ذہین طلباءکی مالی امداد کا راستہ تلاش کریں ،سپریم کورٹ کی میڈیکل کالجز کیس میں چیف سیکرٹری کو ہدایت

ذہین طلباءکی مالی امداد کا راستہ تلاش کریں ،سپریم کورٹ کی میڈیکل کالجز کیس ...
ذہین طلباءکی مالی امداد کا راستہ تلاش کریں ،سپریم کورٹ کی میڈیکل کالجز کیس میں چیف سیکرٹری کو ہدایت

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور گورنر پنجاب کے بیٹے آصف رجوانہ کی غیر مشروط معافی قبول کرلی ۔ چیف جسٹس نے شریف میڈیکل کالج کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین میاں محمد نوازشریف کی عدم پیشی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شریف میڈیکل کالج کے پرنسپل بریگیڈیر ریٹائرڈ ظفر احمد کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے مالک کو بلایا تھا وہ کیوں نہیں آئے ؟اگر یہ ٹرسٹ کا کالج ہے تو ٹرسٹ کے چیئرمین میاں محمد نوازشریف کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا ،اگر نوٹس موصول نہیں ہوئے تھے تو وہ وہ خود ہی سپریم کورٹ آ جاتے، عدالت نے شریف میڈیکل ، آمنہ عنایت میڈیکل اور پاک ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالجز کے مالکان کو بینک اکاﺅنٹس اور دیگر تفصیلات بیان حلفی کے ساتھ جمع کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس تصویر نے سب کو چکرا دیا ، حقیقت جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا جواب وہ نہیں جو آپ سوچ رہے ہیں بلکہ۔۔۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے بھاری فیسوں پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی تو گزشتہ سماعت پر عہدے سے معطل کئے گئے فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فرید ظفر کے وکیل شاہد حامد نے غیر مشروط معافی نامہ پیش کیا، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ڈاکٹر فرید کا پیش کیا گیا معافی نامہ اوپن عدالت میں پڑھ کر سنایا جائے، شاہد حامد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈاکٹر فرید ظفر عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور گزشتہ روز عدالتی احکامات کی خلاف ورزی جان بوجھ کر نہیں کی گئی، ڈاکٹر فرید کو عدالتی حکم کا علم نہیں تھا ،ڈاکٹر فرید ظفر کی غیر مشروط معافی منظور کی جائے، سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ایم بی ابی ایس میں داخلہ کے خواہشمند طالب علم کو داخلہ دینے کی آفر کرنے پر ڈاکٹر فرید ظفر کو وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے عہدے سے معطل کر رکھا ہے اور انہیں توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا، عدالت نے غیر مشروط معافی منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید کو دیا گیا توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا، عدالتی طلبی پر گورنر پنجاب کے بیٹے آصف رفیق رجوانہ وکیل کے یونیفارم میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باوجود آپ کی جرات کیسے ہوئی خاتون وکیل کو فون کرنے کی ، چیف جسٹس نے گورنر پنجاب کے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے مزید برہمی کا اظہار کیا کہ کل عدالت نے آپ کو طلب کیا تو آپ نے رجسٹرار کو کہا کہ میں منشی بھجوا دوں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ؟ آصف رجوانہ نے کہا کہ نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کیوں نہ آپ کا لائسنس معطل کر دیا جائے؟ آصف رجوانہ ایڈووکیٹ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خاتون وکیل انجم حمید سے ان کے خاندانی مراسم ہیں اور انہو ںنے خاتون کو فون کال کرنے کا میسج کیا تھا، خاتون وکیل انجم حمید میری ماں کے برابر ہیں، گورنر پنجاب کے بیٹے نے غیر مشروط معافی دینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آپ تحریری طور پر معافی نامہ عدالت میں جمع کروائیں

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 عدالتی طلبی پر شریف میڈیکل کالج کے پرنسپل بریگیڈئر ریٹائرڈ ڈاکٹر ظفر احمد پیش ہوئے تو عدالت نے استفسار کیا کہ کل آپ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے تھے، شریف میڈیکل کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ انہیں عدالتی نوٹس موصول نہیں ہوا تھا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ باقی تمام کالجز کے مالکان کل یہاں موجود تھے اور آپ کو نوٹس موصول نہیں ہوا؟ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیئے کہ شریف میڈیکل کالج کے مالکان کو طلب کیا گیا تھا آپ کیوں آئے ہیں؟ کالج کے مالک کون ہیں ؟ بریگیڈیئر ریٹائرڈ ظفر احمد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شریف میڈیکل کالج ٹرسٹ ہے اور اس ٹرسٹ کے چیئرمین میاں نواز شریف ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تو پھر میاں نواز شریف سے کہتے ،میاں نوازشریف خود سپریم کورٹ آ جاتے، چیف جسٹس کے استفسار پر شریف میڈیکل کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ ایک طالب علم سے 8لاکھ75ہزارروپے سالانہ فیس وصول کی جارہی ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ اضافی پیسے کس حیثیت میں وصول کئے جارہے ہیں ؟ پیسے کو ذہین طالب علم کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیں گے ۔ایک شہری نے پیش ہوکر بتایا کہ میری بیٹی کو میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود داخلہ نہیں دیا گیا ۔بیٹی کے داخلہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ شہری رو پڑاجس پر چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سے پوچھا کہ کیا قانون میں کوئی ایسی گنجائش موجود ہے کہ ذہین غریب طالب علموں کی مالی مدد کی جائے ۔دوران سماعت پاک ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے والی طالبہ کے والد نے پیش ہو کر عدالت کو بتایا کہ پرائیویٹ کالج کی فیسیں بہت زیادہ ہیں اور انہوں نے بڑی مشکل سے 5لاکھ روپے میڈیکل کالج کو ادا کئے ہیں، اب بقایا فیس ادا کرنے کی سکت نہیں ہے ،میڈیکل کالج کو فیس کم کرنے کی ہدایت کی جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے فیسوں کا معاملہ اٹھا رکھا ہے ، دیکھتے ہیں آپ کی مشکل کا کوئی حل نکل آئے ، نہ ہو سکا تو ہم خود آپ کی فیس کا بندوبست کریں گے، چیف جسٹس کے استفسار پر سیکرٹری پی ایم ڈی سی نے انکشاف کیا کہ رولز کے مطابق پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں 5فیصد سکالر شپ کوٹہ بھی موجود ہے مگر پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو سکالر شپ کا ایک بھی کیس موصول نہیں ہوا، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید نے روسٹرم پر آ کر عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب حکومت نے مستحق طلباءکے لئے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ بنا رکھا ہے اور طالبہ کے والد کی امداد اس فنڈ سے ممکن ہے، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ دیکھا جائے انڈومنٹ فنڈ سے مستحق طالبہ کی کس حد تک امداد ہو سکتی ہے، چیف جسٹس نے چیف جسٹس پاکستان نے کیس کی مزید سماعت 6جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ شریف میڈیکل، آمنہ عنایت میڈیکل اور پاک ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج کے مالکان اپنے بینک اکاﺅنٹس اور دیگر تفصیلات بیان حلفی کے ساتھ عدالت میں پیش کریں جبکہ عدالت نے وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر فرید ظفر اور گورنر پنجاب کے بیٹے آصف رجوانہ کی غیر مشروط معافی بھی منظور کر لی ۔

مزید :

قومی -