سعودی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

سعودی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

  



سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود جنہیں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دو ماہ پیشتر ہی ایک شاہی فرمان کے ذریعے اس منصب پر فائز کیا ہے،ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اعلیٰ حکام سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ ئ خیال کر کے واپس روانہ ہو گئے۔شہزادہ فیصل سعودی شاہی خاندان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہیں،جو اِس سے پہلے کئی اہم سفارتی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔وہ جرمنی میں پیدا ہوئے، اور امریکہ میں تعلیم حاصل کی۔اُنہیں جرمن اور انگریزی، دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہے۔یہ ان کا پہلا دورہئ پاکستان تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس بلانے کا عندیہ دیا گیا۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے معزز مہمان کو کشمیر کی صورتِ حال، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے متعصبانہ سلوک،خطے کے حالات،پاکستان کے دفاعی، معاشی امور اور پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ ان کے ساتھ بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان قائم مثالی تعلقات کو مزید بار آور اور نتیجہ خیز بنانے پر غور کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو برادرانہ اور تزویراتی قرار دیتے ہوئے اعتماد سازی کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت سے اتفاق کیا۔

بتایا گیا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کا دورہ کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی عدم شرکت کے تناظر میں بھی خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرا اشتراک برسوں سے جاری ہے،دونوں ممالک نے ہر آڑے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ نظریاتی بندھن میں بندھے ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی اور معاشی میدان میں بھی وسیع تر تعاون کا عمل جاری رکھا، اور اب تک جاری ہے۔کوالالمپور کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہوا تھا، بروقت اقدام کی وجہ سے اسے پاٹ دیا گیا ہے۔یہ درست ہے کہ مذکورہ سمٹ(کسی حد تک) وزیراعظم عمران خان کی تحریک ہی کی بدولت منعقد ہو رہی تھی، ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر جو اِس وقت عالم اسلام کے سینئر ترین حکمران ہیں،اور اپنے کردار اور عمل کے حوالے سے انتہائی ممتاز حیثیت کے مالک ہیں،اور ترکی کے صدر طیب اردگان جو اپنے نظریات اور اقدامات کی وجہ سے عالمی اسلام میں انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں،بھی اس کے انعقاد میں پُرجوش تھے،لیکن پاکستان اپنے ہی تجویز کردہ راستے پر گامزن نہیں رہ سکا۔وزیراعظم ہاؤس کو وزارتِ خارجہ کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اس کانفرنس کے حوالے سے تحفظات رکھتا ہے،اس لیے اسے اعتماد میں لیے بغیر کوئی سرگرمی نہ دکھائی جائے۔لیکن اسے توجہ کے قابل نہیں سمجھا گیا،اور شاید یہ سوچ کر کہ وزیراعظم اپنے مخاطب کو قائل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں،اس لیے سعودی قیادت کی رائے بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے، پیش رفت جای رکھی گئی۔ پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ریاض پہنچے لیکن خالی ہاتھ لوٹے، پھر وزیراعظم نے یہ بیڑا اٹھایا لیکن نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پاکستان نے راستہ بدل لیا۔ترکی کے صدر طیب اردگان کو جنیوا میں یہ اطلاع دے دی گئی۔ سعودی عرب سے حاصل پاکستانی مفادات کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ بھی اس وقت ظاہر کر دیا گیا ہو گا،جس پر جناب طیب اردگان نے اپنے بیان میں پاکستان پر سعودی دباؤ کی بات کر دی، جس کی اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے تردید جاری کی گئی، لیکن نقصان تو پہنچ چکا تھا۔

ملکوں اور قوموں کے درمیان برادرانہ تعلقات ایک دن میں قائم ہوتے، نہ ایک دن میں توڑے جا سکتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے آزمودہ دوست ہیں۔پاکستان نے ملائشیا سمٹ میں نہ جا کر جس سبکی کا سامنا کیا،سعودی عرب میں بہرحال اس کی پذیرائی ہوئی، اسے بنظرِ استحسان دیکھا گیا، اور دونوں ممالک میں باہمی تعلق کا ایک نیا اعتماد اور احساس پیدا ہوا۔ سعودی وزیر خارجہ کا دورہ اس حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا تھا، اور اس بات کا اعلان تھا کہ سعودی عرب کو اپنے پرانے دوست کی دل جوئی مقصود ہے۔ توقع رکھنی چاہیے کہ یہ نیا موڑ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے راستے مزید کشادہ کرے گا۔سعودی وزیر خارجہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرگرمی دکھانے کا وعدہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ سعودی سرمایہ کاری کا خواب بھی جلد شرمندہئ تعبیر ہو گا، اور پرانے وعدے جلد از جلد عمل کا جامہ پہن سکیں گے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کو معاشی طور پر ایک بڑی طاقت نہیں بنایا جا سکا۔ وہ ایٹمی طاقت تو بن گیا،لیکن اپنی آمد اور خرچ میں توازن نہیں لا سکا۔ صنعتی میدان میں آگے نہیں بڑھ سکا،برآمدات بڑھا سکا نہ درآمدات کو قابو کر سکا، نتیجتاً آج قرضوں کا بوجھ سر پر ہے۔ خرچ آمدن سے زیادہ ہے،اور نیندیں اڑا رہا ہے۔حالات کو یہاں تک پہنچانے میں ہمارے وہ اہل ِ سیاست بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں،جنہوں نے نیشلائزیشن کی پالیسی اپنائی اور پاکستانی صنعتوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو منگولوں نے بغداد کے ساتھ روا رکھا تھا۔ بہرحال ماضی کا ماتم کرتے چلے جانے کے بجائے پاکستان کو اپنی معاشی مشکلات پر بہرصورت قابو پانا ہو گا، آمدنی کے ذائع کشادہ کرنا ہوں گے، اگر ایسا نہیں ہو سکے گا تو کوئی ہمارا پُرسانِ حال نہیں ہو گا۔ہم تنکے کی طرح اِدھر سے اُدھر اڑتے پھریں گے۔پاکستانی حکمرانوں، سیاست دانوں اور پاسبانوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے منصوبہ سازی کرنا ہو گی۔سعودی عرب اور دوسرے دوست ممالک کی معاونت اس مقصد کے لیے حاصل کی جائے گی تو ہمارا کل آج سے بہتر ہو گا۔مانگے تانگے کی کرنسی خواہ امریکی ہو، چینی ہو یا سعودی، ہمارے مسائل کا مستقل حل نہیں ہے۔وقتی مشکلات پر قابو پانے کے لیے دوستوں کے تعاون کی بڑی اہمیت ہے،ان کے ساتھ تعلقات کی حفاظت لازم ہے، اہل ِ وطن کے لیے یہ بات باعث ِ مسرت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی حفاظت کا جذبہ فزوں تر ہے،اور سعودی قیادت بھی دور رس تعاون کی اہمیت کا ادراک رکھتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...