’’بینظیر نے شہادت والے دن یہ چیز اپنے ساتھ ہی رکھی تھی،میں نے اپنے دوست سے کہا اللہ خیر کرے کیونکہ یہ چیز وہ کبھی ساتھ نہیں رکھتی تھی اور پھر۔۔۔‘‘ بھٹو فیملی کے فوٹو گرافر نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر آپ کیلئے آنسو روکنا مشکل ہو جائے گا

’’بینظیر نے شہادت والے دن یہ چیز اپنے ساتھ ہی رکھی تھی،میں نے اپنے دوست سے ...
’’بینظیر نے شہادت والے دن یہ چیز اپنے ساتھ ہی رکھی تھی،میں نے اپنے دوست سے کہا اللہ خیر کرے کیونکہ یہ چیز وہ کبھی ساتھ نہیں رکھتی تھی اور پھر۔۔۔‘‘ بھٹو فیملی کے فوٹو گرافر نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر آپ کیلئے آنسو روکنا مشکل ہو جائے گا

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )27 دسمبر کو بینظیر بھٹو شہید کی 10 ویں برسی گڑھی خدا بخش میں منائی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں سمیت پورے ملک سے کارکنوں نے بھر پور شرکت کی تاہم اس موقع پر بھٹو فیملی کے فوٹوگرافر نے بینظیر بھٹو کی یاد میں نجی ویب سائٹ ’جیو نیوز ‘پر ایک بلاگ شائع کیا جس میں انہوں نے بینظیر کی یاد گار تصاویر کے ساتھ ماضی کے کچھ اہم قصوں کا ذکر بھی کیا ۔

تفصیلات کے مطابق بھٹو فیملی کے فوٹو گرافر آغا فیروز نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ بینظیر کو آخر ی دفع میں نے 27 دسمبر 2007 کو دیکھا تھا اور میں راولپنڈی میں ہونے والی ریلی میں شریک تھا لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ مجھے بہت ساری چیزیں یاد نہیں ہیں ،اس دن بہت کام تھا کیونکہ اس دن بہت زیادہ میٹنگز تھیں لیکن اس کے باوجود وہ بہت خوش تھیں ۔

اس دن مجھے ایک چیز بہت عجیب لگی کہ بی بی شہید نے پورا دم پھولوں کا ہار اپنے گلے میں ہی پہنے رکھا یہ ان کے برعکس تھا ،وہ انتہائی سجے ہوئے پھولوں کے ہار نہیں پہنتی تھیں یہاں تک کہ انہو ں نے اپنی شادی پر بھی نہیں پہنا ،جب کوئی انہیں ہار پہناتا تھا تو وہ فوری اسے اتار کر ہاتھ میں رکھ لیتیں یا پر کسی کو پکڑا دیتی تھیں لیکن اس دن انہو ںنے یہ ہار گلے میں ہی رہنے دیا اور اسے اتار ا نہیں اور یہ اس وقت ان کے گلے میں ہی رہا جب تک وہ میٹنگز کے بعد ریلی کیلئے گاڑی میں بیٹھ گئیں ۔آغافیروز نے کہا کہ ایک وقت میں نے اپنے دوست سے کہا کہ ’اللہ خیر کرے ‘،یہاں پر بی بی کیلئے کچھ تو غلط ہے جو انہوں نے پھولوں کا ہار اپنے گلے میں پہن رکھا ہے ،کاش میں اپنے منہ سے یہ الفاظ کبھی نہ نکالتا ۔

ان کا کہناتھا کہ میں نے بینظیر بھٹو کو ان کی زندگی میں صرف دو مرتبہ ہی دکھی اور ٹوٹی ہوئی دیکھا ایک جب ان کے والد کو پھانسی دی گئی اور ایک دفعہ تب جب ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیا گیا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس