرنا ہوگا
ایران اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان کو یہ کام کرنا ہوگا

  

سعودی عرب مشرقَ وسطیٰ کے ممالک میں ایک ایسا مُلک تصور کیا جاتا تھا جو دوسرے ممالک کے مقابلہ میں زیادہ پرُ سکون ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے وہاں کی صورت حال بھی اضطراب کا شکار نظر آتی ہے۔ شاہ سلمان کا دور سیاسی طور پر پُر آپ آشوب نظر آتا ہے۔ جس سر عت کیساتھ وہاں پر اصلاحات لائی جا رہی ہیں اُنکو دیکھ کر اچنبھا ہوتا ہے۔ کیونکہ سعودی عرب میں سیاسی تبدیلیاں اتنی پُھرتی سے رونما نہیں ہوتیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بن جانے کے بعد سعودی عرب کی سیاست میں ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔ تین ہفتے پہلے نئے ولی عہد نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں لگ بھگ دو درجن شہزادوں کو اچانک گرفتار کر لیا اور اُ نکو ایک فائیو سٹا ہوٹل میں بند کر دیا گیا تھا۔ اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے کرپش سے مُلک کی دولت کو لوُٹا اور غیر قانونی طریقے سے دولت کے انبار لگائے۔ سعودی معاشرے سے واقف لوگ اس حقیقت سے انکار نہیں کریں گے کہ سعودی عر ب میں زیادہ تر بزنس شہزادوں کے نام سے ہوتا ہے۔ کیونکہ جو کام ایک عام آدمی سے نہیں ہو سکتا۔ اُس کام کو کروانے کے لئے شہزادوں کے اثر و رسوخ کو استعمال کیا جاتاہے۔ یہ سفارش شہزادے مُفت نہیں کرتے بلکہ یہ کام کروانے کے لئے شہزادوں کو مُنہ مانگی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ یہ قیمت رقم کی صورت میں یا کمشن کی صورت میں شہزادے کو ادا کی جاتی ہے۔ اِن رقوم سے شہزادے پیسہ بناتے ہیں۔ پیسہ بنانے کے لئے اقاموں کا کارو بار کیا جاتاہے۔ شہزادے اپنی کفالت پاکستانی یا دوسرے ممالک کے ایجنٹوں کے ذر یعے بیچتے ہیں۔ جسے لاکھوں ریال کی سالانہ ا نکم ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت ان تمام باتوں سے واقف ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچانک سعودی عرب کی حکومت کو کیا سُوجھی کہ وُہ مُلک کے نا مور شہزادوں کے خلاف یکدم انتہائی قدم اٹھائے؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کُچھ اچانک سے نہیں ہوُا بلکہ ولی عہد نے اپنی پو زیشن کو مضبوط کرنے لئے اُن شہزادوں کا گرفتار کروایا ہے جس سے و لی عہد کو خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ با الفاظِ دیگر، ولی عہد اپنے اقتدار پر گرفت کو مضبوط بنانے کے لئے بلا جواز گرفتاریاں کروا رہے ہیں۔ بعض شہزادوں کو خطیر رقوم کے عوض آزاد کیا جارہا ہے۔ غر ضیکہ سعودی عرب وُہ سب کُچھ ہورہا ہے جس کی عام حالت میں توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ یا د رہے کہ اِن گرفتار شُدہ شہزاددں میں شہزادہ ولید بھی شامل ہیں جن کا شمار دُنیا کے مخیر حضرات میں لیا جا تا ہے۔

بعض حلقوں کا کہناہے کہ شہزادہ ولید کو صدر ٹر مپ کے ایماء پر گرفتار کیا گیا ہے۔ کیونکہ شہزادہ ولید نے امریکہ کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ ، شہزادہ ولید کے صدر ٹرمپ کے صاحبزادے کے ساتھ تجارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ وجہ چاہے کُچھ بھی کیوں نہ ہو۔ سعودی عرب میں بسنے والوں اور اُسکی اطراف کے ممالک کے لئے پریشان کن ضرور ہے۔

یہ بھی شنید ہے کی شہزداہ محمد بن سلمان یمن پر حملہ کرنے والے اتحاد کے روح رواں ہیں۔ اُن کی آشیر باد ہی سے قطر کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے خلیج کے ممالک کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا گیا ہے۔ کیونکہ شہزادہ محمد سعودی عرب کی حکومت کی سوچ میں تبدیلی کی روح پھونک رہے ہیں۔ وُہ ایران کے علاقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو طاقت سے روک دینا چاہتے ہیں۔ تاکہ وُہ اپنے شہریوں کو اور دوسرے ممالک کو یہ پیغام دے سکیں کہ سعودیہ عصری تقاضوں سے واقف ہے اور اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ اُس کی خاموشی کو کمزوری نہ سجھا جائے۔ سعودی عرب کے سیاسی امیج کو بدلنے کے لئے حکومت نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی آزادی دے دی ہے اور اس کے علاوہ عورتیں سٹیڈیم میں مُختلف کھیلیں بھی دیکھ سکیں گی۔ ایسی آزادی کا تصور چند سال پہلے تک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سعودی عرب میں عورتوں کو آزادی دے کر حکومت نے ایک دیرینہ مطالبے کو پُورا کیا ہے اور دُنیا کو یہ تا ثر دیا ہے کہ سعودی عرب میں معاشرہ وقت کے ساتھ سا تھ بدل رہا ہے۔ تاہم سعودی عرب میں اچانک ایسی تبدیلیاں جہا ں نئی سوچ کی علمبردار ہیں وہاں سنجیدہ عوام کے لئے لمحہ ء فکریہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ ہر عام آدمی غیر معمو لی تبدیلیوں سے خائف نظر آتا ہے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض کی ائر پورٹ پر میز ائلوں سے حملے اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عر ب کی حکو مت خطرات میں گری ہوئی ہے سعودی عرب کی حکومت داخلی اور خا رجی خطرات سے دوچار ہے۔ حوثیوں سے مسلسل لڑائی سعودی عرب میں عد م استحکام کے احساس کو اُجاگر کر رہی ہے ہے۔ ایران بلا شبہ یمن کی باغی افواج کی مد د کر رہا ہے۔ سعودی حملوں میں استعمال کئے جانے والے میزائل ایران کے بنائے ہوئے ہیں۔ ایران علاقہ میں اپنی بالا دستی قایم رکھنے کے لئے ایسی شراتیں کرتا رہتا ہے۔ تاہم سعودی حکومت ایسے عزائم سے پُوری طرح سے آگا ہ ہے۔ حالیہ ایام میں سعودی عر ب نے اپنے مندوب کے توسط سے اقوام متحدہ مین ایران کے جارحانہ رویے پر احتجاج کیا ہے۔ علاوہ ازیں، ریاض کی ائیر پورٹ پر حملے میں شامل میزا ئلوں کے اثبات بھی فراہم کئے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران کو یہ بتایا جا سکے کہ ایران حوثیوں کو نہ صرف مدد کر رہا ہے بلکہ اُن کو میز ائل بھی فراہم کر رہا ہے۔ اِس لئے دن بدن مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔

ایران چونکہ ایٹمی طاقت بننے کے قریب پہنچ چُکا ہے۔ لہذا سعودی عرب اور تمام خلیجی ممالک کا امریکہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ اُن کو بھی ایٹمی طاقت بننے کی اجازت دی جائے۔ امریکہ، سعودیہ، خلیجی ممالک ، اسرائیل اور دوسرے ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران شام، لبنان اور دوسرے ممالک میں اپنے میزائل فراہم کررہا ہے جس سے علاقے میں عدم استحکام کی فضا پیدا ہو چُکی ہے۔سعودی عر ب اپنے دفاع کے لئے ہر ایک آپشن ا ستعمال کر رہا ہے۔ وُہ اندریں حالات ایران سے بچنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ بھی ہاتھ ملا سکتا ہے۔ جو کہ تمام مُسلم ممالک کے لئے حیرت کی بات نہیں ہونی چاہئے ۔ کیونکہ سعودی عرب کو اپنی سر زمیں محفوظ بنانے کے لئے یا اپنا د فاع کرنے کے لئے اخلاقی اور قانونی حق حاصل ہے۔ابھی تک امریکہ سعودی عرب کو ایٹمی طاقت بنانے کے خلاف ہے۔ لیکن اگر امریکہ نے یا کسی دوسرے مُلک نے سعودی عرب کو ایٹمی مواد فراہم کرنے کی حامی بھر لی تو خطے میں کُچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا سعودی عرب میں خاموشی کی فضا کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لئے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ چلنا انتہائی مُشکل ہو جائے گا۔صورت حال پاکستان کی وزارت خارجہ اور حکومت کے لئے درد سر بن سکتی ہے۔پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیاں صُلح کروانے کے لئے کوششیں تیز کرنی ہونگیں۔ بصورت دیگر ہمارے دونوں اہم مُلکوں سے تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -