یاد رکھنا بہت رُلاؤں گا

یاد رکھنا بہت رُلاؤں گا
یاد رکھنا بہت رُلاؤں گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

موجودہ حکومت کے مثالی کام عجیب و غریب مراحل میں داخل ہو چکے ہیں ، ابھی کچھ کاموں کا اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ ہم نے سر انجام دے دیئے ہیں کہ اگلے ہی دن اُن کاموں کے ہونے یا نہ ہونے کا ’’ بھانڈا ‘‘ پھوٹ جاتا ہے ۔پھوٹے ہوئے بھانڈے کی کنکریاں سمیٹتے سمیٹتے حکومتی نمائندے ’’ ہواوں ‘‘ میں تیر چلاتے ہوئے نئے کاموں کو سر انجام دینے کا اعلان کر بیٹھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ’’ مس پلاننگ ‘‘ فرضی اور خیالی پالیسیوں سے کچھ بھی سرے چڑھتا نظر نہیں آ رہا ۔مینڈک تولنے والی بات موجودہ حکومت پر عین ’’ فٹ ‘‘ نظر آتی ہے ، یعنی ترازو میں خیالی کاموں کے مینڈک تولے جا رہے ہیں چار رکھتے ہیں تو دو چھلانگ لگا جاتے ہیں ، پھر پانچ رکھیں تو تین چھلانگ لگا جاتے ہیں ۔ایک اعلان ہوا کہ پاکستانیوں کے لئے ملائشیا کا ویزہ ختم کر دیا گیا ہے ، سوشل میڈیا پر حکومت کے طرف داروں نے کیا طوفان بپا کیا اس خبر کو لے کر ، کچھ نے لکھا کہ اڑھائی لاکھ کا ویزہ ہوتا تھا اور ٹکٹ کا علیحدہ خرچہ بھی اب کچھ بھی خرچ نہیں ہوگا ، جیو عمران خان ،

کیا بات ہے وزیر اعظم پاکستان کی ، اسے کہتے حکومت ، آتے ہی پاکستانیوں کو سکھ کا سانس نصیب ہوا وغیرہ وغیرہ ، میرے ایک جاننے والے سفارت خانہ پاکستان کوالالمپور میں تعینات ہیں ، میں نے حکومت کے اس اعلان سے خوش ہو کر انہیں فون ملایا اور یہ خوش خبری سنائی ، وہ بولے کہ ایسی کوئی بات نہیں،بلکہ ’’ ڈپلومیٹک‘‘ اور آفیشلز کے لئے ایک ماہ کا ویزہ کی سہولت کا معاہدہ ہوا ہے ، میرے لئے یہ خبر رُلا دینے کے لئے کافی تھی ، تب مجھے یاد آیا کہ عمران خان نے سچ ہی کہا تھا کہ میں بہت رُلاوں گا ۔دوسرا کام جو حکومتی اوورسیز پاکستانیوں کے لئے تعینات کئے گئے مشیر وزیر اعظم زلفی بخاری نے کیا کہ دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانی ’’نائیکوپ ‘‘ کارڈ کے بغیر کوئی بھی ایسا ثبوت دے کر کہ جس سے ظاہر ہو جائے کہ وہ پاکستانی ہے اپنے وطن عزیز میں داخل ہو سکتا ہے ، اس خبر پر بھی بہت س تعریفی کلمات لکھے گئے ، اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں ہم ان کو نئے پاکستان میں تمام سہولیات مہیا کریں گے،تارکین وطن پاکستانی پاکستان کی معیشت کے بڑھاوے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا نائیکوپ کارڈ ختم کیا جاتا ہے انہیں اپنے ہی ملک میں آنے کے لئے کسی کارڈ کی ضرورت نہیں ،اس اعلان پر دیار غیر میں مقیم تحریک انصاف کے عہدے داران اور کارکنان نے سوشل میڈیا پر نعرے تک لکھ دیئے،

انہوں نے لکھا کہ ہم نے تحریک انصاف کی دنیا بھر میں ایسے ہی سپورٹ نہیں کی ہمیں پتا تھا کہ عمران خان ہی اوورسیز کے دکھ درد کو سمجھتا ہے وہ تارکین وطن کے مسائل حل کرے گا ، ہماری اُمیدیں بر آئیں اور نائیکوپ کارڈ کا خاتمہ تارکین وطن کو موجودہ حکومت سے ملنے والی سہولیات کے ٹھہرے پانی میں پہلا کنکر ثابت ہوگا ، جیو ے جیوے عمران خان ، زلفی بخاری زندہ باد ، جیوے جیوے وزیراعظم۔اس اعلان کے پیش نظر لندن سے ہاؤس آف لارڈز کے لارڈ نزیر احمد پاکستان کے لئے روانہ ہوئے جب وہ لندن سے پاکستان کی جانب محو پرواز تھے تو بہت خوش اور بے فکر تھے خوش اس لئے کہ وہ نئے پاکستان جا رہے تھے اور بے فکر اس لئے کہ اُن کے پاس جو مائیکوپ کارڈ تھا وہ ’’ ایکسپائر ‘‘ ہو چکا تھا جس کی اب ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ نائیکوپ کارڈ ’’حکومت نیا پاکستان ‘‘نے بند کر دیا تھا ، لارڈ نزیر احمد جب پاکستانی ایئر پورٹ پر برٹش پاسپورٹ کے ساتھ اُترے تو اُن سے نائیکوپ کارڈ مانگا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ وہ تو حکومت نے ختم کر دیا ہے ، اس کے جواب میں ڈیوٹی پر موجود ایف آئی اے کے اہلکار نے کہا کہ ہمین حکومت کی طرف سے ایسا کوئی نوٹیفیکیشن یا حکم نامہ موصول نہیں ہوا ، لہٰذا ہم آپ کو پاکستان میں رہنے کے لئے 72 گھنٹے کا اجازت نامہ دے رہے ہیں ، یا تو آپ اس مقررہ وقت میں پاکستان سے آوٹ ہو جائیں گے یا پھر آپ اس مقررہ وقت کی تجدید کروا لیں ، لارڈ نذیر احمد جب یہ رُوداد بیان فرما رہے تھے تب اُن کی آواز میں بیچارگی اور بوجھل پن اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ عمران خان نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ میں بہت رُلاؤں گا ۔سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سات سال کے لئے پابند سلاسل ہو گئے ہیں انہیں ایک رات اڈیالہ رکھ کر کوٹ لکھپت جیل میں پہنچا دیا گیا ہے ، اُن پر ابھی تک کسی بھی الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بنا ثبوت نیب کی حوالات میں ہیں ، خواجہ سعد رفیق اور اُن کے بھائی کو بھی نیب کی اُسی حوالات میں رکھا گیا ہے ،

ابھی تحقیقات جاری ہیں ، دوسری طرف وزیراعظم پاکستان کی بہن علیمہ خان کی دوبئی میں جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے ثبوت موجود ہے ، اربوں کی جائیداد بنانے پر علیمہ خان ثبوت کے ہوتے ہوئے آزاد ہیں،انہیں ثبوت ہوتے ہوئے کچھ کروڑ روپوں کا جرمانہ کیا گیا ہے ، کسی جرم پر جرمانہ کیا جانا اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ جرم کیا گیا ہے ورنہ جرمانہ کس بات کا ؟ پوری قوم اس امتیازی انصاف پر افسردہ ہے ، رو رہی ہے ، کیونکہ موجودہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں بہت رُلاؤں گا۔خیر کچھ بھی کہیں وزیر اعظم اور اُن کی کابینہ سے کوئی کام ہو یا نہ ہو لیکن پاکستان میں رہنے والے اور دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کو رُلانے کاکام ثواب سمجھ کر کیا جا رہا ہے اور حکومت اس کام میں بہت حد تک کامیاب ہوئی ہے ،

رُلانے کے اس کا م کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کی سہولیات کے لئے باقی کام بھی اسی خوش اسلوبی سے سر انجام دے گی ۔علیمہ خان کیس کے حوالے سے چھوٹا سا واقعہ یاد آگیا ، کہ ایک شخص فائیو سٹار ہوٹل میں گیا اور کھانے کے لئے بہت سا آرڈر دے دیا ،کھانا آیا تو اُس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا،بل دینے کی باری آئی تووہ شخص بولا کہ میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں ، ہزاروں روپے کا ’’بل ‘‘ وصول کرنے کے لئے ہوٹل انتظامیہ نے پولیس کو بلا لیا ، پولیس اُس کھانا کھانے والے کو پکڑ کر لے گئی، پکڑے جانے والے اُس شخص نے بڑے آرام سے پولیس کا نسٹیبل کورشوت کی مد میں دو سو روپے دیئے تو کانسٹیبل نے اُسے چھوڑ دیا ، پولیس کے چھوڑتے ہی وہ شخص پتلی گلی سے نکل گیا ، اب وہ قانونی آزاد ہے۔

مزید :

رائے -کالم -