کلبھوشن بھارتی بحریہ کاحاضرسروس افسر،دہشتگرداورجاسوس ہے، بھارت یادرکھے کہ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی: خواجہ آصف

کلبھوشن بھارتی بحریہ کاحاضرسروس افسر،دہشتگرداورجاسوس ہے، بھارت یادرکھے کہ ...
کلبھوشن بھارتی بحریہ کاحاضرسروس افسر،دہشتگرداورجاسوس ہے، بھارت یادرکھے کہ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی: خواجہ آصف

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی فیملی سے ملاقات پر انڈین میڈیا اور حکومت نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے، کلبھوشن بھارتی بحریہ کاحاضرسروس افسر،دہشتگرداورجاسوس ہے، بھارت یادرکھے کہ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی اور اس ملاقات کے حوالے سے دونوں ممالک نے سفارتی چینلزکے ذریعے تمام امورطے کئے تھے، دونوں خواتین کے کپڑے اور جیولری واپس کردئیے گئے تھے جبکہ کلبھوشن کی اہلیہ کی جوتوں میں سے ایک دھاتی چپ برآمد ہوئی ہے، متعلقہ ادارے اس دھاتی چپ کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

کلبھوشن جادھو کی ملاقات کو مغرب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جارہا ہے، پاکستان پر کوئی دباﺅ نہیں تھا: آصف غفور

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کلبھوشن یادیو سے اس کی ماں اور بیوی کی ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی حکومت کے تما م الزامات مستردکردیئے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ملاقات انسانی ہمدردی،اسلامی تعلیمات اورجذبہ خیرسگالی کے تحت کرائی اور بھارت کو پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کو تسلیم کرنا چاہیے ۔انہوں نے بھارتی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جاسوس ، دہشت گرد اور حاضر سروس ملٹری آفیسر کی اہل خانہ سے ملاقات تھی اور بھارت یاد رکھے یہ ملاقات معمولی نہیں تھی۔کیوں کہ کلبھوشن ایک سزا یافتہ مجرم ،حاضر سروس ملٹری آفیسر ،جاسوس اور دہشت گرد ہے جس کے ہاتھ سینکٹروں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔  اس ملاقات کے دوران مناسب سیکیورٹی انتظامات بہت ضروری تھے۔ بھارت کی جانب سے بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ، مشکلات کے باوجود پاکستان نے بھارتی دہشت گرد کے اہل خانہ سے ملاقات کامیابی سے کرائی اور کامیابی کا اندازہ کلبھوشن کے اہل خانہ کی جانب سے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے مہمان خواتین کو عزت سے نوازہ اور ملاقات اسلامی تعلیمات اور انسانی بنیادوں کے تحت کرائی گئی تھی، ملاقات کادورانیہ 30منٹ طے تھا اور خواتین کی درخواست پراس کا دورانیہ 40 منٹ کیاگیا۔ بھارت کی جانب سے میراٹھی زبان میں بات کرنے کی اجازت نہ دینے کاواویلامچایاجارہاہے جبکہ کپڑے بدلوانے اور جوتا واپس نہ کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے سیکیورٹی کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے رکھ لیے گئے تھے ، ان جوتوں میں سے ایک دھاتی چپ برآمد ہوئی ہے اور متعلقہ ادارے اس چپ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بھارت کا واویلا بالکل بے بنیاد ہے کیوں کہ اس حوالے سے تمام معاملات سفارتی سطح پر پہلے سے طے کئے گئے تھے اور اس ملاقات کے دوران مناسب سیکیورٹی اقدامات بہت ضروری تھے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی