اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 101

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 101

  

بوڑھے پجاری کو انہوں نے جاکر بتایا کہ قلعے دار کی چھوٹی لڑکی کا نام شگفتہ ہے اور اس کے حسن کا جواب نہیں ہے۔ پجاری نے انہیں حکم دیا کہ اب جب وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ دریا پر آئے تو اسے اغوا کرکے جنگل میں پہنچادیا جائے۔ ایک ہفتہ گزرگیا۔ آخر وہ بدقسمت دن آگیا جب شاہی قلعے دار کی بیٹی شہزادی شگفتہ اپنی سہیلیوں اور محافظوں کے ہمراہ دریا پر نہانے آئی۔ محافظ سپاہی پہاڑی چٹانوں کی اوٹ میں جاکر بیٹھ گئے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 100 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس وقت بوڑھے پجاری کے چاروں آدمی تیر کمان لئے ان چٹانوں کی اوٹ میں پہلے ہی چھپے بیٹھے تھے۔ جب مسلمان خواتین دریا میں نہانے کے لئے اتر گئیں تو ان چاروں آدمیوں نے محافظ سپاہیوں کو اپنے اپنے نشانے کی زد میں لے لیا۔ یہ بڑے ماہر نشانچی تھے اور راجہ کی فوج کے تیر انداز دستے میں ہوا کرتے تھے۔ ایک ہی وقت میں ان چاروں کی کمانوں سے چار زہر میں بجھے ہوئے تیر نکلے اور بے دھیانی میں بیٹھے چاروں محافظوں کی چھاتیوں میں پیوست ہوگئے۔ چاروں تیر دل سے پار ہوگئے تھے۔ ان کے منہ سے آہ تک نہ نکل سکی اور وہ وہیں ڈھیر ہوگئے۔ محافظوں کو ہلاک کر نے کے بعد ان میں سے وہ آدمی جو سب سے تجربہ کار غوطہ خور تھا، دریا میں ڈبکی لگا کر اترگیا۔ پانی کے اندر ہی اندر سے دیائی سرکنڈوں کے بیچ میں سے اس نے ایک جگہ سرنکالا اور دیکھا کہ شگفتہ دریا میں تیرتی ہوئی تھوڑی آگے نکل گئی تھی۔ اس شخص نے ایک بار پھر پانی میں ڈبکی لگائی اور پانی کے نیچے ہی نیچے اپنے خاص اندازے کے مطابق اس مقام پر پہنچ گیا جہاں سے شگفت کے پاؤں پانی کے نیچے نظر آرہے تھے۔ اس نے ایک مگرمچھ کی طرح ایک ہی جھٹکے سے شگفتہ کو ٹانگوں سے پکڑ کر پانی میں کھینچ لیا۔ شگفتہ کو اتنی تیزی سے پانی میں کھینچا گیا تھا کہ وہ اپنی مدد کیلئے آواز بھی نہ نکال سکی۔ دریا کے اندر دس بارہ قدموں کے فاصلے تک جانے کے بعد اس آدمی نے شگفتہ کو سرکنڈوں کے اندر پانی سے باہر نکالا اور اس کے منہ پر اپنا ہاتھ مضبوطی سے جمادیا کہ وہ آواز نہ نکال سکے مگر ناک سے سانس پوری طرح لے سکے۔

اسی حالت میں وہ شگفتہ کو کھینچتا ہوا دریا کے کنارے پر لے آیا جہاں اس کے ساتھی اس کا انتظار کررہے تھے انہوں نے شگفتہ کے منہ پر کپڑا باندھ دیا اور ہاتھ پیچھے رسی سے کس کر باندھ ڈالے اور غروب ہوتے سورج کے جھٹ پٹے میں گھوڑے پر ڈال کر جنگل کی طرف فرار ہوگئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد شگفتہ کو نہ پاکر عورتوں نے شور مچادیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ محافظوں کو بھی ہلاک کردیا گیا ہے تو وہ روتی ہوئی قلعے کی طرف دوڑیں۔ قلعے دار اور دوسرے امراء کو شگفتہ کی گمشدگی کا پتہ چلا تو وہاں ایک طوفان مچ گیا۔ محافظوں کی ہلاکت صاف ظاہر تھا کہ شگفتہ دریا میں نہیں ڈوبی بلکہ اسے کسی نے اغوا کرلیا ہے۔ مسلمان لشکری شگفتہ کی تلاش میں قلعے سے نکل پڑے۔

لیکن اس وقت تک بوڑھے پجاری نے شگفتہ کو گوالیار کے گھنے جنگل میں بلند سرخ چٹانوں کے سائے میں مینا دیوی کے ویران مندر کے تہہ خانے میں پہنچادیاتھا۔ یہ مندر جنگل کے اندر ایک ایسی جگہ پر تھا کہ جہاں پہنچنا بہت جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس جنگل میں رات کو شیر دھاڑتے تھے۔ ویسے بھی غزنی سے آئے ہوئے مسلمان سپاہی ان جنگلوں سے واقف نہیں تھے۔ سلطان محمود کے جن مسلمان سپاہیوں نے اس مندر کی مورتیوں کو پاش پاش کیا تھا وہ سلطان محمود کے ساتھ ہی کچھ دنوں کے لئے غزنی گئے ہوئے تھے۔

غزنی فوج کے نائب سپہ سالار نے گولیار کے راجہ کے سارے محلات کی تلاشی لی۔ شہر کے مکانوں کی بھی تلاشی لی گئی مگر شگفتہ کا کہیں سراغ نہ ملا۔ پھر بھی ساری ریاست میں شہزادی شگفتہ کی تلاش جاری تھی۔ بوڑھے پجاری نے اپنے خاص آدمی کے ہاتھوں راجہ ارجن کو شگفتہ کے اغوا کی خبر پہنچادی تھی۔ راجہ نے پجاری کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ شہزادی کو خفیہ جگہ پر چھپائے رکھے۔ راجہ ارجن نے سومنات کے پنڈت کے مخبر گنگو کو رات کے اندھیرے میں اپنی خواب گاہ میں بلا کر کہا کہ مسلمان لڑکی کو اغواکرلیا گیا ہے اب تم بتاؤ کہ اسے کب اور کس وقت گوالیار کے جنگل سے نکال کر سومنات کی طرف لے جاؤ گے۔ 

گنگو ہاتھ باندھ کر بولا ’’مہاراج! اس وقت حالات تشویشناک ہیں۔ جگہ جگہ آدمیوں کو روک کر تلاشی لی جاتی ہے۔ کچھ روز ہمیں خاموش رہنا ہوگا۔‘‘اسی میں انی عافیت بھی تھی۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 102 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار