بو گیو کا بحران بر قرار، ٹرینیں انتظامیہ کیلئے درد سر، مسافر سراپا احتجاج، صورتحال سنگین 

    بو گیو کا بحران بر قرار، ٹرینیں انتظامیہ کیلئے درد سر، مسافر سراپا ...

  



  ملتان(واثق رؤف سے)سال2019ء میں موجودہ حکومت نے پہلے سے چلنے والی مسافرٹرینوں کی بوگیاں پوری کرنے کی بجائے انجن اوربوگیوں کی کمی کی وجہ سے9سال قبل بندہونے والی ٹرینوں کوبحال کرنے سمیت نئی ٹرینیں چلانے پرزوردئیے رکھاجس کی وجہ سے پہلے سے موجوداور نئی (بقیہ نمبر43صفحہ12پر)

ٹرینوں کے لئے بوگیاں کی دستیابی نے بحران کی صورت اختیارکرلی۔بوگیاں نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے چلنے والی اورنئی چلائی جانے والی ٹرینوں کاچلایاجاناریلوے انتظامیہ کے لئے دردسربنارہا،بوگیوں کی کمی کی وجہ سے مسافرسال بھرریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ بتایاجاتاہے کہ سال2018ء میں پاکسان ریلویزکے زیراہتمام اپ اورڈاؤن کی 110ٹرینیں چلتی تھی جن کی تعدادسال2019ء میں 140کے قریب ہوگئی ہے۔بحال کی جانے والی ٹرینوں میں کراچی ملتان کرچی کے درمیان صبح کے اوقات میں چلائی جانے والی شاہ رکن عالم کے اوقات کے مطابق ٹرین چلائی گئی ٹرین سندھ ایکسپریس،کراچی لاہورکراچی کے درمیان جناح ایکسپریس،پاک بزنس ایکسپریس،کراچی براستہ فیصل آبادراولپنڈی کراچی سرسیدایکسپریس،کراچی پشاورکراچی براستہ ملتان فیصل آبادرحمان باباایکسپریس،فیصل آبادلاہورفیصل آبادکے درمیان فیصل ایکسپریس،ملتان راولپنڈی ملتان کے لئے تھل میانوالی ایکسپریس،لاہورمیانوالی لاہوربراستہ ماڑی انڈس،شورکوٹ،کنڈیاں میانوالی کے لئے میانوالی ایکسپریس،ملتان فیصل آبادملتان کے لئے فیصل آبادایکسپریس چلائی گئیں اسی طرح لاہورناروال لاہورکے درمیان ناروال پسنجر،کوٹری روہری کوٹری براستہ دادومہنجوڈاڑوپسنجر،روہری خانپورروہری کے درمیان روہری پسنجر،سرگودھالالہ موسیٰ سرگودھاکے درمیان کرانا(karana)پسنجرچلائی گئی جبکہ لاہورواہگہ لاہورپسنجرسمیت دوپسنجرٹرینیں بھی شامل ہیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق ایک مسافرٹرین کاانجن 18سے20بوگیاں بیک وقت کھینچتاہے تاہم اس وقت پاکستان ریلوے کی چندایک ٹرینوں کے سواکوئی بھی ٹرین ایسی نہیں ہے جس کی 16سے زائدبوگیاں ہوں زیادہ ترٹرینیں 5سے7بوگیوں سے چل رہی ہیں موجودہ حکومت نے سال بھرمیں پہلے سے چلنے والی مسافرٹرینوں کی بوگیاں پوری کرنے کی بجائے نئی ٹرنیں چلانے پرزوردیئے رکھاجس کی وجہ سے ٹرینوں کی مرمت اوردیکھ بھال بری طرح متاثرہوگئی زیادہ ٹرینیں ہوجانے کی وجہ سے ریلوے کے پاس موجودمسافرٹرینوں کی تما م بوگیاں مسلسل ٹرین آپریشن میں استعمال ہونے لگی اوران کوضروری مرمت اوردیکھ بھال کاوقت ملنامشکل ہوگیا صورت حال سال بھراسقدرخراب رہی کہ جوبھی ٹرین اپنے ابتدائی اسٹیشن سے روانہ ہوتی چندکلومیٹرفاصلہ طے کرتے ہی اس کی بوگی خراب ہوجاتی جس پرمتبادل بوگی بھی دستیاب نہ ہوتی اورخراب بوگی وہ مسافرجنھوں نے مہینہ پہلے سفرکے لئے ریزرویشن کروائی ہوتی انہیں ٹکٹ ریفنڈکردئیے جاتے۔سال کے اختتام پرمسافروں ٖا ورریلوے کے آپریشنل سٹاف نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیرریلوے سے مطالبہ کیاہے کہ آنے والے سال میں مزیدٹرینیں چلانے کی پالیسی کوموخرکرکے پہلے سے چلنے والی ٹرینوں کی بوگیاں ان کی مرمت ودیکھ بھال کے ضروری سامان  اورآپریشنل سٹاف کی کمی کوپوراکیاجائے۔تاکہ ریلوے کاسفرعذاب کی بجائے سہولت ثابت ہوسکے۔

ٹرینیں بحران

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...