محترم کپتان: آس نہ توڑیں!

محترم کپتان: آس نہ توڑیں!
محترم کپتان: آس نہ توڑیں!

  



ہم خود بھی رجائیت پسند ہیں، امن، اطمینان اور رواداری کے خواہش مند ہیں، ہم نے ہمیشہ جوش پر ہوش کے غلبے کی بات کی اور ملک کے اندر قومی اتفاق رائے پر زور دیا کہ اسی سے استحکام آتا ہے اور ملک کے اندر مستحکم حالات بیرونی خطرات سے نمٹنے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں،لیکن دُکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم پر مایوسی غالب آنے لگی ہے، اور خدشات نے گھیر کر شدید اضطراب کی صورت اختیار کر لی ہے، ہماری خواہش ہے کہ ہم اور ہمارا ملک انارکی سے بچے،یہاں شہری سُکھ اور چین سے رہ سکیں،لیکن اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ سب ممکن نہیں،یہاں ”اندرونی جنگ“ ہو کر رہے گی اور پھر مسلسل بدامنی اور بے چینی جاری رہے گی۔ہمارا مایوسی کی طرف دیکھنا غیر منطقی نہیں،کیونکہ یہاں حالات تبدیل نہیں ہو رہے، جب ہمارے وزیراعظم نے یہ ٹھان ہی لی ہے کہ وہ اپنے مخالفوں، تنقید نگاروں کو آزاد نہیں رہنے دیں گے اور سب کو جیل میں ڈالیں گے تو پھر جن کے لئے یہ سب کیا گیا ہے وہ کیوں مفاہمت کی بات کریں گے؟وہ بھی تو اپنے جذبات رکھتے ہیں، وزیراعظم نے اپنے تازہ ترین خطاب میں فرمایا ہے کہ 2020ء کا سال بقول ان کے، کرپٹ لوگوں کے لئے بہت بٍُرا ہو گا اور معیشت مستحکم ہو گی۔

اگلے سال لوگوں کو نوکریاں بھی دیں گے،وزیراعظم جب خوشی کی یہ خبر دے رہے تھے تو اسی روز پاکستان ٹورزم کارپوریشن کے حوالے سے خبر شائع ہوئی کہ حکومت نے چار سو ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ان سب مستقل ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک(تین ماہ کی تنخواہ +واجبات) کے ذریعے فارغ کیا جائے گا۔پی ٹی آر سی کی یونین کے مطابق فی الحال این آئی آر سی سے حکم امتناعی حاصل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کی بھی رپورٹ یہی ہے کہ اب تک لاکھوں ملازم فارغ اور کساد بازاری کی وجہ سے بھی کثیر لوگ بے روزگار ہو چکے، جبکہ مہنگائی نے زندگی دوبھر کر رکھی ہے، سرکار آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کے لئے بجلی اور گیس بھی مہنگی کرتی چلی جا رہی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر ہر ماہ فی یونٹ اضافہ کیا جاتا ہے۔

ہماری رجائیت پسندی غم اور تشویش میں تبدیلی ہونے کی وجہ سادی ہے کہ ہم اب ملک کے اندر حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان قومی امور پر مفاہمت اور تعلقات کار کی بہتری کی آس سے مایوس ہو گئے ہیں،اس کی وجہ حالات سے سمجھ آ جاتی ہے، سپریم کورٹ کے ایک سہ رکنی فل بنچ نے محترم سپہ سالار کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ دیا۔اس کے مطابق پارلیمینٹ کو شرائط ملازمت کے حوالے سے قانون سازی کرنا تھی، کوئی بھی جماعت سپہ سالار کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف نہیں، اور سب اپنا اپنا اظہار کر چکی تھیں اور منتظر تھیں کہ حزبِ اقتدار کوئی مسودہ تیار کر کے ان سے بات کرے تو ایوان (پارلیمینٹ) میں توسیع کے حوالے سے شفاف قانون سازی کر لی جائے تاکہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے، لیکن حکمرانوں نے اسے بالکل درخواعتنا نہیں جانا اور کسی بھی جماعت کا احسان لینے کی بجائے پھر سے آئین اور قانون کا سہارا لیتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے اور صدر، وزیراعظم، وزارتِ دفاع اور خود جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے نظرثانی کی درخواست دائر بھی کر دی اور اب یہ بال پھر سے عدالت عظمیٰ کی کورٹ میں چلی گئی ہے،درخواست میں مشروط توسیع کے حتمی فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے نظرثانی کی اپیل کی اور یہ خصوصی استدعا بھی کی گئی ہے کہ اس کی سماعت بند کرنے کے علاوہ فل کورٹ بنا کر کی جائے۔

اس حوالے سے ہمارے آئینی اور قانونی ماہرین اپنے اپنے طور پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں اور اکثریت کی رائے یہی ہے کہ فل بنچ(کورٹ) شاید ممکن نہ ہو، اس کی مثال اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو کیس سے بھی لائی جا رہی ہے، لیکن یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل بھی فل بنچ نے سنی اور3+4 سے سزائے موت دی گئی تھی، جبکہ ان کی نظرثانی اسی فل بنچ کے سامنے پیش ہوئی اور متفقہ طور پر قرار دیا گیا تھا کہ نظرثانی میں نئے نکات زیر غور نہیں لائے جا سکتے۔اگر کوئی بہت بڑا نقص (ERROR) سامنے ہو تو شاید فیصلہ مختلف ہو، یہاں ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔قانونی حلقوں کے مطابق یوں بھی حکومت نے انتظار کیا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ریٹائر ہو جائیں، چنانچہ جونہی یہ مروجہ تبدیلی واقع ہوئی حکومت نے نظرثانی دائر کر دی۔یہ درست کہ ہر انسان کے اپنے اپنے خیالات ہوتے ہیں اور ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے، لیکن عدلیہ کا معاملہ ذرا مختلف ہے کہ جج صاحبان کو اپنا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتی فیصلوں ہی کی مثال اور رو سے دینا ہوتا ہے۔

بہرحال دیکھیں کیا ہوتا ہے،تاہم جو بات واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ ”احسان ناخدا کا لے میری بلا“ اپوزیشن سے تعاون نہیں لینا اور محاذ آرائی ہی جاری رکھنا ہے اور اب تو جہلم والی تقریر نے اور بھی واضح کر دیا کہ کپتان اپنے مزاج کے مطابق ہی چلیں گے اور اگر انہوں نے اپنے اس دور میں اپوزیشن والوں سے ہاتھ ملانا تک گوارا نہیں کیا تو اب کیوں کریں گے، ویسے بھی اب انہوں نے اپنی قانونی ٹیم کی خامیوں کو نظر انداز کر دیا اور آرمی چیف(افسوس) کو بھی پارٹی بنا لیا اور جب وہ اس مسئلے کے ساتھ بھارت کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے اور کہتے ہیں،اپوزیشن والوں کا ٹھکانہ جیل ہو گا تو کیا وہ محترم سپہ سالار کو بھی ساتھ نہیں ملا لیتے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ پاک فوج کسی کی ذات کے لئے نہیں ملک کے لئے ہے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات اور اہلیت کا اعتراف قومی سطح پر ہوتا ہے ہم نے ان سطور میں ایک سے زیادہ بار گذارش کی کہ کرپشن کے خلاف پوری قوم متحد ہے، کسی کو اختلاف نہیں، لیکن آپ اداروں کو کام کرنے دیں اور اگر آپ فرماتے ہیں کہ اداروں کا ٹکراؤ نہیں ہونے دیں گے تو عمل بھی کریں،ضمانتیں ہوتے ہی آپ کی پوری ٹیم عدلیہ پر پل پڑی ہے۔ براہِ کرم ہم کو رجائیت پر ہی مائل رہنے دیں مایوس نہ کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...