مایوس بھیڑیں

مایوس بھیڑیں
مایوس بھیڑیں

  

’’نورانی بابا‘‘ ہمارے قصبے کے ایک معروف ’’روحانی بابا‘‘ کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ خود کو ایک شاعر بھی گردانتے ہیں اور اکثر پھبتیاں کسنا بھی ان کا مشغلہ ہے۔ ہم بھی جب کبھی کسی الجھن کا شکار ہوتے ہیں تو انہی کے پاس جا بیٹھتے ہیں۔ بسا اوقات وہ ہماری الجھن دور کر دیتے ہیں، مگر کبھی کبھی ہمارا مذاق اڑاتے ہوئے ہمیں مزید الجھا دیتے ہیں۔

اپنے ’’درویش رہنما‘‘ کی جانب سے جب ہم نے مرغ، کٹے پال پروگرام کے بارے میں حکومتی پیکیج کے اعلانات سنے توکچھ الجھ سے گئے کہ یہ کس قسم کی تبدیلی کا آغاز ہے۔ چنانچہ ہم یہ الجھن لے کر ’’بابا جی‘‘ کے پاس حاضر ہوئے اور سوال کیا: ’’بابا جی! یہ دو چار ماہ کی حکومتی کارکردگی تو ہمیں ناجائز تجاوزات مسمار کرنے اور خود حکومت کو اپنی سمت متعین کرنے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آئی، مگر یہ مرغی اور کٹے پال مہم کیا رنگ لائے گی؟‘‘ جواباً انہوں نے جو ارشاد فرمایا اس نے ہمیں مزید اُلجھا دیا۔

آپ بھی سنیے اور غورکیجیے کہ ہماری یہ چھوٹی سی دنیا کیا سے کیا بننے جا رہی ہے۔ کہنے لگے ’’اگر تم ’’زندگی‘‘ اور ’’زمین‘‘ کے فلسفے کو سمجھ سکو تو یہ بتا دیتا ہوں کہ اپنا وطن عزیز آج کل ایک ’’روحانی دور‘‘ میں داخل ہو چکا ہے۔ یعنی جو بھی زندگی اس ملک کی زمین پر وجود میں آئی ہے، اسے اب ’’حیوانی دور‘‘ سے نکل کر ’’روحانی‘‘ تجربوں سے گزرنا پڑے گا۔ دراصل ’’روحانیت‘‘ ایک سچائی کا نام ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ سچائی نہایت کڑوی ہوتی ہے۔ ’’حیوانیت‘‘ میں چونکہ مادی لذت شامل ہوتی ہے، لہٰذا وہ کڑوی شے کو برداشت نہیں کر سکتی۔ حیوانیت کی بنیاد ہوس اور اس کے گرد چھائی کرپشن پر استوار ہوتی ہے۔ ’’روحانیت‘‘ اگر عروج حاصل کرلے تو اس کی پہلی ضرب کرپشن اور ہوس پر ہی پڑتی ہے۔ جیسا کہ آج کل تم سن اور دیکھ رہے ہو گے کہ ’’ہوس‘‘ نے کچھ کچھ اُگلنا شروع کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ تمہارے ’’درویش رہنما‘‘ نے چونکہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کر رکھا ہے، لہٰذا کرپشن کے ’’بڑ‘‘ (بڑ پنجابی زبان میں بوڑھ کا درخت ہوتا ہے) کی جڑوں تک رسائی کے لئے کھدائی کرنا شروع کر دی ہے۔ اس کھدائی میں سے کیا برآمد ہوتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر اس ناہنجار عملِ کھدائی نے تمہارے ’’درویش رہنما‘‘ کی سانسیں پھلا دی ہیں اور جڑیں ہیں کہ ان کا سرا ہی ہاتھ نہیں آ رہا۔

جہاں تک میرا وجدان کہتا ہے۔ ان جڑوں تک پہنچنا تاممکنات میں سے ہے اور تمہارے ’’درویش رہنما‘‘ کو چاہیے کہ اس درخت کو زمینی سطح کے اوپر ہی سے کاٹ پھینکنے اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح کرپشن کی دفن شدہ جڑوں کے اوپر ایک روشن اور ہمہ جہت عمارت تعمیرکر ڈالے۔ جیسے وائٹ ہاؤس یا بکنگھم پیلس وغیرہ، جن کی بدولت وہ ممالک دنیا کو اپنا روشن چہرہ دکھاتے ہیں۔

اپنی توانائی اپنی انا پر ضائع کرنے کی بجائے دیگر فلاحی کاموں پر صرف کرنا شروع کر دے۔ میرے وجدان کی تشریح دیکھنا ہو تو وہ ریڈیو کلپ ایک دفعہ پھر غور سے دیکھنا جس میں 100روزہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے تمہارے ’’درویش رہنما‘‘ کے چہرے پر 100ماہ گزر جانے کا احساس ہوتا ہے۔

ہم نے ہونقوں کی طرح منہ اٹھایا اور بابا جی سے اپنا سوال دھرایا: ’’حضور! یہ حیوانیت، روحانیت کی جنگ و جدل، کرپشن اور اس کی جڑوں تک رسائی وغیرہ کی باتیں تو ہمارے سر کے اوپر سے گزر گئی ہیں، آپ ہمیں مرغیوں، انڈوں اور کٹوں کی افزائش سے ملکی ترقی کا راز سمجھائیں اور رہبری فرمائیں کہ ان چرندوں، جانوروں کی افزائش سے ہمیں ورلڈ بینک، ایشین بینک، آئی ایم ایف جیسے خونخوار اداروں سے ادھار اٹھائی گئی ہزاروں اربوں کی رقوم واپس کرنے میں کیسے مدد مل سکتی ہے؟‘‘ بابا جی نے گہری سانس لی اور گویا ہوئے ’’غور کرو، جب اس سرزمین پر موجود زندگی ’’حیوانیت‘‘ سے نکل کر روحانیت‘‘ کی جانب واپس مڑے گی تو سفر ابھی شروعات کا ہے، یعنی ’’ABC‘‘ یا ’’الف بے پے‘‘ کے آغاز سے ہو گا۔ یعنی جو قریب المرگ، کمزور ترین مخلوق ہوگی، اس کی سانس بحال کرنے کا احساس۔۔۔لیکن موجودہ ’’روحانیت‘‘ اگر اپنا کینوس ذرا بڑا کرے تو اسے مرغیوں، کٹوں کے ساتھ بھیڑ، بکریوں اور بکروں کی افزائش کے بارے میں بھی کسی فلاحی پیکیج کا اعلان کر دینا چاہیے تھا۔ جب خیال اُدھر جاتا ہے تو مجھے بھیڑ،بکریاں اور بکرے نہایت مایوس نظر آنا لگتے ہیں۔ تمہاری تفتنِ طبع کے لئے بتا رہا ہوں کہ جب مرغیوں، کٹوں کے لئے پیکیج کا اعلان ہوا تو تمہارے جیسے ایک باریش آدمی نے یہ فقرہ بھی چست کیا کہ مرغوں، مرغیوں کی مساوات (Equation)کسی صورت نہیں جچتی۔ وہ تجویز کر رہا تھا کہ ایک مرغی کم کی جائے یا ایک مرغ کا اضافہ کیا جائے تو افزائش کا سلسلہ دراز ہو سکتا ہے۔ مجھے تو وہ کوئی الجبرا دان کے ساتھ حیاتیات کا ماہر بھی محسوس ہوا۔ خیر یہ تو اس کی جانب سے ایک جملہ ء معترضہ تھا، جسے مَیں نے لائق توجہ نہیں سمجھا، لیکن بکروں، بھیڑوں اور بکریوں کی مایوسی پر مَیں بھی افسردہ ہوں۔

ہم نے الجھتے ہوئے بابا جی کی توجہ دوبارہ اپنے سوال کی جانب مبذول کروائی اور عرض کیا: ’’حضور! اربوں ڈالروں کے ملکی قرضوں کی ادائیگی کا بھیڑوں، بکروں اور بکریوں کی افزائش سے کیا تعلق ہے؟ یہاں تو قرضوں کا سود اتارنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑ رہا ہے‘‘۔

بابا جی نے ذرا تامل سے جواب دیا:’’جب تمہارے درویش رہنما‘‘کو قدرت نے منصبِ جلیلہ عطا کیا تو مسائل کے انبار کے ساتھ ایک ’’کارآمد‘‘ ٹیم کے انتخاب کا چیلنج بھی سونپا۔ ٹیم تو جیسے تیسے بن گئی، مگر ملک کے سب سے بڑے صوبہ کے چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کے لئے تو انہیں باقاعدہ ’’چلہ کشی‘‘ کرنا پڑی۔ طوہا کرہاً انہیں اپنے ساتھ چند ’’دورِِ حیوانیت‘‘ کے کھلاڑیوں کو بھی شامل کرنا پڑا۔

ایک نہایت پیچیدہ نکتہ، جسے مَیں بھی سمجھنے سے قاصر ہوں، بتا رہا ہوں، غور کرو تو دیکھو گے کہ ملک کے صدر، وزیراعظم،بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ اور متعدد وزیر مشیر ایسے ہیں جن کے نام کا آغاز عربی/ اردو حرف ’’ع‘‘ سے ہوتا ہے یا حرف ’’ع‘‘ ان میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔

تو اس سے کیا اخذ کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ ’’روحانیت‘‘ کی جانب مائل مقتدرہ نہیں؟ ’’اب ہمارا حوصلہ جواب دینے لگا تھا، ہم نے دل کا پھپھولا پھوڑتے ہوئے کہا: ’’بابا جی! ’’ع‘‘ سے تو عزرائیل بھی بنتا ہے۔ ہمیں ایسی روحانیت سے زیادہ ملکی قرض اتارنے کی فکر ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہے ہیں۔

ہمارا سوال اپنی جگہ موجود ہے، ہو سکے تو اس پر کچھ ارشاد فرمایئے‘‘۔۔۔بابا جی تنک کر بولے: ’’دیکھو لاڈلے! روحانیت کی دنیا میں کبھی دو اور دوچار نہیں بنتے۔ یہ مرغیاں، کٹے، بھیڑیں، بکریاں، دراصل وہ مخلوق ہے جو اپنی جہالت اور شخصیت پرست حرکتوں کے طفیل اپنی ناجائز تجاوزات کی مسماری پر نوحہ کناں ہے۔

پرانے ’’حیوانیت‘‘ کے دور میں اپنی روزی، روٹی کے چکر میں جکڑی یہ مخلوق اپنی سانسوں کی بحالی کی منتظر ہے، جس پر آپ کے ’’درویش رہنما‘‘ نے کسی پیکیج کا اعلان کیا ہے کہ ان کی سانسیں بحال ہوں۔

قرضے اتارنے کے لئے تمہیں کچھ اور قرض لینا ہوگا اور کیا کیا گروی رکھنا ہو گا، یہ ان سے پوچھنا ہوگا جو کہہ رہے ہیں، اگر ہم نے مصنوعی طور پر ڈالر کو جکڑے رکھا تھا تو موجودہ حکومت بھی مصنوعی سہی ڈالر کو روک سکے تو روک لے، کیونکہ ڈالر کی ہیئت ترکیبی فی الوقت ’’ڈار‘‘ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھا سکتا، جس کے نام میں حرف ’’ل‘‘ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے‘‘۔۔۔ہم سمجھ چکے تھے کہ بابا جی ابھی ہمارے سوال کا جواب دینے سے گریزاں ہیں ۔

مزید :

رائے -کالم -