اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 68

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 68
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 68

  

سراج الدین قونوی بڑے رتبے کے فاضل تھے لیکن مولانا رومؒ سے بیر رکھتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ مولانا کہتے ہیں کہ میں تہتر فرقوں سے متفق ہوں۔ اس پر سراج الدین قونوی نے اپنے ایک مستعد شاگرد کو بھیجا کہ’’ مولانا سے پوچھو کہ کیا واقعی یہ آپ کا قول ہے اور اگر وہ اقرار کریں تو ان کی خوب خبر لیتا۔‘‘

اس شاگرد نے بھرے مجمع میں مولانا سے سوال کیا جس پر مولانا رومؒ نے اقرار کرتے ہوئے کہا ’’ہاں میرا یہ قول ہے۔‘‘

اس نے یہ سن کر مغلظ گالیاں دینی شروع کردیں۔مولانا روم نے ہنس کر فرمایا ’’جوآپ فرماتے ہیں، مَیں اس سے بھی متفق ہوں۔‘‘

اس پر وہ شرمندہ ہوکر واپس چلا گیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت علاؤ الدین اصولیؒ بداؤنی کبھی کسی شخص سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے تھے۔ مگر جب ضرورت کے وقت کوئی شخص ان کے پاس کچھ لے آتا۔ تو اس میں سے بقدر حاجت لے لیتے۔ ایک دفعہ مولاناؒ فاقہ سے تھے اور وہ بیٹھے کھل کھارہے تھے۔ اس اثناء میں حجام آنکلا۔ ان کو یہ ناگوار گزرا۔ کہ حجام پر ان کے فقر کا حال کھلے۔ چنانچہ انہوں نے کھل اپنی ستار میں چھپالی۔ حجام نے بال درست کیے۔ پھر مولانا نے سرمنڈوانے کے لئے پگڑی اتاری۔ کھل زمین پر گرپڑی۔ حجام نے اسے دیکھا اور سمجھ گیاکہ حضرت کھل کھاتے ہیں۔

ایک روز حجام نے یہ قصہ کسی بڑے آدمی سے روبرو بیان کیا۔ اس نے چند سیر طغام، چند گھی کے کپے اور ایک ہزار حبتیل مولانا کی خدمت میں بھیج دئیے۔

مولانا نے ان چیزوں کو قبول نہ کیا اور واپس کردیں۔ بعدازاں اس حجام کو بلا کر ملامت کی اور کہا کہ پھر کبھی میرے پاس نہ آنا۔

حجام کو اس بات سے بڑا دکھ ہوا۔ اس نے اس بارے میں لوگوں سے سفارش کروائی۔ اور عہد کیا کہ اس کے بعد درویشوں کا راز کبھی فاش نہیں کروں گا تب آپ نے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی۔

***

ایک دفعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ اور شیخ صوفی بدہنیؒ چنگیز خانی مغلوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ ایک روز بھوکے اور پیاسے رہے۔ خرق عادت کے طور پر خواجہؒ اپنی بغل میں سے کاک (روٹی) اور شیخ بدہنیؒ پانی کا کوزہ نکالتے۔ خود بھی کھاتے اور تمام قیدیوں کو بھی کھلاتے پلاتے۔ اس دن کے بعد خواجہ کا لقب کاکیؒ پڑگیا اور شیخ صوفی کو بدہنی کہنے لگے۔ (بدہنی ہندی زبان میں کوزے کو کہتے ہیں)

***

امیر خسروؒ فرماتے ہیں کہ مَیں تو حضرت (نظام الدین اولیاؒ ) سے بہت چھوٹی عمر میں بیعت ہوگیا تھا۔ وہ اس طرح کہ ایک د ن میرے والد امیر سیف الدین محمود مجھ کو اور میرے بڑے بھائی کو حضرت کے پاس لے گئے۔

میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ کہاں جارہے ہیں؟ والد نے فرمایا ’’میں تم کو اور تمہارے بڑے بھائی کو حضرت خواجہ نظام الدین بدایونی کا مرید کرانا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’مجھے اجازت دیجئے کہ مَیں اسی جگہ دروازہ پر بیٹھ جاؤں، اندر نہ جاؤں آپ بڑے بھائی کو لے کر اندر جائیے۔ ان کو مرید کرائیے، مَیں یہاں آپ کی واپسی کا انتظار کروں گا۔‘‘

میرا یہ جواب سن کر میرے والد مسکرائے اور میرے بڑے بھائی کو ساتھ لے کر مکان کے اندر چلے گئے اور مَیں دروازے کے باہر بیٹھ گیا۔ بیٹھے بیٹھے مَیں نے اپنے دل میں ایک شعر موزوں کیا۔ اس خیال سے کہ اگر حضرت کامل ہیں تو اپنے نور باطن سے اس شعرکا حال معلوم کرلیں گے اور مجھے اس شعر کا جواب شعر کے ذریعے دیں گے۔ تب میں اندر جاکر حضرت کا مرید ہوجاؤں گا۔ اس کے بعد جو شعر مَیں نے اپنے دل میں موزوں کیا، وہ یہ تھا۔

(ترجمہ شعر) 

’’تو ایسا بادشاہ ہے کہ اگر تیرے محل کے کنگرے پر کبوتر آن بیٹھے تو تیری برکت سے وہ کبوتر باز بن جائے۔ پس ایک غریب حاجت مند تیرے دروازے پر آیا ہے وہ اندر آجائے یا الٹا چلا جائے۔‘‘

اس کے بعد مَیں حضرت کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک خادم آیا اور اس نے میرے سامنے یہ شعر پڑھا۔

(ترجمہ شعر)

’’اندر چلا آئے حقیقت کے میدان کا مرو، تاکہ ہمارے ساتھ کچھ دیر ہم راز بن جائے اور اگر وہ آنے والا ناسمجھ اور نادان ہے تو جس راستے سے آیا ہے، اسی راستے سے واپس چلا جائے۔‘‘

مَیں نے جب خادم کی زبان سے یہ شعر سنا تو اسی وقت دوڑا ہوا مکان کے اندر داخل ہوا اور اسی وقت حضرت کے قدموں پر اپنا سر رکھ دیا۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 69 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے