دودھ کے نام پر کیمیکل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،میں خوددھوکہ کھا چکا ہوں،چیف جسٹس پاکستان

دودھ کے نام پر کیمیکل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،میں خوددھوکہ کھا ...
دودھ کے نام پر کیمیکل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،میں خوددھوکہ کھا چکا ہوں،چیف جسٹس پاکستان

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے خشک اور ڈبوں میں بند دودھ فروخت کرنے والی 7کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ٹی وائٹنرز کے ڈبوں پر واضح اور بڑے حروف میں لکھیں کہ یہ دودھ نہیں کسی دھوکے میں مت آئیں۔عدالت نے زیادہ دودھ کے لئے بھینسوں کولگائے جانے والے انجکشن بنانے والی کمپنیوں آئی سی آئی اور غازی برادرز کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں جبکہ انجکشن کی فروخت میں ملوث کمپنی کو حکم امتناعی دینے سے متعلق مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیاہے ۔

میری تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے ردعمل پر دلی دکھ ہوا: خواجہ سعد رفیق

 دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دودھ کے نام پر کیمیکل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،میں خوددودھ کے نام پر دھوکہ کھا چکا ہوں، ہم خود بچپن میں سوکھے دودھ کو دودھ سمجھ کر کھاتے رہے ہیں ،اس وقت بہت مزیدار لگتا تھا مگر بعد میں پتہ چلا یہ دودھ نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی رپورٹس پر انحصار نہیں کیا جائے گا جس سے معاشرے میں سراسیمگی پھیلے، جو معیاری دودھ بیچ رہے ہیں عدالت ان کا نام بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے گی،عدالت کسی کا جائز کاروبار بند نہیں کرنا چاہتی۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے وطن پارٹی کی درخواست پر سماعت شروع کی تو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے سربمہر کی گئی الفجر ڈیریز کی طرف سے احمد عبداللہ ڈوگر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ناقص دودھ فروخت کرنے کے الزام میں الفجر ڈیریز کو سربمہر کیا گیا تھا ، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ الفجر دودھ فیکٹری کو معیاری ہونے کے بناءپر دوبارہ کھول دیا گیا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسی رپورٹس پر انحصار نہیں کیا جائے گا جس سے معاشرے میں سراسیمگی پھیلے، جو معیاری دودھ بیچ رہے ہیں عدالت ان کا نام بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے گی، عدالت کا مقصد کسی کے کاروبار کو ختم کرنا نہیں، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ اگست میں کھلے اور بند دودھ کے نمونے لے کر ٹیسٹ کرائے ہیں اور فوڈ سیفٹی کے ساتھ دودھ سیفٹی کی ٹیمیں بھی تشکیل دے رہے ہیں اور دودھ سیفٹی کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر دودھ کے نمونوں کا جائزہ لیں گی، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ پاﺅڈر دودھ کی فروخت کو صحت کے لئے مضر ہونے کی بناءپر پابندی لگا دی گئی ہے ، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ سیفٹی ٹیموں کی مانیٹرنگ بھی ضروری ہے، کھلے دودھ کی فروخت میں بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں،چیف جسٹس نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے استفسار کیا کہ کیا زیادہ دودھ کے لئے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پنجاب میں پابندی عائد کی گئی ہے یا نہیں؟

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ مویشیوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں کی فروخت پر پابندی اور انہیں بنانے والی کمپنیوں کے لائسنس بھی منسوخ کر دیئے گئے جبکہ کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی کے لئے پیسچرائزیشن کا قانون منظور ہو چکا ہے اور پیسچرائزیشن کے بغیرناقص دودھ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ناقص دودھ پینے سے ہمارے بچے متاثر ہو رہے ہیں عدالت کو سخت تشویش ہے،تمام متعلقہ اداروں سے تجاویز لینے کے بعد دودھ کی کثافتیں دور کرنے کے لئے حکم دیا جائے گا، عدالت کو بتایا گیا کہ بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پابندی کے خلاف حکم امتناعی بھی جاری ہو چکے ہیں، جس پر عدالت نے انجکشن کی فروخت میں ملوث کمپنی کو حکم امتناعی دینے والے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیاہے اور انجکشن فروخت کرنے پرآئی سی آئی اور غازی برادرز کو نوٹس بھی جاری کر دئیے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ مرغیوں کو جو انجکشن اور سٹیرائڈز لگائے جاتے ہیں ان کے اثرات ہمارے جسم پر آ رہے ہیں، چکن کھانے سے بچیوں کے ہارمونز میں تبدیلی کی شکایت عام ہو چکی ہے، شہریوں میں قوت مدافعت میں کمی جیسی بیماریاں آ گئی ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آر بی ایس سٹی انجکشن کی فروخت کیسے ہورہی ہے؟ بچوں کو ڈبے کے دودھ پر لگا دیا گیا ہے حالانکہ یہ دودھ نہیں ہے، ایوری ڈے دودھ نہیں تو ڈبے پر دودھ کیوں لکھا گیا ہے؟ قوم کو دھوکے میں رکھ کر کیمیکل کو دودھ بتا کر نہیں بیچنے دیں گے،

چیف جسٹس نے خشک اور بند ڈبوں میں دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا کہ ڈبے پر واضح اور بڑے حروف میں لکھیں کہ یہ دودھ نہیں کسی دھوکے میں مت آئیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پیمرا کو بھی کہا جائے گا کہ ان کمپنیوں کے اشتہار چلاتے وقت واضح کریں کہ یہ دودھ نہیں ہے، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ اس سلسلے میں آگہی مہم چلائی جا رہی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ چھوڑیں آگہی مہم سے میں خود متاثرہ ہوں، ہم خود بچپن میں سوکھے دودھ کو دودھ سمجھ کر کھاتے رہے ہیں اس وقت بہت مزیدار لگتا تھا مگر بعد میں پتہ چلا یہ دودھ نہیں ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک حکیم صاحب کے کہنے پر خشک دودھ کو چھوڑ کر علاج کے لئے دوائی شروع کی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے مزید ریمارکس دیئے کہ کے ایف سی، ہارڈیز، میکڈونلڈز سمیت بڑی فوڈ چین کوبھی استعمال شدہ کھانے کا تیل اوپن مارکیٹ میں فروخت نہیں کرنے دیں گے، استعمال شدہ تیل خریدکر گھی بنا کر فروخت کرنے والی کمپنیوں کو اپنے بچوں کو زہر نہیں کھلانے دیں گے، اسی گھی میں پکوڑے اور پوڑیاں تلی جاتی ہیں، استعمال شدہ آئل ڈیزل بن چکا ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے ، چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بند ڈبوں اور خشک دودھ فروخت کرنے والی سات کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ٹی وائٹنرز بنانے والی کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ پراڈکٹس کے ڈبوں پر واضح طور پر لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے جیسے سگریٹ کے ڈبوں پر تنبیہ کی گئی ہوتی ہے ۔

مزید : قومی