سعودی عرب میں ایک بھارتی لڑکی کی خود کشی، پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو ایسا انکشاف کہ پورا ملک لرز کر رہ گیا

سعودی عرب میں ایک بھارتی لڑکی کی خود کشی، پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو ایسا ...
سعودی عرب میں ایک بھارتی لڑکی کی خود کشی، پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو ایسا انکشاف کہ پورا ملک لرز کر رہ گیا

  


ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی دارلحکومت سے 200کلومیٹر کی دوری پر شقرہ کا صحرائی علاقہ واقع ہے۔ رواں سال فروری میں یہاں ایک گھر میں ملازمت کرنے والی بھارتی لڑکی نے چھت سے پھندا لگا کر خود کشی کر لی، لیکن جب اس معاملے کی تحقیق ہوئی تو پتا چلا کہ اصل المیہ تو اس بدنصیب لڑکی کی خودکشی سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔

سعودی گزٹ کے مطابق فردوس نامی یہ لڑکی گزشتہ سال سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے آئی تھی۔ چند ماہ بعد ہی اسے گھر کی یاد ستانے لگی اور وہ بے حد رنجیدہ خاطر رہنے لگی۔ ایک روز وہ اپنے کمرے سے باہر نا آئی تو صاحب خانہ کو فکر ہوئی۔ جب بار بار کی دستک کے باوجود دروازہ نا کھلا تو بالآخر دروازہ توڑ ا ڈالا گیا۔ سامنے ایک بھیانک منظر تھا۔ لڑکی کی پھندا لگی لاش چھت سے جھول رہی تھی۔

’’خواتین ماڈلز پر بڑے عرب ملک میں پابندی عائد کر دی گئی ،گانے بجانے اور بازاروں میں فحش کلامی کی بھی اجازت نہ ہو گئی‘‘ یہ سعودی عرب یا ایران نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔

پولیس نے لڑکی کی موت کی تفتیش کی اور واقعے کو خود کشی قرار دیا گیا۔ اس کے بعد بھارت میں اس کے ورثاءکی تلاش شروع ہوئی مگر کسی کا کچھ پتا نا تھا۔ کئی ماہ کی تلاش کے بعد بالآخر ریاست آندھرا پردیش کے ایک دور دراز گاﺅں میں رہنے والے اس کے گھر والوں کو بھارتی سفارتحانے نے ڈھونڈ نکالا، لیکن وہ بیچارے اس حال میں تھے کہ دیکھ کر ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

فردوس کا والد دنیا سے رخصت ہو چکا تھا، اس سکی والدہ ذہنی مریضہ تھی اور دو کمسن بہن بھائیوں کا واحد سہارا ان کی ضعیف دادی تھی۔ بیچاری معمر خاتون دو ننھے بچوں کو اپنی گود میں لئے منتظر تھی کہ کب بیرون ملک سے اس کی پوتی کوئی رقم بھیجے گی اور کب وہ اس کے ننھے بہن بھائی کی پرورش کا کچھ سامان کر سکے گی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ فردوس اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔

یہ دونوں سعودی بہنیں بھاگ کر ترکی جا پہنچی، لیکن کس سے بچنے کے لئے؟ ایسی تفصیل منظرِ عام پر کہ سعودی عرب میں ہنگامہ برپا ہو گیا

جب اسے بتایا گیا کہ اس کی پوتی اب اس دنیا میں نہیں رہی تو ضعیف خاتون پر غموں کا ایک اور پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس کی کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ اتنی رقم بھی اس کے پاس نہیں تھی کہ اپنی پوتی کی لاش وطن واپس منگوا کر اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کر سکے۔ بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ فردوس کو سعودی عرب میں ہی دفن کر دیا جائے۔ وہ تو دنیا سے چلی گئی لیکن ذہنی مریضہ ماں، ضعیف دادی اور دو ننھے بہن بھائی اب اس دنیا میں بے یارو مددگار رہ گئے ہیں، جنہیں کچھ خبر نہیں کہ اب ان کا انجام کیا ہوگا۔

مزید : عرب دنیا