دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں بتا دیتی ہے جن کا کسی کو بھی گماں نہیں ہوتا

دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں ...
دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں بتا دیتی ہے جن کا کسی کو بھی گماں نہیں ہوتا

  


لاہور(نظام الدولہ)دل اور دماغ کی لکیر کے درمیاں مخصوص فاصلہ سے چوکور بن جاتی ہے اور یہ چوکور کسی بھی انسان کی شخصیت کے بھید کھول دیتی ہے۔اگرچہ چوکور سے مراد چار کونوں والاڈبہ ہوتا ہے لیکن بعض ہاتھوں میں دل اور دماغ کی لکیر اس طرح متوازی چلتی ہیں کہ انہیں بھی چوکور کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ۔ چوکور میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہونی چاہئیں۔

۱۔ ہموار ۲۔دونوں خطوط متوازی

۳۔چوکور فراخ اور کشادہ ۴۔درمیان میں تنگ

استاد کیرو کا کہنا ہے کہ اندرونی طور پر یہ قدر صاف ہونی چاہئے۔ بہت سے خطوط ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے نکلنے چاہئیں۔ نہ زیادہ خطوط دماغی لکیر سے آئیں اور نہ ہی قلبی لکیر کی طرف سے اس میں داخل ہوں اور دوسروں کو کاٹتے ہوئے گزریں۔ اگر یہ کاٹتے ہوئے زیادہ خطوط سے پاک ہو تو اس میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہوں گی۔

۱۔ طبع ہموار ۲۔بردباری

۳۔فراخ دلی ۴۔کشادہ رو

۵۔ دوسروں سے محبت ۶۔وفاداری

۷۔صاف دلی

یہ چوکور ظاہر کرتی ہے کہ اس قسم کے فرد کا سلوک ذہنی اور عملی طور پر دوسروں سے کیسا ہوگا۔

اگر چوکورتنگ ہو یعنی قلبی لکیر اور دماغی لکیر کے درمیان فاصلہ کم ہو تو سمجھئے ایسا فرد تنگ نظر، چھوٹی فطرت، کمینہ خیالات والا ہو گا اور دوہری طبع کا حامل ہو گا یا متعصب ہو گا۔ خاص کر مذہب اوراخلاق کے سلسلہ میں اس کی خامیاں واضح ہوں گی۔

جن ہاتھوں میں یہ چوکور تکون نما صورت اختیار کرتی نظر آئے گی۔ اس قسم کے افراد تنگ نظر اورمتعصب ہوتے ہیں۔ وہ صورت حال کو بڑی تنگ نظری سے دیکھتے ہیں اور اپنی رائے پر قائم رہنا پسند کرتے ہیں اس قسم کے لوگ تنگ نظر مذہبی لوگوں میں ملیں گے۔ مذہبی تنگ نظر لوگوں میں چوکور تنگ بھی ملتی ہے۔

اگر یہ چوکور بہت فراخ ہو۔ دوسرے نقطوں میں قلبی لکیراور دماغی لکیر کا فاصلہ بہت زیادہ ہو تو ایسا فرد مذہب کے معاملے میں اتنا فراخ دل ہو گا کہ ا س کی فراخ دلی اس کے لئے وجہ مصیبت بن جائے گی۔

اگر چوکور درمیان میں تنگ ہو جائے اور کمر کی سی صورت پیدا ہو جائے تو اس قسم کا فرد دوسروں کے لئے متعصب اور انصاف نہ کرنے والا ہوتا ہے۔

اگر دونوں اطراف برابر ہوں تو اچھی صورت حال ہے۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو اور چوکور سورج کے اْبھار کے نیچے کم ہو تو ایسا فرد اپنے نام، اپنی پوزیشن اور عام شہرت اور ساکھ کی پروانہ کرے گا۔ اس کے برعکس اگر زحل کے نیچے کم ہو، تو وہ اپنی جھوٹی سچی ساکھ کے پیچھے پڑ ا رہے گا۔

اگر چوکور مشتری اور زحل کے نیچے فراخ ہو لیکن دوسرے سرے پر تنگ ہوتی چلی جائے تو ایسا فرد پہلے فراخ دل ہو گا لیکن آہستہ آہستہ اس کی طبع تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ وہ تنگ نظر ہوتا جائے گا۔ وہ متعصب ہو جائے گا اور اپنے ساتھیوں سے انصاف نہ کر سکے گا۔

کئی مرتبہ چوکور ضرورت سے زیادہ طویل ہوتی ہے۔ اس قسم کے فرد کی دماغی حالت صحیح نہیں ہوتی۔ وہ اپنے خیالات میں احتیاط کا حامل نہیں ہوتا۔ اْس کی طبع میں کوتاہ اندیشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا۔

اگر چوکور کے اندر لکیریں نہ ہوں یعنی ایسی لکیر یں جو ایک دوسری کو کاٹتی ہوئی نکل جاتی ہیں تو سمجھئے کہ اس فرد کی طبیعت سکون انگیز ہو گی۔ اس میں حوصلہ اور بردباری ہو گی۔

اگر چوکور میں بے جا ایسی لکیریں ہوں کہ چوکور میں ایک دوسری کو کاٹتی پھرتی ہوں چوکور ان کی وجہ سے جالی سی نظر آتی ہے تو ایسا فرد بڑی آسانی سے غصے میں آجاتا ہے۔ اْس کی طبیعت ہیجان انگیز ہوتی ہے اور مزاج مضطرب اور پریشان۔

چوکور کے اندر اگر ستارہ موجود ہو تو بڑا اچھا نشان سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص جب وہ کسی اچھے اْبھار کے نیچے ہو جیسے مشتری اور سورج کے نیچے۔ اگر مشتری کے نیچے ستارہ ہو تو ایسا فرد اقتدار حاصل کرے گا۔ قوت حاصل کرے گا۔ طاقت اختیار کرے گا۔ اگر زحل کے نیچے ہو تو دنیاوی کاموں میں کامیابی اور کامرانی حاصل کرے گا۔ وہ جن راستوں پر بھی بڑھتا جائے گا۔ کامرانی اْس کے قدم چومے گی۔

سورج کے اْبھار کے نیچے اگر ستارہ ہو گا۔ تو ایسے فرد کو آرٹ ، ادب، فنون لطیفہ کی وجہ سے کامیابی حاصل ہو گی۔ اگر ستارہ عطارد کے نیچے ہو گا تو ایسا فرد سائنس اور تحقیق کی بدولت ترقی کرے گا۔ وہ سائنس اور تحقیق میں دوسروں سے ممتاز ہو گا۔ کامیاب و کامران ہو گا اور دوسروں سے بازی لے جائے گا۔

مزید : لائف سٹائل /مخفی علوم