سوشل میڈیا پر اس تصویر نے سب کو چکرا دیا ، حقیقت جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا جواب وہ نہیں جو آپ سوچ رہے ہیں بلکہ۔۔۔

سوشل میڈیا پر اس تصویر نے سب کو چکرا دیا ، حقیقت جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر ...
سوشل میڈیا پر اس تصویر نے سب کو چکرا دیا ، حقیقت جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا جواب وہ نہیں جو آپ سوچ رہے ہیں بلکہ۔۔۔

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسان بعض اوقات شوقیہ طور پر کئی تصویریں بناتا ہے مگر اکثر تصویریں انسان کو محو حیرت میں مبتلا کر تے ہوئے تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، عام آدمی کی نسبت بڑے لوگوں کی تصویریں بھی انسان کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں ، ایسی ہی ایک تصویر اس وقت سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، تصویر کے حوالے سے ہر صارف اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ حقیقت میں مذکو رہ تصویر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے والدہ بیگم نصرت بھٹو کی ہے۔

نجی ٹی وی چینل ”جیو نیوز“ کی ویب سائٹ پر بھٹو خاندان کے ذاتی فوٹو گرافر آغا فیروز نے ایک بلاگ لکھا ہے، اس بلاگ میں انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کے اہم واقعات سے پردہ اٹھایا ہے۔ آغا فیروز کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے کیمرے کی آنکھ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کا بچپن ، ان کی شادی ،ان کے بچے اور ان کی سیاست کو دیکھا ہے۔ میں نے45سالوںتک بھٹو خاندان کے ذاتی فوٹو گرافر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی ہیں۔

آغا فیروز کا کہنا تھا کہ میری عمر 17سال تھی جب میں نے اس خاندان کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور اب میں 65 برسوں کا ہو چکا ہوں ۔میں پہلے بیگم نصرت بھٹو کی تصاویر بناتا تھا ، میں صرف بے نظیر کی تصویریں شوق سے بناتا تھا کیوں کہ وہ حقیقت میں ”بے نظیر “ تھیں۔ میں نے بے نظیر کو جوان ہوتے دیکھا اور بدقسمتی سے انہیں اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔

بلاگر کا مزید کہنا تھا کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو عام لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا تھا ،وہ ان سے ان کی کہانیاں سنتیں جبکہ انہیں اپنی کہانی بھی سناتی تھیں۔ وہ اپنی باتیں اپنے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو سے بھی شیئر کرتی تھیں اور میں ایسے موقعے پر ان کی تصاویر بنانے سے پہلے احتیاط کرتا تھا ۔ میں نے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے ورکرز کے ساتھ چائے پیتے ہوئے ان کی تصاویر بھی بنائیں مگر آپ کو محترمہ کے اس چہرے سے کوئی بھی آگاہ نہیں کرے گا۔

میں نے محترمہ کو خوش ہوتے ہوئے بھی دیکھا ، جب وہ کسی عام فرد کونوکری، گھر یا کوئی فائدہ پہنچاتیں تو ان کے چہرے سے ان کی شادمانی ظاہر ہوجاتی تھی۔

آغا فیروز کا مزید کہنا تھا کہ میرے پاس محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصاویر کے سات صندوق موجود ہیں ، ان تصاویر کو تاریخ کا حصہ بناتے ہوئے کسی عجائب گھر میں رکھوانا چاہیے۔

،

گذشتہ دو سالوں سے میں بے روزگار ہوں ، میں نے ان تصاویر کی نمائش منعقد کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی بھی لیڈر نے اس نمائش میں شرکت نہیں کی۔ میری بلاول بھٹو سے اپیل ہے کہ ان تصاویر کو گردمیں تبدیل ہونے سے پہلے مجھ سے واپس لے لیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس