اوستہ محمد کے نوجوانوں نے وہ کام کرڈالا جو ملک بھر میں نوجوانوں کو کرنا چاہئے

اوستہ محمد کے نوجوانوں نے وہ کام کرڈالا جو ملک بھر میں نوجوانوں کو کرنا چاہئے
اوستہ محمد کے نوجوانوں نے وہ کام کرڈالا جو ملک بھر میں نوجوانوں کو کرنا چاہئے

  


’’صفائی نصف ایمان ہے ۔.یہ شہر ہمارا ہے، اسے صاف رکھنا ہمارا فرض ہے‘‘ اس بینر تلے اوستہ محمد کے نوجوانوں سمیت سیاسی سماجی، صحافی برادری ،پولیس اور سول سوسائٹی نے ریلی نکالی جس کا مقصد صرف اور صرف عوام کو صفائی ستھرائیکی جانب مبذول کروانا تھا۔ ریلی کی اہم بات یہ تھی کہ تمام باشعور نوجوانوں نے اوستہ محمد کے کونے کونے میں جھاڑو لگایا اور کچرا اٹھایا ، صفائی کرنے والے اداروں نے بھی اس مہم میں ساتھ دیا ۔یہ تجربہ بڑا خوشگوار رہاہے۔ 

یہ مہم صرف چند رضاکار نوجوانوں کی جانب سے ازخود شروع کی گئی تھی۔ احسان علی تنیو، شاکر اقبال سیال، گل بلوچ ،غلام دستگیر ،الطاف حسین، شبیر احمد بلیدی نے جب اس جانب قدم اٹھایا تو انکے ساتھ قافلہ بنتا چلا گیا اور نوجوانوں نے ایک بار تو پورے شہر کو چمکادیا حالانکہ روزانہ سرکار بھی یہ کام کرتی ہے لیکن وہ آج تک اسقدر صفائی نہیں کرسکی ۔نوجوانوں نے صفائی کے دوران اسکا شعور بھی اجاگر کیا ہے ۔اس موقع پر ایک مزدور نصراللہ ڈومکی نے بتایاکہ نوجوانوں کے سمجھانے پر میں نے بھی صفائی کا کام شروع کردیا ہے ۔میں گنا بیچتا ہوں اور اب اپنے گنے کا کچرا اپنی ریڑھی پہ رکھتا ہوں تاکہ میرا شہر صاف رہے۔ میں نے جب اس سے پوچھا بھائی سب ریڑھی والے کچرا روڈ پہ پھینکتے ہیں اور آپ اپنے گنے کا کچرا ریڑھی پہ رکھتے ہو،وہ کہنے لگا’’ جب ہم اپنے گھر کو اچھی طرح صاف کر سکتے ہیں تو کیوں نہ ہم اپنی سڑکوں کو بھی صفائی کا حصہ بنائیں۔ یہ کچرامیرے گنے کا ہے، میں اپنا کچرا اپنے ساتھ لے جانے میں خوشی محسوس کرتا ہوں‘‘

ایک اور نوجوان احسان علی تنیو کا کہنا ہے کہ اوستہ محمد ایک گنجان آباد شہر ہے. اس کی آبادی تین لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ شہر مسائل کا گڑھ ہے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ یہاں صفائی کا نظام نہایت درہم برہم اور انتہائی خراب ہے. انتظامیہ کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ اس لیے ہم نے خود ہی شہر کو صاف کرنے کا پروگرام بنایاہے۔

ایک اور نوجوان شاکر اقبال کے بقول یہ مہم کسی قسم کی فنڈنگ کے ذریعے نہیں ہو رہی، نہ یہ کسی این جی او کا پراجیکٹ ہے بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف اپنے شہر کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھنا ہے. ہم اگر اپنے گھر کو صاف رکھ سکتے ہیں تو شہر کو کیوں نہیں؟

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ان تمام نوجوانوں نے شہریوں سے ڈاکٹروں سے ، دکاندار اور ریڑھی والوں سے موؤبانہ گزارش کیکہ وہ اپنے گھر' گلی ' محلے ' سڑک اور پورے شہرکو گندگی وکچرے سے نجات دلانے میں قدم بڑھائیں اور اسکا پہلا قدم اپنے گھر سے اٹھائیں۔نوجوان ایسی تحریک ہر شہر میں شروع کردیں تو یقیناً پاکستان کو سنوارا جاسکتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ