نو دولتیوں نے بسنت کا تہوار برباد کر دیا

نو دولتیوں نے بسنت کا تہوار برباد کر دیا
نو دولتیوں نے بسنت کا تہوار برباد کر دیا

  

ابھی بسنت منانے کا اعلان ہی ہوا تھا کہ بسنت کے مخالفین نے لنگوٹ کس کے مورچہ بندی کر لی ہے، بعض حلقوں، لیسکو، میئر لاہور کی طرف سے مخالفت کی گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مخالفت نہیں کی، مگر مسلم لیگ(ن) مخالفت کر رہی ہے اور اس کی خاتون رکنِ صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے بسنت کے خلاف قرارداد بھی جمع کروا دی ہے۔ ایک مقامی وکیل کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر کر دی گئی ہے۔

ہمارے ہاں خوش ہونے کا کوئی بھی موقعہ ہو اس کی مخالفت ضرور کی جاتی ہے۔ دُنیا بھر میں لوگ محنت مشقت کرتے ہیں کام اور تخلیقات کرتے ہیں جدوجہد کرتے ہیں، لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں، مگر ہنستے، کھیلتے، گاتے ناچتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی زندگی آسان، بے خوف، آزاد اور محفوظ ہے۔

31دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات دُنیا بھر میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور یہ تقریبات سب سے بڑی گلوبل سماجی تقریب کا درجہ حاصل کر چکی ہیں، مگر ہماری سڑکوں پر بعض حلقے مخالفت میں دندناتے پھر تے ہیںیہ مل بیٹھنے، ہنسنے، بولنے، گانے بجانے، کھانے،پینے اور کھلانے کے چھوٹے چھوٹے موقعے اور بہانے ہوتے ہیں، مگر ان کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

بدیسی تہواروں کو تو چھوڑیں ہم نے خالصتاً دیسی اور اپنی دھرتی کے تہواروں کا ستیاناس کر دیا ہے۔

لاہور کا سب سے بڑا تہوار میلہ چراغاں ہوتا تھا، لوگ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے، رقص کرتے اور دھمال ڈالتے جلوسوں کے ساتھ شاہ حسین کے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھاتے اور لنگر تقسیم کرتے تھے۔ لوگ اِن میلوں ٹھیلوں میں دانشوروں، شاعروں، لکھاریوں، ادیبوں، گلوکاروں اور فنکاروں کی تخلیقات سے مستفید ہوتے تھے۔

میلے ٹھیلوں کے مرکز پنجاب کے درالحکومت لاہور کے بارے میں تو کہا جاتا تھا کہ

دیہاڑے ست تے اٹھ میلے

گھر جاواں میں کیہڑے ویلے

بسنت کے بے مثال پُرامن ، رنگوں، خوشبوؤں اور خوشیوں کے خوبصورت تہوار کو بھی ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے برباد کیا ہے۔ پہلے کیمیکل ڈور اور ہوائی فائرنگ آ ئے پھر دیگر خرافات شامل ہوتے چلے گئے۔

یہ تہوار دراصل غریبوں، سفید پوشوں اور درمیانے طبقے کے لوگوں کا تھا مگر جب راتوں رات امیر بننے والے نو دولتیوں کے ہتھے چڑھا تو اس کا حلیہ اور شکل بگڑ گئی۔

ہمارے ہاں ہر مسلے کا آسان حل یہ تلاش کیا جاتا ہے کہ پابندی لگا دو۔ بند کر دینا یا پابندی لگانا آمریت کا کلچر ہے۔ جمہوریت میں حکومت پابندی نہیں لگا سکتی۔ جمہوریت کا مطلب ہی شہری حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا اور ان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

حکومتِ پنجاب کا یہ ایک بر وقت اور اچھا فیصلہ ہے یہ امر وقت کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے کو جس قسم کا بنا لیا ہے یہ ایک گھٹن زدہ،بیمار، تنگ نظری اور رجعت پسندی کا شکار زوال پذیر معاشرہ ہے۔

اس سماج میں بردباری، تحمل،اور روا داری مفقود ہے۔ اس کی اصلاح اور نارمل معاشرے کی طرف بحالی کے لئے بسنت اور اس جیسے اور بے شمار اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ جیسا کہ اسی ہفتے لاہور میں حکومتی ادارے پیلاک کے زیر اہتمام قذافی سٹیڈیم میں ’’ بلھے شاہ‘‘ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔

بسنت سے بے شمار معاشی مواقع بھی پیدا ہوں گے،پتنگ ڈور بنانے کے کاروبار سے منسلک لوگوں کے علاوہ دیگر علاقوں سے لوگ لاہور کا رُخ کریں گے تو کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔

حکومت، ادارے، میڈیا، بیوروکریسی اور تمام لوگ اپنی ذمہ داریاں کو پہچانیں۔ محلہ سطح پر متعلقہ ایس ایچ او، کونسلر اور دیگر مقامی معتبر و معززین پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔اساتذہ اور والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ اس تہوار کے حوالے سے کسی بے قاعدگی کا شکار نہ ہوں اور یہ روایتی تہوار ہنسی خوشی امن و سکون سے گزر جائے۔ایک نارمل معاشرے کے قیام کے لئے اس قسم کی سرگرمیاں شروع ہونی چاہئیں اور ہم سب کو اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -